پولز نہیں، ووٹرز انتخابی نتائج کا فیصلہ کریں گے، لیری کڈلو نے مڈٹرم انتخابات سے ایک روز قبل سروے رپورٹس پر تنقید
واشنگٹن:مڈٹرم انتخابات سے ایک روز قبل معروف امریکی مبصر اور فاکس بزنس کے میزبان لیری کڈلو نے انتخابی سرویز کی پیش گوئیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات کا فیصلہ پولنگ رپورٹس نہیں بلکہ ووٹرز کریں گے،ان کے مطابق ذرائع ابلاغ میں مسلسل ڈیموکریٹس کی بڑی کامیابی اور ری پبلکن امیدواروں کی ممکنہ شکست کی پیش گوئیاں کی جا رہی ہیں، حالانکہ حتمی فیصلہ ووٹ ڈالنے والے شہریوں کے ہاتھ میں ہے
اپنے مضمون میں لیری کڈلو نے کہا ہے کہ انہیں انتخابی مہم کے اختتام پر اس بات پر حیرت ہے کہ تقریباً ہر بڑا میڈیا ادارہ سرویز کو ایسے پیش کر رہا ہے جیسے وہی ووٹ ڈالنے اور نتائج طے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں،کہیں ڈیموکریٹس کی بڑی انتخابی لہر کی پیش گوئی کی جا رہی ہے تو کہیں کہا جا رہا ہے کہ ری پبلکن سینیٹرز اور ایوانِ نمائندگان کے ارکان بڑی تعداد میں اپنی نشستیں کھو دیں گے
کڈلو نے ان پیش گوئیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انتخابی سرویز کو حتمی نتیجہ سمجھنا درست نہیں، کیونکہ ماضی میں بھی پولنگ کے اندازوں اور حقیقی انتخابی نتائج میں فرق سامنے آتا رہا ہے،ان کے مطابق انتخابی مہم کے آخری مرحلے میں ووٹروں کا فیصلہ ہی اصل اہمیت رکھتا ہے
مشی گن کی سینیٹ کی دوڑ کا حوالہ دیتے ہوئے کڈلو نے نیویارک ٹائمز اور سیئینا کالج کے تازہ سروے کا ذکر کیا، جس میں ڈیموکریٹ امیدواروں کو ری پبلکن امیدوار مائیک راجرز پر 11 پوائنٹس کی برتری دکھائی گئی ہے،تاہم کڈلو نے اس سروے کے تناظر میں ڈیموکریٹک جماعت کے اندر پیدا ہونے والی صورتحال کو اہم قرار دیا
ان کے مطابق ڈیموکریٹ رکن کانگریس ہیلی اسٹیونز نے ری پبلکن امیدوار مائیک راجرز کی حمایت کا اعلان کیا ہے، جس سے ڈیموکریٹ امیدوار عبدل السید کے لیے پارٹی ووٹروں کی حمایت متاثر ہو سکتی ہے،کڈلو کا کہنا ہے کہ اس حمایت کے نتیجے میں ڈیموکریٹ ووٹروں کا ایک قابل ذکر حصہ عبدل السید سے دور ہو سکتا ہے
کڈلو نے مشی گن کی ڈیموکریٹک پارٹی کے سابق چیئرمین کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا کہ انہوں نے بعض لوگوں کو ووٹ ڈالنے کے لیے گھروں سے نہ نکلنے کا مشورہ دیا ہے،ان کے نزدیک پارٹی کے اندر اس نوعیت کی صورتحال کے باوجود نیویارک ٹائمز کے سروے میں عبدل السید کو نمایاں برتری دکھائی جا رہی ہے
کڈلو کا بنیادی مؤقف ہے کہ انتخابی سرویز ووٹروں کے رجحانات کا اندازہ ضرور پیش کر سکتے ہیں، لیکن وہ انتخابی نتائج کا متبادل نہیں،ان کے مطابق اصل فیصلہ پولنگ اسٹیشنوں پر ہوگا، جہاں ووٹرز اپنے ووٹ کے ذریعے طے کریں گے کہ اقتدار کس جماعت کے پاس جائے گا






