افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردی پر امریکا نے پاکستانی مؤقف سن لیا، مارکو روبیو کی ثالثی اور مدد کی پیشکش
امریکا نے افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں ہونے والی مبینہ دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے تحفظات تسلیم کرتے ہوئے دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں تعمیری کردار ادا کرنے کی پیشکش کردی ہے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ واشنگٹن پاکستان کے خدشات سے آگاہ ہے اور اگر امریکا کوئی مثبت کردار ادا کرسکتا ہے تو وہ ایسا کرنے کے لیے تیار ہے
مارکو روبیو نے یہ بات اٹلانٹا میں جی 20 ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ان سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سرحد پار دہشت گرد حملوں کے بارے میں سوال کیا گیا تھا
روبیو کا کہنا تھا کہ پاکستان کو تشویش ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے دہشت گرد حملے کیے جارہے ہیں۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ افغان طالبان حکومت ان حملوں کو روکنے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کررہی، جس کے باعث پاکستان نے اپنے دفاع میں کارروائیاں کی ہیں
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ واشنگٹن نے پاکستان کے تحفظات سنے ہیں اور وہ نہیں چاہتا کہ پاکستان دہشت گردی کا نشانہ بنے ان کے بقول اگر اس تنازعے میں امریکا کا کوئی تعمیری کردار ہوسکتا ہے تو واشنگٹن اسے ادا کرے گا
روبیو نے مزید کہا کہ امریکا کے افغان طالبان حکومت کے ساتھ قریبی تعلقات نہیں ہیں، تاہم واشنگٹن نے پاکستان کی جانب سے جن حملوں کی نشاندہی کی ہے ان میں سے بعض واقعات کا مشاہدہ بھی کیا ہے امریکا اصولی طور پر دہشت گردی کے خلاف ہے، چاہے یہ کسی بھی جگہ سے ہو اور اس کا نشانہ کوئی بھی ملک یا شہری بنے
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کی بنیادی وجہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوؤں کی افغانستان میں موجودگی اور وہاں سے پاکستان پر حملوں کا معاملہ ہے اسلام آباد مسلسل کابل سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ افغان سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کیا جائے، خصوصاً تحریک طالبان پاکستان کے خلاف قابل تصدیق کارروائی کی جائے
پاکستانی حکام کا الزام ہے کہ افغانستان میں موجود جنگجو پاکستان کے سرحدی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں دہشت گرد حملے کرتے ہیں دوسری جانب افغان طالبان حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے اور کہتی ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہورہی طالبان حکام پاکستان کی اندرونی سکیورٹی صورتحال کا ذمہ دار بھی اسلام آباد کی پالیسیوں کو قرار دیتے رہے ہیں
اسی تنازعے پر پاکستان کی وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل دیا ہے ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ پاکستان کی غلط پالیسیوں اور مذاکرات کے لیے مطلوبہ آمادگی نہ ہونے کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان مسائل حل نہیں ہورہے
پاکستانی وزارت اطلاعات نے جواب میں کہا کہ افغانستان کی طالبان حکومت دہشت گردی کے بنیادی مسئلے کو حل کرنے سے مسلسل گریز کررہی ہے اور الزام تراشی سے دونوں ملکوں کے تعلقات معمول پر نہیں آسکتے وزارت کے مطابق افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کا معاملہ معمول کے سفارتی تعلقات کی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے
پاکستانی حکومت نے واضح کیا ہے کہ اپنے شہریوں کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور بین الاقوامی قانون کے تحت قومی سلامتی کو درپیش خطرات کے خاتمے کے لیے ضروری اقدامات کا حق محفوظ ہے
دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے گزشتہ سال قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں مذاکرات کے کئی دور ہوئے، لیکن کوئی قابل عمل معاہدہ سامنے نہیں آسکا۔ رواں سال چین کی شمولیت سے بھی سفارتی کوششیں کی گئیں، تاہم بنیادی اختلافات برقرار رہے
روس نے بھی دونوں ملکوں کے درمیان مصالحت اور مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے اکتوبر میں ماسکو فارمیٹ کے اجلاس میں پاکستان اور افغان طالبان کے وفود کے درمیان افغانستان میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کے معاملے پر اختلافات سامنے آئے تھے اور اجلاس کسی مشترکہ اعلامیے کے بغیر ختم ہوگیا تھا
سرحدی علاقوں میں وقفے وقفے سے جھڑپیں بھی جاری ہیں ستمبر میں خیبر پختونخوا میں دہشت گرد حملوں کے بعد پاکستان نے سرحدی علاقوں میں فضائی کارروائیاں کیں اکتوبر میں کرم اور جنوبی وزیرستان کے انگور اڈہ کے علاقوں میں بھی سرحد پار سے فائرنگ کے واقعات کے بعد پاکستانی سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئیں
مارکو روبیو کا تازہ بیان اس لیے اہم ہے کہ امریکا نے پاکستان کے تحفظات کو محض دوطرفہ سیاسی اختلاف قرار دینے کے بجائے دہشت گردی کے مسئلے کو تسلیم کیا ہے تاہم امریکی وزیر خارجہ نے ابھی کسی باقاعدہ ثالثی منصوبے، مذاکرات کی تاریخ یا عملی اقدامات کا اعلان نہیں کیا ان کا بیان فی الحال اس آمادگی کا اظہار ہے کہ اگر امریکا دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں مؤثر کردار ادا کرسکتا ہے تو وہ اس امکان پر کام کرنے کے لیے تیار ہے




