اٹک میں 2 افراد کے دوہرے قتل کے ملزمان مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک، 11 سالہ بچے سمیت 2 افراد کے اغوا اور بہیمانہ قتل کا الزام
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع اٹک میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے ساتھ مبینہ پولیس مقابلے میں دوہرے قتل کے 2 ملزمان ہلاک ہوگئے پولیس کے مطابق دونوں افراد کا تعلق مبینہ طور پر بدنام زمانہ اوڈھ گینگ سے تھا اور وہ 11 سالہ بچے سمیت 2 افراد کو اغوا کرکے قتل کرنے کے مقدمے میں مطلوب تھے
پولیس حکام کے مطابق فائرنگ کا واقعہ ہفتے کے روز اٹک میں بھٹیوٹ روڈ پر گاؤں بوٹا کے قریب پیش آیا، جہاں سی سی ڈی کی ٹیم نے ملزمان کی موجودگی کی اطلاع پر کارروائی کی پولیس ترجمان کا دعویٰ ہے کہ کارروائی کے دوران دونوں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے
ہلاک ہونے والوں کی شناخت حق نواز عرف حقو اور سلیم عرف شیم کے نام سے ہوئی ہے پولیس نے حق نواز کو مبینہ طور پر اوڈھ گینگ کا سرغنہ اور دوہرے قتل کا مرکزی منصوبہ ساز قرار دیا ہے۔ دوسرے ملزم سلیم کا تعلق چیچہ وطنی سے بتایا گیا ہے، جو کوٹ فتح خان میں بھی رہائش پذیر تھا
پولیس کے مطابق مقابلے کے بعد دونوں ملزمان کے قبضے سے 30 بور کے 2 پستول بھی برآمد کیے گئے
تحقیقاتی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ملزمان فتح جنگ میں 24 ستمبر کو پیش آنے والے اغوا اور قتل کے ایک سنگین واقعے میں مطلوب تھے اس مقدمے میں 11 سالہ صائم رضا کو مبینہ طور پر وہاڑی سے اغوا کیا گیا تھا، جبکہ ایک دوسرے نامعلوم شخص کو راولپنڈی کے علاقے روات میں جی ٹی روڈ کے قریب سے اغوا کیا گیا تھا پولیس کے مطابق دوسرا شخص بھی ذہنی معذوری کا شکار تھا
تفتیش کاروں کے مطابق دونوں مغویوں کو مبینہ طور پر کلہاڑیوں اور ڈنڈوں سے قتل کیا گیا اور ان کی لاشوں کو مسخ کردیا گیا تاکہ شناخت چھپائی جاسکے اس کارروائی کا مقصد مبینہ طور پر قتل کے شواہد ختم کرنا اور مقتولین کی شناخت مشکل بنانا تھا
پولیس کا مزید دعویٰ ہے کہ ملزمان نے اپنی شناخت مقتولین کے رشتہ داروں کے طور پر ظاہر کرکے ایک جعلی مقدمہ بھی درج کرایا تھا اس مقدمے میں انہوں نے اپنے مخالفین پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے ان کی بیٹی کو اغوا کرکے جنسی استحصال کے لیے استعمال کیا ہے
تاہم فتح جنگ پولیس کی تحقیقات کے دوران اس مقدمے کے حقائق مشکوک پائے گئے مزید تفتیش سے مبینہ طور پر انکشاف ہوا کہ شکایت درج کرانے والے افراد ہی دوہرے قتل کے اصل ملزمان تھے پولیس کے مطابق اسی تفتیش کے نتیجے میں اوڈھ گینگ کے ارکان کی نشاندہی ہوئی اور سی سی ڈی نے ان کی گرفتاری کے لیے کارروائی کی
اس واقعے نے کمسن بچوں اور ذہنی معذوری کے شکار افراد کے تحفظ کے حوالے سے بھی سنگین سوالات اٹھائے ہیں پولیس کے مطابق دونوں مقتولین کو اغوا کرنے کے بعد قتل کیا گیا اور ان کی شناخت چھپانے کی کوشش کی گئی اگر تحقیقات میں سامنے آنے والے الزامات ثابت ہوجاتے ہیں تو یہ ایک انتہائی منظم اور سنگین مجرمانہ کارروائی ہوگی
پولیس مقابلے میں دونوں ملزمان کی ہلاکت کے بعد ان کے دیگر مبینہ ساتھیوں کی تلاش اور مقدمے سے متعلق مزید تحقیقات جاری ہیں پولیس کے دعوؤں اور مقابلے کے حالات کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی





