Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پاکستان کی معیشت پر طاقتور مفادات کا قبضہ، ترقی اور خوشحالی کے امکانات محدود

پاکستان کی معیشت پر طاقتور مفادات کا قبضہ، ترقی اور خوشحالی کے امکانات محدود

پاکستان کا معاشی مستقبل مسلسل مشکلات کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے ملک میں ایسے معاشی نظام اور پالیسیوں کو فروغ دیا جا رہا ہے جو نہ تو طویل المدتی ترقی کی ضمانت دیتے ہیں اور نہ ہی عام شہریوں کے معیار زندگی میں بہتری لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ سرمایہ کاری، صنعت، تجارت، تعلیم اور انسانی صلاحیتوں کو فروغ دیا جائے، لیکن پاکستان میں وسائل کی تقسیم اور معاشی فیصلوں کا طریقہ اس کے برعکس نظر آتا ہے
پاکستان کے معاشی ڈھانچے میں 3 مختلف نظام ایک ہی محدود وسائل پر اثر و رسوخ کے لیے مقابلہ کر رہے ہیں پہلا باقاعدہ سرکاری اور نجی معاشی شعبہ ہے، جس میں سرکاری اداروں کا بڑا حصہ کم پیداواری صلاحیت اور وسائل کے غیر مؤثر استعمال کا شکار ہے دوسرا طاقتور ریاستی حلقوں پر مشتمل وہ نظام ہے جسے عموماً ڈیپ اسٹیٹ کہا جاتا ہے اور جو سرکاری و غیر سرکاری ذرائع سے اپنے معاشی مفادات آگے بڑھاتا ہے تیسرا غیر رسمی معیشت کا شعبہ ہے، جس کا حجم باقاعدہ معیشت کے مقابلے میں تقریباً 35 سے 40 فیصد بتایا جاتا ہے اس شعبے میں کاروبار کرنے والے افراد اور ادارے سرکاری قواعد و ضوابط اور ٹیکس نظام سے حتی الامکان دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں
اس معاشی ڈھانچے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ملک میں ایسے نئے کاروباری افراد اور صنعت کار سامنے نہیں آ پاتے جو پرانے کاروباری طریقوں کو بدل کر جدید صنعتیں قائم کریں، پیداوار بڑھائیں اور عالمی منڈی میں مقابلہ کر سکیں اس کے بجائے پاکستان کی کئی صنعتیں حکومتی مراعات، سبسڈی اور درآمدی محصولات کے تحفظ پر انحصار کرتی ہیں چینی کی صنعت اس کی ایک نمایاں مثال ہے، جہاں طاقتور کاروباری حلقے حکومتی سہولتوں اور تحفظ کے ذریعے اپنا کاروبار چلاتے ہیں، جبکہ اس کی قیمت بالآخر عوام اور ٹیکس دہندگان کو ادا کرنا پڑتی ہے
معاشی انتظام کا ایک اور بڑا مسئلہ یہ ہے کہ حکومت کی توجہ زیادہ تر حساب کتاب درست رکھنے اور بجٹ کے اعداد و شمار کو قابو میں رکھنے تک محدود ہو گئی ہے ملک میں ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، صحت اور انسانی وسائل پر حقیقی توجہ دینے کے بجائے مالیاتی اہداف پورے کرنے کو کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ پنشن اصلاحات جیسے معاملات کے لیے بھی بیرونی قرضوں کا سہارا لینا پڑتا ہے اس طرز حکمرانی کے نتیجے میں ملک کی بنیادی معاشی اور سماجی مشکلات برقرار رہتی ہیں
پاکستان کی خارجہ تجارت بھی اس کی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے اپنے 3 ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے، جس سے پاکستان کے لیے علاقائی منڈیوں تک رسائی اور کاروباری مواقع محدود ہو گئے ہیں۔ دنیا کی پانچویں بڑی آبادی رکھنے کے باوجود پاکستان عالمی سطح پر تقریباً 35 کھرب ڈالر کی اشیا اور خدمات کی تجارت میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ رکھتا ہے یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ملک اپنی جغرافیائی حیثیت اور بڑی آبادی کو معاشی طاقت میں تبدیل کرنے میں ناکام رہا ہے
پاکستان کے مستقبل کے لیے سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو انسانی سرمایہ کا مسلسل ضیاع ہے کسی بھی ملک کی اصل طاقت اس کے تعلیم یافتہ، ہنرمند اور باصلاحیت شہری ہوتے ہیں جدید معاشی نظریات بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انسانی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری ہی طویل المدتی ترقی کی بنیاد بنتی ہے لیکن پاکستان میں معیاری تعلیم، تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور ہنرمندی کو وہ اہمیت نہیں دی گئی جس کی ضرورت تھی
اس سے بھی بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ملک کے قابل اور تعلیم یافتہ نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرون ملک جا رہے ہیں حکومتی سطح پر ان کی بیرون ملک روانگی کو ترسیلات زر میں اضافے کے تناظر میں کامیابی قرار دیا جاتا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں پاکستان اپنی بہترین انسانی صلاحیتوں سے محروم ہو رہا ہے بیرون ملک جانے والے ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، کاروباری افراد اور دیگر ہنرمند اپنے علم اور محنت سے دوسرے ممالک کی معیشتوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں اگر یہی لوگ پاکستان میں رہ کر کاروبار، صنعت اور تحقیق میں سرمایہ کاری کرتے تو ملک میں روزگار اور دولت پیدا کرنے کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے تھے
یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم نوجوانوں کی بڑی تعداد بھی اپنی تعلیم کو پاکستان میں مستقبل بنانے کے بجائے بیرون ملک آباد ہونے کا ذریعہ سمجھتی ہے یہ رجحان اس بات کا ثبوت ہے کہ نوجوانوں کا اپنے ملک کے مستقبل پر اعتماد کمزور ہو رہا ہے 1970 کی دہائی سے جاری ہنرمند افراد کی بیرون ملک روانگی حالیہ دہائیوں میں مزید تیز ہوئی ہے
ملک کے اندر کام کرنے والے تنخواہ دار طبقے کی صورتحال بھی انتہائی مشکل ہے گزشتہ 5 برس کے دوران تنخواہ دار افراد کی آمدنی سے 2 کھرب روپے سے زیادہ ٹیکس وصول کیا گیا، جبکہ تاریخی مہنگائی نے عام شہریوں کی قوت خرید کو بری طرح متاثر کیا۔ پاکستان میں افرادی قوت کی شمولیت کی شرح پہلے ہی کم ہے، لیکن اس کے باوجود تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے اس صورتحال سے ملازمین میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ ان کی محنت کا بڑا فائدہ حکومت کے خزانے کو پہنچ رہا ہے، جبکہ ان کی اپنی آمدنی اور معیار زندگی بہتر نہیں ہو رہا
جب حکومت کی جانب سے معاشی ترقی کا بنیادی ذریعہ سرکاری ترقیاتی منصوبوں کو بنایا جائے تو اس کے نتیجے میں بدعنوانی، وسائل کے ضیاع اور مستقبل کی بھاری مالی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوتا ہے پاکستان میں ترقیاتی پروگراموں کے تحت سڑکوں، پلوں اور عمارتوں کی تعمیر کو اکثر ترقی کا پیمانہ سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ اصل ترقی کا تعلق عوام کی زندگی، صحت، تعلیم اور ماحول کے معیار میں بہتری سے ہے
لاہور اس کی نمایاں مثال ہے ملک کے بڑے معاشی مراکز میں شامل ہونے اور فی کس آمدنی کے لحاظ سے اہم مقام رکھنے کے باوجود لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں بار بار نمایاں ہوتا ہے بڑے تعمیراتی منصوبوں کے باوجود شہریوں کو صاف ہوا، بہتر ماحول اور معیاری زندگی میسر نہیں۔ فضائی آلودگی کے باعث صحت کے مسائل اور علاج معالجے کے اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے ترقیاتی منصوبوں کے فوائد بھی متاثر ہو جاتے ہیں
سیاسی نظام میں بھی معاشی اصلاحات کی راہ میں رکاوٹیں موجود ہیں قانون ساز اداروں میں کئی دہائیوں سے ایک ہی سیاسی طبقہ اثر و رسوخ رکھتا ہے، لیکن ملک کو درپیش بنیادی معاشی مسائل حل کرنے کے لیے مؤثر اور مستقل اصلاحات سامنے نہیں آ سکیں سیاسی خاندانوں کی اگلی نسلیں بھی قومی اسمبلی اور سینیٹ سمیت اہم سیاسی اداروں میں جگہ حاصل کر رہی ہیں، جس سے سیاسی اور معاشی طاقت چند مخصوص حلقوں تک محدود رہنے کا خدشہ بڑھتا ہے
پاکستان کے معاشی مستقبل کے بارے میں اصل سوال یہ نہیں کہ حکومت اگلا بجٹ کیسے بنائے گی یا قرضوں کی اگلی قسط کہاں سے حاصل کرے گی، بلکہ یہ ہے کہ ملک کا معاشی نظام کس کے مفادات کے لیے کام کر رہا ہے جب تک صنعت، تجارت، تعلیم اور انسانی صلاحیتوں کو حقیقی ترجیح نہیں دی جاتی، طاقتور مفادات کو حاصل سرکاری مراعات کا خاتمہ نہیں ہوتا اور عام شہری کی محنت کا مناسب صلہ نہیں ملتا، اس وقت تک پائیدار ترقی کے امکانات محدود رہیں گے

قومی خبریں سے مزید