Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پاکستان میں بلدیاتی انتخابات مسلسل تاخیر کا شکار، وفاقی اور صوبائی حکومتیں اختیارات عوام تک منتقل کرنے سے گریزاں، الیکشن کمیشن بھی بے بس

پاکستان میں بلدیاتی انتخابات مسلسل تاخیر کا شکار، وفاقی اور صوبائی حکومتیں اختیارات عوام تک منتقل کرنے سے گریزاں، الیکشن کمیشن بھی بے بس

پاکستان میں جمہوری نظام کی تیسری اور عوام کے لیے سب سے اہم سطح یعنی بلدیاتی حکومتوں کا مستقبل ایک مرتبہ پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے انتخابی قوانین میں بار بار تبدیلیوں، انتظامی رکاوٹوں اور مختلف قانونی اعتراضات کے باعث بلدیاتی انتخابات مسلسل تاخیر کا شکار ہیں الیکشن کمیشن آف پاکستان کو پنجاب، خیبر پختونخوا، اسلام آباد اور ملک کے 43 چھاؤنی بورڈز میں انتخابات کرانے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مختلف محاذوں پر مشکلات کا سامنا ہے
پاکستان میں 2010 میں 18ویں آئینی ترمیم کے بعد بلدیاتی انتخابات کرانے کی ذمہ داری الیکشن کمیشن کو منتقل کی گئی تھی، لیکن انتخابی قوانین بنانے اور ان میں تبدیلی کرنے کا اختیار وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی متعلقہ قانون ساز اسمبلیوں کے پاس برقرار رہا یہی انتظام اب بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کی بڑی وجہ بن چکا ہے، کیونکہ حکومتیں انتخابی عمل شروع ہونے کے بعد بھی قوانین تبدیل کردیتی ہیں اور الیکشن کمیشن کو اپنی تیاریاں دوبارہ شروع کرنا پڑتی ہیں
اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کی صورتحال اس مسئلے کی سب سے نمایاں مثال ہے دارالحکومت میں آخری بلدیاتی انتخابات نومبر 2015 میں ہوئے تھے اور منتخب نمائندوں کی 5 سالہ مدت 14 فروری 2021 کو ختم ہوگئی تھی انتخابات کے قانون کے مطابق نئی حکومتوں کے انتخاب کے لیے سابقہ مدت ختم ہونے کے 120 دن کے اندر انتخابات کرانا ضروری تھا، جس کے تحت 15 جون 2021 تک نئے انتخابات ہوجانے چاہئیں تھے
لیکن 5 سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود اسلام آباد میں نئے بلدیاتی انتخابات نہیں ہوسکے اس دوران الیکشن کمیشن نے 4 مرتبہ انتخابی شیڈول جاری کیا اور 5 مرتبہ حلقہ بندیاں دوبارہ کیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے انتخابی قوانین میں تبدیلیوں کے باعث ہر مرتبہ انتخابی شیڈول واپس لینا پڑا
10 جنوری 2026 کو اسلام آباد کے بلدیاتی نظام میں بڑی تبدیلیاں کرنے کے لیے ایک ترمیمی آرڈیننس جاری کیا گیا تھا، جو ستمبر 2026 میں اپنی مدت پوری ہونے پر ختم ہوگیا آرڈیننس ختم ہونے کے بعد الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ 2015 کا پرانا بلدیاتی قانون دوبارہ نافذ ہوگیا ہے اسی بنیاد پر کمیشن نے 25 اکتوبر کو انتخابی شیڈول جاری کرتے ہوئے 20 دسمبر 2026 کو پولنگ کی تاریخ مقرر کردی۔
تاہم وفاقی حکومت اس آرڈیننس کی جگہ نیا قانون پارلیمنٹ سے منظور کرانے کی کوشش کررہی ہے اگر نیا قانون منظور ہوگیا تو الیکشن کمیشن کو موجودہ انتخابی شیڈول واپس لے کر نئے سرے سے حلقہ بندیوں اور دیگر انتظامات پر کام کرنا پڑسکتا ہے
