Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ٹرمپ کی مڈٹرم انتخابی حکمت عملی کا معمار جیمز بلیئر شکست کی صورت میں قربانی کا بکرا بن سکتا ہے، صدر کے قریبی حلقوں میں ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے کی تیاری

ٹرمپ کی مڈٹرم انتخابی حکمت عملی کا معمار جیمز بلیئر شکست کی صورت میں قربانی کا بکرا بن سکتا ہے، صدر کے قریبی حلقوں میں ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے کی تیاری
واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مڈٹرم انتخابی مہم کے مرکزی حکمت عملی ساز جیمز بلیئر اس وقت اپنی سیاسی زندگی کے ایک اہم امتحان سے گزر رہے ہیں،واشنگٹن پوسٹ کی نینسی کک کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ کے انتہائی بااعتماد ساتھیوں میں شمار ہونے والے 37 سالہ بلیئر نے ریپبلکن پارٹی کو کانگریس میں اکثریت برقرار رکھنے کے لیے ملک گیر انتخابی منصوبہ بندی کی قیادت کی، لیکن اگر 3 نومبر کے انتخابات میں پارٹی کو بڑا نقصان ہوا تو وہی شخص شکست کی ذمہ داری کا سب سے بڑا ہدف بن سکتا ہے
ٹرمپ اپنے بعض قریبی معاونین کو خصوصی القاب دیتے ہیں،بلیئر کے لیے ان کا پسندیدہ لقب ’’برلینٹ جیمز‘‘ ہے، یعنی غیر معمولی ذہین جیمز،بلیئر کو انتخابی اعدادوشمار، ووٹروں کے رجحانات، ماضی کے نتائج اور کانگریس کے انتخابی حلقوں کی نقشہ بندی پر غیر معمولی مہارت حاصل ہے،انہوں نے صدر کا اعتماد اس انداز میں حاصل کیا کہ انہیں سیاسی حقائق براہ راست اور غیر ضروری خوشامد کے بغیر بتاتے ہیں،تاہم ٹرمپ کے بعض تبصروں سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک حد سے زیادہ خوداعتمادی کبھی کبھی حکمت عملی ساز کو اپنی ہی ذہانت کا اسیر بنا سکتی ہے
جیمز بلیئر کی ذمہ داری صرف انتخابی اشتہارات یا جلسوں کی منصوبہ بندی تک محدود نہیں تھی،وہ ٹرمپ کی مرکزی سیاسی تنظیم MAGA Inc. کے سربراہ کی حیثیت سے ووٹروں کو متحرک کرنے، انتخابی سروے، مخالف امیدواروں کے خلاف اشتہارات، سیاسی فنڈز کی تقسیم اور انتخابی مہم کے مختلف حصوں کے درمیان رابطے کے ذمہ دار بھی تھے،ان کے زیر نگرانی ٹرمپ کے سپر پی اے سی کے پاس تقریباً 400 ملین ڈالر کا انتخابی سرمایہ بھی تھا،وہ اس سال بہار سے اپنی تمام تر توجہ مڈٹرم انتخابات پر مرکوز کیے ہوئے تھے، اس سے قبل وہ وائٹ ہاؤس میں ڈپٹی چیف آف اسٹاف کے عہدے پر کام کرچکے تھے
بلیئر کو ٹرمپ کے سیاسی حلقے میں لانے کا سہرا وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز کو جاتا ہے، جنہیں ٹرمپ ’’آئس میڈن‘‘ کہتے ہیں،وائلز نے فلوریڈا کی سیاست میں بلیئر کے ساتھ کام کیا تھا اور ان کی صلاحیتوں سے واقف تھیں،ٹرمپ کے 2024 کے صدارتی انتخابی منصوبے میں بھی بلیئر نے اہم کردار ادا کیا تھا،ان کے ساتھی کرس لاویٹا، جنہوں نے سوزی وائلز کے ساتھ ٹرمپ کی 2024 کی انتخابی مہم چلائی تھی، ان کی غیر معمولی انتظامی صلاحیتوں کے معترف ہیں،ان کے مطابق بلیئر بیک وقت کئی ریاستوں، متعدد انتخابی مہموں، سروے کرنے والی ٹیموں، ڈاک کے ذریعے بھیجے جانے والے انتخابی مواد اور ڈیجیٹل تشہیر کرنے والی کمپنیوں کے معاملات سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں
