Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

زلفی بخاری کی اٹک میں مزید 377 کنال زرعی زمین نیلامی کے لیے پیش، 11 نومبر کو بولی ہوگی، عمران خان کا ساتھ نہ چھوڑنے کا اعلان

زلفی بخاری کی اٹک میں مزید 377 کنال زرعی زمین نیلامی کے لیے پیش، 11 نومبر کو بولی ہوگی، عمران خان کا ساتھ نہ چھوڑنے کا اعلان

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر زلفی بخاری کی اٹک میں مزید 377 کنال زرعی اراضی نیلامی کے لیے پیش کردی گئی ہے قومی احتساب بیورو (نیب) اسلام آباد کی ہدایات پر تحصیل جنڈ میں واقع یہ زمین 11 نومبر کو عوامی نیلامی کے ذریعے فروخت کی جائے گی۔ نیلامی کے لیے مختلف حصوں کی ابتدائی بولی 20 ہزار اور 15 ہزار روپے فی کنال مقرر کی گئی ہے
اسسٹنٹ کمشنر جنڈ احمد علی رضا کی جانب سے جاری کردہ نیلامی کے اشتہار کے مطابق کارروائی نیب اسلام آباد کے احکامات پر کی جارہی ہے۔ 377 کنال زمین کی نیلامی کا یہ اعلان زلفی بخاری کی جائیدادوں کے خلاف پہلے سے جاری کارروائیوں کا تسلسل ہے
اس سے قبل نیب زلفی بخاری کی 771 کنال اور 9 مرلے زرعی اراضی کے علاوہ مزید 25 کنال اور 7 مرلے زمین بھی نیلام کرچکا ہے اس طرح پہلے نیلامی کے عمل میں شامل ہونے والی زمین کا مجموعی رقبہ 797 کنال بنتا ہے اب مزید 377 کنال زمین نیلامی کے لیے پیش کیے جانے کے بعد کارروائی کا دائرہ مزید وسیع ہوگیا ہے
زلفی بخاری کے اسلام آباد اور اٹک میں واقع گھروں کے خلاف بھی نیلامی کی کارروائیاں کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق انہیں 190 ملین پاؤنڈ کے مقدمے میں اشتہاری قرار دیا جاچکا ہے اس مقدمے میں احتساب عدالت نے ان کی جائیدادوں کی ضبطی اور فروخت سے متعلق احکامات جاری کیے تھے
زلفی بخاری نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ردعمل میں کہا کہ ان کی تقریباً 800 کنال زرعی زمین پہلے ہی نیلام کی جاچکی ہے جبکہ اسلام آباد اور اٹک میں ان کے گھر بھی سیل کردیے گئے ہیں۔ انہوں نے تازہ کارروائی کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے اسے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ اپنی سیاسی وابستگی سے جوڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان کے ساتھ وفاداری کی یہی قیمت ہے تو وہ ہر قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن ان کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے زلفی بخاری نے مزید کہا کہ کسی کی جائیداد ضبط کی جاسکتی ہے، اس کے روزگار کو خطرے میں ڈالا جاسکتا ہے اور ذاتی مشکلات پیدا کی جاسکتی ہیں، لیکن دباؤ کے ذریعے اس کی سیاسی وفاداری تبدیل نہیں کرائی جاسکتی۔
زلفی بخاری کے والد واجد بخاری نے بھی اس کارروائی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جائیدادیں ضبط کی جاسکتی ہیں، روزگار کو خطرے میں ڈالا جاسکتا ہے اور ذاتی مشکلات پیدا کی جاسکتی ہیں، لیکن کسی کی سیاسی وابستگی جبر کے ذریعے حاصل نہیں کی جاسکتی ان کا کہنا تھا کہ وہ اور ان کے بیٹے نتائج کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں، تاہم عمران خان کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے
اس معاملے میں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ زلفی بخاری کی جائیدادوں کی نیلامی کے خلاف پہلے قانونی اعتراضات سامنے آچکے ہیں۔ اکتوبر 2025 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کی جائیداد کی نیلامی روکنے کا حکم دیا تھا اور نیب سے مکمل ریکارڈ طلب کیا تھا یہ درخواست ان کی بہن سکینہ بخاری نے دائر کی تھی، جن کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ دیگر شریک مالکان کو مناسب اطلاع دیے بغیر نیلامی کی کارروائی شروع کی گئی اور زمین کی ملکیت و تقسیم کے معاملات بھی واضح نہیں تھے
عدالت نے نیب کو جائیداد سے متعلق مکمل دستاویزات پیش کرنے اور کارروائی میں شفافیت یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی اس عدالتی کارروائی کی موجودہ صورتحال اور تازہ 377 کنال زمین کی نیلامی پر اس کے ممکنہ اثرات کے بارے میں مزید وضاحت سامنے آنا باقی ہے
اب 11 نومبر کو ہونے والی نیلامی اہمیت اختیار کرگئی ہے اس سے یہ بھی واضح ہوگا کہ نیب کی جانب سے جائیدادوں کی ضبطی اور فروخت کا عمل کس حد تک آگے بڑھتا ہے اور متعلقہ فریقین کے قانونی اعتراضات کا کیا نتیجہ نکلتا ہے
یہ معاملہ احتسابی کارروائی، جائیدادوں کی ضبطی، عدالتی نگرانی اور سیاسی وابستگی کے حوالے سے پاکستان کی سیاست میں ایک نئی بحث کا باعث بن گیا ہے زلفی بخاری اسے سیاسی انتقام قرار دے رہے ہیں، جبکہ نیلامی کا سرکاری نوٹس نیب کے احکامات کی بنیاد پر جاری کیا گیا ہے

قومی خبریں سے مزید