Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

برطانوی شخص نے 20 سال تک بیوی کو بے ہوش کرکے زیادتی کی، فون سے 10 لاکھ سے زائد تصاویر اور ویڈیوز برآمد

برطانیہ میں ایک انتہائی سنگین جنسی تشدد کے مقدمے کی سماعت کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ ایک شخص نے 20 سال سے زائد عرصے تک اپنی بیوی کو نشہ آور ادویات دے کر بے ہوش کیا اور اس کے ساتھ جنسی زیادتی کرتا رہا استغاثہ کے مطابق ملزم کے موبائل فون سے 10 لاکھ سے زیادہ تصاویر اور ویڈیوز برآمد ہوئی ہیں، جن میں مبینہ طور پر بیوی کے ساتھ ہونے والے جنسی تشدد اور دوسرے مردوں کی جانب سے اس کے استحصال کے واقعات محفوظ کیے گئے تھے
یہ مقدمہ شمال مغربی انگلینڈ کے شہر مانچسٹر میں زیر سماعت ہے، جہاں 9 مردوں پر خاتون کے ساتھ مختلف جنسی جرائم کے الزامات ہیں۔ متاثرہ خاتون کے شوہر نے اپنے جرائم کا اعتراف کرلیا ہے، تاہم دیگر ملزمان نے الزامات مسترد کرتے ہوئے مقدمے میں خود کو بے گناہ قرار دیا ہے
استغاثہ کی وکیل لوئس اوکلی نے عدالت کو بتایا کہ پولیس نے اکتوبر 2025 میں شوہر کی گرفتاری کے بعد اس کا موبائل فون قبضے میں لیا تو اس میں دہائیوں پر مشتمل مواد موجود تھا۔ فون میں ہزاروں ای میلز، پیغامات اور آن لائن گفتگو بھی ملی، جن سے مبینہ جرائم کی تفصیلات سامنے آئیں وکیل کے مطابق یہ فون ملزم کے جرائم کا ایک طرح کا اعترافی ریکارڈ تھا، جس میں اس کے خفیہ اور انتہائی سنگین جنسی عزائم محفوظ تھے
عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم نے ابتدا میں اپنی بیوی کو شراب کے ذریعے گہری نیند میں جانے کے بعد نشانہ بنایا، لیکن بعد میں اسے اس کی لاعلمی میں مختلف نشہ آور ادویات اور ممنوعہ مواد فراہم کرکے بے ہوش کرنے لگا استغاثہ کے مطابق ملزم نے 2004 سے 2025 تک مختلف مواقع پر اپنی بیوی کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کی تصاویر و ویڈیوز انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر دوسرے مردوں کے ساتھ شیئر کیں
مزید سنگین انکشاف یہ ہوا کہ کم از کم 2023 سے ملزم نے دوسرے مردوں کو اپنے گھر بلانا شروع کردیا، جہاں اس کی بیوی بے ہوش حالت میں ہوتی تھی استغاثہ کا الزام ہے کہ ان افراد نے خاتون کی رضامندی کے بغیر اس کے ساتھ زیادتی کی اور شوہر ان واقعات کی ویڈیوز بھی بناتا رہا بعض افراد مبینہ طور پر آن لائن بیٹھ کر اس کے جرائم کی حوصلہ افزائی کرتے اور اسے بیوی کو بے ہوش کرنے کے طریقے بتاتے تھے
متاثرہ خاتون کو اپنے شوہر کے ان جرائم کا علم نہیں تھا۔ استغاثہ کے مطابق خاتون نے پولیس کو بتایا کہ اس کی شادی معمول کے مطابق چل رہی تھی اور اسے کبھی یہ اندازہ نہیں ہوا کہ اس کے ساتھ ایسا سنگین استحصال کیا جارہا ہے پولیس نے جب اکتوبر 2025 میں اس کے شوہر کو گرفتار کیا اور خاتون کو حقیقت سے آگاہ کیا تو اس کی زندگی یکسر بدل گئی
شوہر نے ستمبر میں اپنی بیوی کے خلاف 62 جنسی جرائم کا اعتراف کیا تھا، جن میں زیادتی، جنسی حملہ، جسمانی استحصال اور اسے بے ہوش کرنے کے لیے نشہ آور مادے دینے جیسے جرائم شامل ہیں وہ اس وقت زیر حراست ہے اور اس کی سزا کا اعلان بعد میں کیا جائے گا
مقدمے میں 9 دیگر مردوں پر بھی مختلف جنسی جرائم کے الزامات ہیں ان کی عمریں 28 سے 70 سال کے درمیان ہیں۔ ان میں ٹیکسی ڈرائیور، بھرتی کے ادارے کا ملازم، تعمیراتی سامان کے کاروبار سے وابستہ افراد اور ایک سینئر طبی امدادی کارکن شامل ہیں استغاثہ کے مطابق بعض ملزمان خاتون کے ساتھ گھر میں مبینہ زیادتی میں شریک ہوئے جبکہ بعض آن لائن تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے اس استحصال میں ملوث تھے۔ تمام 9 ملزمان نے الزامات سے انکار کیا ہے اور مقدمے کی سماعت جاری ہے
یہ مقدمہ فرانس کی جیزیل پیلیکوٹ کیس کی یاد تازہ کرتا ہے، جس میں ایک شوہر نے اپنی بیوی کو نشہ آور ادویات دے کر بے ہوش کیا اور متعدد مردوں کو اس کے ساتھ زیادتی کے لیے بلایا تھا۔ اس کیس نے دنیا بھر میں خواتین کی رضامندی، ازدواجی تعلقات میں جنسی تشدد اور نشہ آور ادویات کے ذریعے جنسی جرائم کے خلاف بحث کو نئی شدت دی تھی
برطانوی مقدمے میں بھی استغاثہ کا مؤقف ہے کہ شادی یا کسی قسم کے تعلقات کی موجودگی کسی شخص کو دوسرے کی رضامندی کے بغیر جنسی عمل کرنے کا حق نہیں دیتی بے ہوش یا غیر رضامند شخص کے ساتھ جنسی عمل زیادتی ہے، چاہے ملزم متاثرہ خاتون کا شوہر ہی کیوں نہ ہو
اس کیس نے برطانیہ میں گھریلو تشدد، جنسی جرائم اور آن لائن استحصال کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں پر بھی توجہ بڑھا دی ہے مقدمے کے فیصلے سے نہ صرف ملزمان کی قانونی ذمہ داری کا تعین ہوگا بلکہ متاثرہ خاتون کے لیے انصاف اور ایسے جرائم کی روک تھام کے حوالے سے بھی اہم سوالات سامنے آئیں گے

قومی خبریں سے مزید