Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

بھارت نے دریاؤں کے پانی کو پاکستان کے خلاف معاشی ہتھیار بنا لیا، چناب پر ڈیموں اور نہروں کا جال بچھانے کی حکمت عملی بے نقاب

بھارت نے دریاؤں کے پانی کو پاکستان کے خلاف معاشی ہتھیار بنا لیا، چناب پر ڈیموں اور نہروں کا جال بچھانے کی حکمت عملی بے نقاب

بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کے بعد پاکستان کے آبی وسائل کے لیے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں بھارت اب صرف بڑے ڈیم تعمیر کرنے تک محدود نہیں بلکہ دریائے چناب پر پن بجلی کے منصوبوں، پانی ذخیرہ کرنے کے ڈھانچوں اور پانی کا رخ تبدیل کرنے والی نہروں کا وسیع نظام تیار کررہا ہے اس حکمت عملی کے نتیجے میں پاکستان کو دریاؤں میں پانی کی مقدار کے ساتھ اس کے بہاؤ کے وقت اور تسلسل کے حوالے سے بھی سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے
جنوبی ایشیا کے امور کے تجزیہ کار خرم عباس کے مطابق اپریل 2025 میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کا فیصلہ محض ایک سیاسی اقدام نہیں بلکہ پاکستان پر طویل مدتی معاشی دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی کا حصہ بنتا جارہا ہے ان کا کہنا ہے کہ بھارت خصوصاً دریائے چناب کو پاکستان کی خارجہ پالیسی، مسئلہ کشمیر اور دوطرفہ تعلقات پر دباؤ ڈالنے کے ذریعے کے طور پر استعمال کرنے کی صلاحیت پیدا کررہا ہے
بھارت نے گزشتہ 18 ماہ کے دوران دریائے چناب کے طاس میں پن بجلی کے منصوبوں کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے مضمون کے مطابق ان منصوبوں کی مجموعی صلاحیت پہلے 3,263 میگاواٹ تھی جو بڑھ کر 7,620.5 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے۔ ان منصوبوں کے لیے تقریباً 414.04 ارب بھارتی روپے مختص کیے گئے ہیں
بھارت کے منصوبوں میں ساوالکوٹ پن بجلی منصوبہ 1,856 میگاواٹ، کِرتھائی اول اور دوم مجموعی طور پر 1,320 میگاواٹ، پاکل دُل 1,000 میگاواٹ، رَتلے 850 میگاواٹ اور برسر ذخیرہ منصوبہ 800 میگاواٹ شامل ہیں ان منصوبوں کے ذریعے بھارت دریائے چناب کے پانی کو ذخیرہ کرنے، اس کے بہاؤ کو منظم کرنے اور ضرورت کے مطابق پانی کا رخ تبدیل کرنے کی صلاحیت بڑھانا چاہتا ہے
یہ منصوبے اس لیے بھی اہم ہیں کہ پانی کے بہاؤ پر اثرانداز ہونے کے لیے کسی ایک بڑے ڈیم کا ہونا ضروری نہیں اگر مختلف مقامات پر ذخیرہ کرنے والے ڈیم، پن بجلی کے منصوبے اور پانی منتقل کرنے والی نہریں ایک مربوط نظام کے تحت کام کریں تو دریا میں پانی کی آمد اور اخراج کے وقت کو متاثر کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح پاکستان کو ایسے حالات کا سامنا ہوسکتا ہے جہاں پانی کی دستیابی غیر یقینی ہوجائے اور زرعی ضروریات کے اہم موسموں میں قلت پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ جائے
بھارت کی جانب سے پانی کے رخ کو تبدیل کرنے کے منصوبوں میں چناب بیاس لنک منصوبہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ اس منصوبے کے تحت دریائے چناب کے ایک اہم معاون دریا چندرہ سے پانی 8.7 کلومیٹر طویل سرنگ کے ذریعے بیاس کے آبی نظام میں منتقل کرنے اور پھر 113 کلومیٹر طویل نہری نظام کے ذریعے بھارت کی مشرقی ریاستوں تک پہنچانے کی تجویز ہے۔
