سوات میں خاتون سے اجتماعی زیادتی کا الزام، 2 پولیس کانسٹیبل گرفتار
خیبر پختونخوا کے سیاحتی ضلع سوات میں ایک خاتون کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کے الزام میں پولیس نے اپنے ہی محکمے کے 2 کانسٹیبلوں کو گرفتار کر لیا ہے متاثرہ خاتون کا تعلق پشاور سے بتایا گیا ہے، جو اپنے شوہر کے ہمراہ سوات گئی تھیں پولیس کے مطابق دونوں ملزمان نے مبینہ طور پر خاتون اور ان کے شوہر کو ایک ہوٹل کے کمرے میں لے جا کر خاتون کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا اور واقعے کو ظاہر کرنے کی صورت میں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیں
پولیس کے مطابق خاتون نے بدھ کی شب رحیم آباد تھانے میں شکایت درج کرائی، جس میں 2 نامعلوم موٹر سائیکل سوار افراد پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا گیا شکایت کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عمر خان نے ملزمان کی گرفتاری کے احکامات جاری کیے
ایس ایچ او زاہداللہ خان کی سربراہی میں پولیس ٹیم نے علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے مشتبہ افراد کا سراغ لگایا اور دونوں کو گرفتار کر لیا گرفتار ملزمان کی شناخت وحید محمود، رہائشی الاڈنڈ بٹ خیلہ، اور محمد غزنفر، رہائشی چمکنی پشاور کے نام سے ہوئی ہے پولیس نے تصدیق کی ہے کہ دونوں ملزمان محکمہ پولیس میں کانسٹیبل کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے
ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر خاتون اور ان کے شوہر کو ہوٹل کے ایک کمرے میں لے گئے، جہاں خاتون کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے خاتون کو دھمکی دی تھی کہ اگر انہوں نے کسی کو واقعے کے بارے میں بتایا تو انہیں قتل کر دیا جائے گا
سوات کے ڈی پی او عمر خان نے تصدیق کی ہے کہ دونوں گرفتار افراد پولیس کانسٹیبل ہیں، تاہم ان کے بقول مبینہ جرم اس وقت کیا گیا جب وہ ڈیوٹی پر نہیں تھے ان کے مطابق دونوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور محکمانہ انکوائری بھی شروع کر دی گئی ہے اگر الزامات ثابت ہوئے تو ان کے خلاف سخت قانونی اور محکمانہ کارروائی کی جائے گی
اس واقعے نے پولیس کے احتساب اور سیاحوں، خصوصاً خواتین کے تحفظ سے متعلق سوالات کو دوبارہ نمایاں کر دیا ہے سوات پاکستان کے اہم سیاحتی علاقوں میں شمار ہوتا ہے جہاں ملک کے مختلف شہروں سے خاندان اور سیاح تفریح کے لیے آتے ہیں ایسے علاقے میں قانون نافذ کرنے والے ادارے سے وابستہ افراد پر سنگین جرم کا الزام نہ صرف متاثرہ خاندان کے تحفظ بلکہ پولیس پر عوامی اعتماد کے حوالے سے بھی تشویش پیدا کرتا ہے
تاہم یہ بات اہم ہے کہ فی الحال معاملہ ابتدائی تفتیش کے مرحلے میں ہے اور گرفتار اہلکاروں کے خلاف الزامات عدالت میں ثابت ہونا باقی ہیں شفاف تحقیقات، متاثرہ خاتون کا تحفظ اور قانونی کارروائی اس مقدمے کے اہم تقاضے ہیں