خیبر پختونخوا میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ صوبے کی بلدیاتی حکومتوں کی مدت 19 جون 2026 کو ختم ہوگئی تھی اور قانون کے مطابق 20 اکتوبر تک نئے انتخابات ہوجانے چاہئیں تھے لیکن صوبائی حکومت نے 16 جولائی 2026 کو خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ منظور کرلیا، جس کے ذریعے گاؤں اور محلہ کونسلوں کے حجم اور ساخت میں تبدیلی کردی گئی
الیکشن کمیشن نے اس قانون پر اعتراض کرتے ہوئے اسے انتخابات میں تاخیر کا ذریعہ قرار دیا اور صوبائی حکومت سے نظرثانی کا مطالبہ کیا کمیشن نے انتخابات کی تیاریاں جاری رکھی ہوئی ہیں، تاہم صوبے کے 12 اضلاع میں امن و امان کی صورتحال کے باعث انتخابات کرانا ممکن نہیں سمجھا جارہا خیبر پختونخوا اسمبلی کے اختیارات ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد قومی اسمبلی کے پاس ہونے کے باعث یہ بھی غیر یقینی ہے کہ بلدیاتی قانون میں مزید تبدیلی کی جائے گی یا انتخابات ایک مرتبہ پھر ملتوی ہوجائیں گے
پنجاب میں بھی تقریباً 11 سال بعد بلدیاتی انتخابات کرانے کی تیاریاں مکمل ہونے کے باوجود سیاسی اور انتظامی اختلافات پیدا ہوگئے ہیں الیکشن کمیشن اور پنجاب حکومت نے پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کے تحت انتخابات کے انتظامات مکمل کرلیے تھے پہلے یہ انتخابات مئی 2022 میں ہونے تھے، لیکن قوانین میں مسلسل تبدیلیوں اور نئی حلقہ بندیوں کے باعث معاملہ آگے نہیں بڑھ سکا
الیکشن کمیشن اور پنجاب حکومت کی وزارتی کمیٹی کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ انتخابات 15 دسمبر 2026 سے 15 جنوری 2027 کے درمیان 3 مرحلوں میں کرائے جائیں گے تاہم پنجاب حکومت نے بعد میں اپنا مؤقف تبدیل کرتے ہوئے دسمبر میں شدید دھند اور اسکولوں کے امتحانات کو جواز بنا کر انتخابات اپریل 2027 تک ملتوی کرنے کی درخواست کردی
الیکشن کمیشن نے پنجاب حکومت کی نئی تجویز مسترد کرتے ہوئے اپنے سیکریٹریٹ کو پہلے سے طے شدہ تاریخوں کے مطابق انتخابی شیڈول تیار کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ تاہم ابھی تک باضابطہ انتخابی شیڈول جاری نہیں ہوا
ملک کے 43 چھاؤنی بورڈز میں بھی بلدیاتی انتخابات مقررہ وقت پر نہیں ہوسکے ان بورڈز کے منتخب نمائندوں کی 4 سالہ مدت 11 اپریل 2026 کو ختم ہوگئی تھی اور انتخابات 8 اگست تک ہونے چاہئیں تھے لیکن ان انتخابات کے لیے ایک اضافی قانونی شرط یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کو وفاقی حکومت کی جانب سے باضابطہ درخواست موصول ہو۔ اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے تاحال ایسی درخواست نہیں بھیجی، جس کی وجہ سے انتخابات کا معاملہ رکا ہوا ہے
دوسری جانب سندھ اور بلوچستان میں بھی بلدیاتی حکومتوں کی مدت اور انتخابی نظام سے متعلق مسائل موجود ہیں ان دونوں صوبوں میں بلدیاتی اداروں نے اپنی مدت ابھی مکمل نہیں کی، تاہم بلوچستان کے سب سے بڑے ضلع کوئٹہ میں پوری مدت گزرنے کے باوجود انتخابات نہیں ہوسکے
اس صورتحال کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو پہنچ رہا ہے، کیونکہ بلدیاتی حکومتیں شہریوں کے روزمرہ مسائل حل کرنے کے لیے بنیادی ادارے ہوتی ہیں گلیوں کی تعمیر، صفائی، نکاسی آب، پینے کے پانی کی فراہمی، مقامی سڑکوں کی مرمت، اسٹریٹ لائٹس، کچرا اٹھانے اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں ان کا اہم کردار ہوتا ہے