اس منصوبے کی لاگت تقریباً 23.52 ارب بھارتی روپے بتائی گئی ہے اس کے ذریعے سالانہ 1.9 ملین ایکڑ فٹ پانی چناب کے طاس سے منتقل کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے اس منصوبے سے متعلق سب سے بڑا قانونی سوال یہ ہے کہ آیا دریائے چناب کے پانی کو اس انداز میں منتقل کرنا سندھ طاس معاہدے کی شق 3 سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں
بھارت نے مئی 2025 میں اُڑی دوم پن بجلی منصوبے کے لیے ٹینڈر جاری کیا، جس کی پیداواری صلاحیت 240 میگاواٹ ہے جون 2025 میں دُلہستی دوم منصوبے کے 260 میگاواٹ کے لیے ٹینڈر کا اعلان کیا گیا جولائی 2025 میں ساوالکوٹ منصوبے کے لیے بین الاقوامی مسابقتی ٹینڈر جاری کیا گیا جبکہ سلال ڈیم کے ذخیرے سے جمع شدہ مٹی اور ریت نکالنے کا کام بھی شروع کرنے کی تیاری کی گئی
مارچ 2026 میں اُڑی اول کے دوسرے مرحلے اور دُلہستی دوم کے تعمیراتی ٹھیکے دیے گئے جبکہ چناب بیاس لنک سرنگ منصوبے کے لیے بھی باضابطہ ٹینڈر کا اعلان کیا گیا مضمون کے مطابق ان منصوبوں سے پانی ذخیرہ کرنے اور دوسرے آبی نظاموں کی جانب منتقل کرنے کی مجموعی صلاحیت تقریباً 7.287 ملین ایکڑ فٹ ہوسکتی ہے
پاکستان کے لیے اس حکمت عملی کا سب سے بڑا خطرہ پنجاب کی زراعت ہے دریائے چناب وسطی پنجاب کے 11 سے زیادہ اضلاع کی زرعی زمینوں کو سیراب کرتا ہے یہ علاقہ پاکستان کا اہم غذائی مرکز ہے جہاں چاول اور گندم کی کاشت ملکی غذائی ضروریات پوری کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے
مضمون میں دیے گئے اندازوں کے مطابق وسطی پنجاب کے یہ 11 اضلاع پاکستان کی مجموعی غذائی اجناس کی پیداوار کا تقریباً 22 سے 25 فیصد فراہم کرتے ہیں۔ اگر بھارت اکتوبر سے دسمبر یا مئی سے جولائی کے اہم زرعی موسموں میں دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ کو متاثر کرتا ہے تو فصلوں کی پیداوار میں نمایاں کمی آسکتی ہے
اس کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت کو 9 ارب سے 11 ارب ڈالر تک نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے پاکستان کو اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے بیرون ملک سے گندم اور دیگر اجناس درآمد کرنا پڑسکتی ہیں، جس سے پہلے ہی محدود زرمبادلہ کے ذخائر پر مزید دباؤ بڑھے گا
پاکستان اس وقت چاول کی برآمدات سے سالانہ تقریباً 3.3 ارب سے 4 ارب ڈالر حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن اگر پانی کی مسلسل قلت کے باعث چاول اور دوسری فصلوں کی پیداوار متاثر ہوتی ہے تو برآمدات کم ہونے کے ساتھ خوراک کی درآمدات میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے اس کا براہ راست اثر ملکی تجارتی خسارے، مہنگائی اور عام شہریوں کی قوت خرید پر پڑے گا
اس صورتحال کا نقصان صرف حکومت یا زرعی شعبے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ لاکھوں کسان خاندانوں کی آمدنی، دیہی معیشت اور خوراک کی فراہمی بھی متاثر ہوسکتی ہے پانی کی غیر یقینی صورتحال کے باعث کسانوں کو اپنی فصلوں کی منصوبہ بندی میں مشکلات پیش آئیں گی اور زرعی پیداوار میں کمی سے غذائی تحفظ کا مسئلہ مزید سنگین ہوسکتا ہے
مضمون میں بھارت کی جانب سے پاکستان پر معاشی دباؤ ڈالنے کے دیگر طریقوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے اس میں عالمی مالیاتی اداروں اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر پاکستان کے خلاف لابنگ، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس میں پاکستان کے معاملات کو سیاسی رنگ دینے اور جنوبی ایشیا میں علاقائی تجارت کے فروغ میں رکاوٹوں کا حوالہ دیا گیا ہے مصنف کے مطابق بھارت طویل عرصے سے پاکستان کو علاقائی اور عالمی معاشی نظام میں محدود کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے
تاہم پاکستان کی اپنی کمزوریاں بھی اس خطرے کو بڑھا رہی ہیں ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ناکافی ہے، نہری نظام کی بہتری سست روی کا شکار ہے اور جدید آبپاشی کے طریقے ابھی بڑے پیمانے پر متعارف نہیں کرائے جاسکے اس کے علاوہ کسانوں کو پانی کی ممکنہ کمی سے بروقت آگاہ کرنے کے لیے جدید نظام اور فصلوں کی متبادل منصوبہ بندی بھی ضروری ہے
پاکستان کو عالمی سطح پر سندھ طاس معاہدے کے تحفظ کے لیے قانونی اور سفارتی کوششیں جاری رکھنے کے ساتھ اندرونی سطح پر بھی فوری اقدامات کرنا ہوں گے حکومت کو قومی آبی ہنگامی صورتحال کا اعلان کرنے، متاثرہ 11 اضلاع کے کسانوں کو ممکنہ خطرات سے آگاہ کرنے، پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں کو تیز کرنے، نہروں کی لائننگ بہتر بنانے اور جدید آبپاشی نظام متعارف کرانے کی ضرورت ہے
اس معاملے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ سندھ طاس معاہدہ 1960 میں عالمی بینک کی معاونت سے پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پایا تھا اس معاہدے کے تحت دریائے سندھ، جہلم اور چناب کے پانی پاکستان کے لیے مختص کیے گئے جبکہ راوی، بیاس اور ستلج کے پانی پر بھارت کو بنیادی حق دیا گیا معاہدے میں بھارت کو مغربی دریاؤں پر مخصوص شرائط کے تحت پن بجلی اور دیگر محدود استعمال کی اجازت بھی حاصل ہے
پاکستان کا مؤقف ہے کہ بھارت معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کرسکتا اور اس کی شرائط کی پابندی دونوں ملکوں پر لازم ہے دوسری جانب بھارت نے اپریل 2025 کے بعد معاہدے کو غیر مؤثر رکھنے کا اعلان کیا اور اسے پاکستان کے خلاف اپنے الزامات سے مشروط کرنے کی کوشش کی
پاکستان کے لیے اب اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر قانونی جنگ لڑنے کے ساتھ ساتھ ملک کے اندر پانی کے انتظام کو بھی بہتر بنائے اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو دریائے چناب پر بھارت کے بڑھتے ہوئے آبی منصوبے مستقبل میں پاکستان کی زراعت، خوراک کی فراہمی، معیشت اور قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن سکتے ہیں
یہ مضمون خرم عباس کے تجزیے پر مبنی ہے منصوبوں کی صلاحیت، ممکنہ معاشی نقصان اور بھارت کی حکمت عملی سے متعلق اعداد و شمار مصنف کے پیش کردہ اندازے ہیں، آزادانہ طور پر ثابت شدہ نتائج نہیں

قومی خبریں سے مزید