مغربی بنگال میں عیسائی برادری پر حملوں کا الزام، 5 ماہ میں 48 واقعات ریکارڈ
بھارت کی مشرقی ریاست مغربی بنگال میں عیسائی برادری نے گرجا گھروں کی توڑ پھوڑ، مذہبی اجتماعات میں مداخلت اور پادریوں پر تشدد کے واقعات میں اضافے پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ان کے مذہبی عقائد اور عبادت کی آزادی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے عیسائی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے مئی میں ریاستی انتخابات جیتنے اور حکومت بنانے کے بعد سے ایسے واقعات میں اضافہ ہوا ہے
جمعرات کو ریاستی دارالحکومت کولکتہ میں سیکڑوں عیسائیوں نے احتجاجی مارچ کیا مظاہرین نے مذہبی آزادی کے تحفظ، حملوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا مارچ کا اہتمام کرنے والی تنظیم بنگیا کرسٹیا پریسیبا کے رہنما ہیروڈ ملک نے الزام لگایا کہ گزشتہ 5 ماہ کے دوران عیسائیوں کے خلاف منظم انداز میں حملے کیے گئے اور ان واقعات کو مذہب تبدیل کرانے کے الزامات کا جواز بنا کر پیش کیا جا رہا ہے
تنظیم کے مطابق اس عرصے میں عبادت کے اجتماعات، دعائیہ مراکز اور گرجا گھروں کو نشانہ بنانے، توڑ پھوڑ اور تشدد کے 48 واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں تاہم ان اعدادوشمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی دوسری جانب بھارت میں مذہبی منافرت کے واقعات پر نظر رکھنے والے تحقیقی ادارے انڈیا ہیٹ لیب نے ستمبر کی اپنی رپورٹ میں مغربی بنگال میں عیسائیوں کے خلاف 60 واقعات درج کیے تھے ان میں عبادت گاہوں پر دھاوے، دعائیہ اجتماعات میں مداخلت، تشدد اور املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات شامل تھے
حالیہ مہینوں میں کئی واقعات نے عیسائی برادری کے خدشات میں اضافہ کیا ہے۔ 9 اکتوبر کو ریاست کے ضلع نادیہ میں بائبل کانفرنس کے دوران تقریباً 200 افراد کے ہجوم نے ایک گرجا گھر میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ کی، جس کے نتیجے میں کم از کم 6 افراد زخمی ہوئے عیسائی تنظیموں نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی اجتماعات کو تشدد اور خوف کے ذریعے روکنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں نومبر کے آغاز میں بھی جنوبی 24 پرگناس اور بردوان کے علاقوں میں گرجا گھر اور دعائیہ اجتماعات پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں
عیسائی برادری کے خلاف بنیادی الزام یہ لگایا جاتا ہے کہ بعض مذہبی گروہ ہندوؤں کو لالچ، دباؤ یا زبردستی کے ذریعے عیسائیت اختیار کرنے پر آمادہ کرتے ہیں عیسائی رہنما ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مذہب کی تبدیلی کے نام پر عام عبادت گزاروں اور گھروں میں ہونے والی دعائیہ نشستوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ان کے مطابق چھوٹے گرجا گھر اور گھروں میں ہونے والے مذہبی اجتماعات خاص طور پر خطرے سے دوچار ہیں
مغربی بنگال کی آبادی تقریباً 10 کروڑ ہے اور آخری قومی مردم شماری کے مطابق عیسائی آبادی ایک فیصد سے بھی کم ہے اس کے باوجود عیسائی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایک چھوٹی مذہبی اقلیت کو اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کرنے اور مذہبی اجتماعات منعقد کرنے کے بنیادی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا
بی جے پی نے عیسائی برادری کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کیا ہے ریاستی حکومت کے ایک وزیر نے کہا ہے کہ عبادت کی آزادی کا تحفظ ضروری ہے، تاہم زبردستی مذہب تبدیل کرانے سے متعلق شکایات کی تحقیقات بھی کی جائیں گی دوسری طرف عیسائی تنظیمیں حکومت سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ صرف مذہب کی تبدیلی کے الزامات کی بنیاد پر کسی کو تشدد یا ہراسانی کا نشانہ بنانے کی اجازت نہ دی جائے اور تمام شکایات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں
یہ معاملہ بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے تحفظ اور آئین میں دی گئی مذہبی آزادی کے حق سے متعلق وسیع تر بحث کا حصہ بن چکا ہے عیسائی رہنماؤں نے ہندو قوم پرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ سے ملاقات کی کوشش بھی کی ہے تاکہ اپنے تحفظات براہ راست ان کے سامنے رکھ سکیں ان کا کہنا ہے کہ ریاست میں مذہبی ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ عبادت گاہوں پر حملوں اور مذہبی بنیادوں پر تشدد کے واقعات کو سنجیدگی سے لیا جائے