جب منتخب بلدیاتی نمائندے موجود نہ ہوں تو یہ اختیارات عموماً صوبائی حکومتوں اور سرکاری افسران کے پاس چلے جاتے ہیں ایسے نظام میں عوام کو اپنے علاقے کے مسائل کے حل کے لیے براہ راست منتخب نمائندوں تک رسائی حاصل نہیں رہتی اور فیصلے مقامی ضروریات کے بجائے صوبائی حکومتوں کی ترجیحات کے مطابق کیے جانے کا امکان بڑھ جاتا ہے
اصل مسئلہ یہ ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلدیاتی اداروں کو سیاسی اور مالی اختیارات منتقل کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتی ہیں صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کے پاس ترقیاتی منصوبوں اور فنڈز کی تقسیم کے اختیارات برقرار رہتے ہیں، جبکہ مضبوط بلدیاتی حکومتیں قائم ہونے کی صورت میں ان میں سے کئی اختیارات منتخب میئرز اور مقامی نمائندوں کو منتقل ہوسکتے ہیں
پاکستان میں بلدیاتی نظام کی کمزوری کا معاملہ صرف انتخابات تک محدود نہیں آئین کے آرٹیکل 140 اے کے تحت صوبائی حکومتوں پر لازم ہے کہ وہ سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتخب بلدیاتی نمائندوں کو منتقل کریں لیکن اس آئینی تقاضے پر مؤثر اور مستقل عمل درآمد نہیں ہوسکا۔
پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کو اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنا ہوگا اس مقصد کے لیے الیکشنز ایکٹ 2017 میں ایسی ترمیم ضروری ہے جس کے تحت بلدیاتی حکومتوں کی مدت ختم ہونے کے بعد انتخابی قوانین میں ایسی تبدیلیوں پر پابندی لگائی جائے جو انتخابات کے انعقاد میں رکاوٹ بنیں یا الیکشن کمیشن کی مکمل کی گئی تیاریوں کو غیر مؤثر کردیں
اگر بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری ہونے کے بعد بھی حکومتیں اپنی مرضی سے حلقہ بندیاں اور انتخابی قوانین تبدیل کرسکتی ہیں تو الیکشن کمیشن کے لیے بروقت انتخابات کرانا مشکل رہے گا اس لیے بلدیاتی اداروں کی مدت، انتخابات کی تاریخوں اور قانونی ڈھانچے کو سیاسی مداخلت سے محفوظ بنانا ضروری ہے۔
ایک اور مسئلہ نئے صوبوں کے قیام کی بحث نے پیدا کردیا ہے پاکستان میں نئے صوبے بنانے کی تجاویز زیر بحث ہیں جبکہ اسلام آباد کو بھی صوبائی حیثیت دینے کے امکان کا ذکر کیا جارہا ہے اس قسم کی انتظامی تبدیلیاں بلدیاتی نظام کو مزید غیر یقینی بنا سکتی ہیں اور حکومتوں کو انتخابات میں تاخیر کا ایک اور جواز فراہم کرسکتی ہیں
سیاسی جماعتوں کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ وہ عوام کو اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کے حق میں ہیں یا ترقیاتی فنڈز اور انتظامی فیصلوں کو اپنے ہاتھوں میں رکھنا چاہتی ہیں جمہوریت صرف قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کا نام نہیں بلکہ اس کا اصل فائدہ اس وقت عام شہری تک پہنچتا ہے جب اسے اپنے محلے، شہر اور ضلع کے معاملات میں منتخب نمائندوں کے ذریعے فیصلہ سازی کا اختیار حاصل ہو
پاکستان میں بلدیاتی انتخابات کا مسلسل التوا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک میں جمہوری نظام کی تیسری سطح ابھی تک مضبوط بنیادوں پر قائم نہیں ہوسکی جب تک منتخب مقامی حکومتوں کو مقررہ مدت، مالی وسائل اور حقیقی انتظامی اختیارات نہیں دیے جاتے، اس وقت تک عوام کے بنیادی مسائل کا حل بھی سیاسی وعدوں اور سرکاری دفتروں کے درمیان پھنسا رہے گا

قومی خبریں سے مزید