بلیئر کی حکمت عملی کا بنیادی مقصد ریپبلکن پارٹی کے مختلف سیاسی دھڑوں، انتخابی کمیٹیوں، ٹرمپ کے سپر پی اے سی، بڑے عطیہ دہندگان اور ٹیکنالوجی و کرپٹو کرنسی کی صنعتوں سے وابستہ معاون گروپوں کو ایک مشترکہ انتخابی نظام میں متحد کرنا تھا،وہ چاہتے تھے کہ تمام گروپ ایک دوسرے کے ساتھ اعدادوشمار، انتخابی سروے اور مالی وسائل کا تبادلہ کریں تاکہ پارٹی کی انتخابی مہم زیادہ مربوط انداز میں چلائی جاسکے
اس حکمت عملی کا سب سے متنازعہ حصہ انتخابی حلقہ بندیوں میں مدتِ وسط کے دوران تبدیلیوں کی ملک گیر مہم تھی، جسے ناقدین نے ’’بلیئرمینڈرنگ‘‘ کا نام دیا،بلیئر نے انڈیانا سمیت ریپبلکن زیرانتظام ریاستوں میں انتخابی حلقوں کی نئی حدبندی کے لیے دباؤ ڈالا،جب بعض ریپبلکن قانون سازوں نے ان کی تجاویز کی مخالفت کی تو انہوں نے ٹرمپ سے ان قانون سازوں کے خلاف پارٹی کے اندر پرائمری انتخابات میں متبادل امیدواروں کی حمایت حاصل کی،اس کوشش پر لاکھوں ڈالر خرچ ہوئے اور عام طور پر کم توجہ حاصل کرنے والے ریاستی انتخابات بھی قومی سیاسی لڑائی کا حصہ بن گئے
انڈیانا میں انتخابی حلقہ بندیوں کے خلاف 20 سے زیادہ تنظیموں نے اتحاد قائم کرکے مزاحمت کی،تنظیم کامن کاز انڈیانا کی سربراہ جولیا وان کے مطابق مقامی لوگوں کو محسوس ہوا کہ ریاست کے انتخابی نقشے میں تبدیلی کا دباؤ باہر سے ڈالا جارہا ہے،ناقدین کا کہنا تھا کہ بلیئر کی اس مہم نے دوسری اہم انتخابی نشستوں سے وقت، پیسہ اور سیاسی توانائی چھین لی
بلیئر نے ابتدا میں دعویٰ کیا تھا کہ ٹیکساس، فلوریڈا، شمالی کیرولائنا اور دوسری ریپبلکن ریاستوں میں نئی انتخابی حلقہ بندیوں سے پارٹی کو کانگریس کی نشستوں میں دوہرے ہندسے کا فائدہ حاصل ہوسکتا ہے، لیکن انتخابی جائزوں کے مطابق اب یہ فائدہ صرف تین یا چار نشستوں تک محدود رہنے کا امکان ظاہر کیا جارہا تھا،ڈیموکریٹس نے بھی کیلیفورنیا میں انتخابی حلقہ بندیاں تبدیل کرکے جوابی کارروائی کی،ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت کے باعث فلوریڈا کے بعض روایتی ریپبلکن علاقوں میں بھی پارٹی کی نشستیں خطرے میں آگئیں، جبکہ ٹیکساس کے نئے انتخابی حلقے بھی مقابلے کی زد میں دکھائی دینے لگے
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق انتخابی ماہرین کی اکثریت کا اندازہ تھا کہ ریپبلکن پارٹی ایوان نمائندگان میں اپنی اکثریت کھو سکتی ہے، تاہم شکست کے حجم کے بارے میں غیر یقینی برقرار تھی،ٹرمپ کی ٹیم اس کے باوجود انتخابی حلقہ بندیوں کی تبدیلی کو درست فیصلہ قرار دے رہی تھی اور اس کا مؤقف تھا کہ اس کے اثرات صرف 2026 تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ 2028 اور 2030 کے انتخابات میں بھی پارٹی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے
رپورٹ میں بلیئر کے سخت اور جارحانہ طرزِعمل کو بھی ان کی سیاسی مشکلات کی ایک وجہ قرار دیا گیا ہے،فلوریڈا میں گورنر رون ڈی سینٹس کی 2018 کی انتخابی مہم کے دوران انہوں نے سوزی وائلز کے ساتھ کام کیا تھا،اس وقت ڈی سینٹس کو کم وسائل رکھنے والا امیدوار سمجھا جارہا تھا، لیکن انہوں نے کامیابی حاصل کی،بلیئر نے بعد میں 2020 میں فلوریڈا میں ٹرمپ کی انتخابی مہم میں بھی کردار ادا کیا،ٹرمپ کی دوبارہ کامیابی کے بعد سوزی وائلز چیف آف اسٹاف بنیں تو بلیئر کو وائٹ ہاؤس میں اہم سیاسی اور قانون سازی کے معاملات کی نگرانی سونپی گئی
کانگریس کے ارکان کے ساتھ ان کے تعلقات ہمیشہ خوشگوار نہیں رہے،بعض قانون سازوں اور ان کے عملے کے مطابق بلیئر منتخب نمائندوں کو قانون سازی کے طریقہ کار پر لیکچر دیتے تھے اور صدر کے ٹیکس، تجارت، صحت اور ایران جنگ سے متعلق ایجنڈے کی حمایت حاصل کرنے کے لیے دباؤ کا طریقہ اختیار کرتے تھے،ناقدین کا کہنا تھا کہ وہ سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لیے مراعات دینے کے بجائے مخالفت کرنے والوں کو سزا دینے کی حکمت عملی اپناتے تھے،اس طرزِعمل سے بعض ریپبلکن ارکان اپنے حلقوں میں سیاسی مشکلات کا شکار ہوئے
شمالی کیرولائنا کے سینیٹر تھام ٹلس نے صدر کے ٹیکس بل کی حمایت نہ کرنے کے بعد ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا، جبکہ ٹیکساس کے سینیٹر جان کارنن اور لوزیانا کے سینیٹر بل کیسیڈی کو ٹرمپ کے حمایت یافتہ امیدواروں کے ہاتھوں پرائمری انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا،اس طرح پارٹی کے اندر اختلافات اور قیادت کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوا،بلیئر کے ناقدین اسے ٹرمپ کی سیاسی ٹیم کی غیر ضروری سختی قرار دیتے ہیں، جبکہ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ صرف صدر کی ہدایات پر عمل کررہے تھے
اب ریپبلکن پارٹی کے لیے ایک اہم سوال سینیٹ میں اکثریت برقرار رکھنے کا بھی ہے،اگر پارٹی ایوان نمائندگان میں شکست کھانے کے باوجود سینیٹ میں اپنی اکثریت برقرار رکھتی ہے تو ٹرمپ کے حامی اسے کامیابی قرار دے سکتے ہیں، کیونکہ سینیٹ میں اکثریت کے ذریعے صدر کی عدالتی اور کابینہ کی تقرریوں کی توثیق ممکن رہتی ہے،لیکن اگر ریپبلکن پارٹی دونوں ایوانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے تو صدر کے قریبی حلقوں کے لیے انتخابی ناکامی کا جواز پیش کرنا کہیں زیادہ مشکل ہوجائے گا
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے ایک مشیر کا کہنا تھا کہ جب بھی وہ بلیئر سے ان کے سیاسی مستقبل کے بارے میں بات کرتے ہیں تو بلیئر کا جواب ہوتا ہے کہ وہ منگل کے انتخابات سے آگے کچھ سوچ ہی نہیں سکتے،ان کے قریبی دوست بریڈ ہیرولڈ نے ان کی شخصیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ دوستی میں بہترین دوست اور دشمنی میں انتہائی سخت مخالف ثابت ہوتے ہیں اور سیاسی اختلافات کو طویل عرصے تک یاد رکھتے ہیں
یوں ٹرمپ کی انتخابی حکمت عملی تیار کرنے والا شخص اب خود اس حکمت عملی کے نتائج سے اپنی سیاسی ساکھ وابستہ کیے ہوئے ہے،اگر ریپبلکن پارٹی کو بڑا نقصان ہوا تو سوال صرف یہ نہیں ہوگا کہ پارٹی کیوں ہاری، بلکہ یہ بھی ہوگا کہ اس شکست کی ذمہ داری کس پر ڈالی جائے گی، اور کیا ٹرمپ اپنے ہی بااعتماد انتخابی معمار کو اس کا ذمہ دار ٹھہرائیں گے؟

قومی خبریں سے مزید