Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

برطانیہ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں 15 فیصد اضافہ، ایک سال میں 5,132 واقعات پولیس میں درج

برطانیہ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں 15 فیصد اضافہ، ایک سال میں 5,132 واقعات پولیس میں درج

برطانیہ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں اضافے نے مسلم کمیونٹی کے تحفظ اور مذہبی آزادی کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے،ہوم آفس کے اعدادوشمار کے مطابق انگلینڈ اور ویلز میں مارچ 2026 کو ختم ہونے والے سال کے دوران مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے 5,132 نفرت انگیز جرائم پولیس میں درج ہوئے، جو گزشتہ سال کے 4,479 واقعات کے مقابلے میں 15 فیصد زیادہ ہیں
اسی عرصے میں ملک بھر میں نسل اور مذہب کی بنیاد پر مجموعی طور پر 146,825 نفرت انگیز جرائم ریکارڈ کیے گئے، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 7 فیصد اضافہ ہے
برٹش مسلم ٹرسٹ کی ایک الگ تحقیق کے مطابق جولائی 2025 سے جولائی 2026 تک برطانیہ اور چینل آئی لینڈز میں 64 مساجد اور ان سے وابستہ افراد و کمیونٹیز کے خلاف 78 واقعات ریکارڈ کیے گئے،اس کا مطلب ہے کہ اوسطاً ہر پانچ دن میں کسی مسجد یا اس سے وابستہ کمیونٹی کو ایک حملے یا واقعے کا سامنا کرنا پڑا
تحقیق کا ایک تشویشناک پہلو یہ ہے کہ مساجد کی عمارتوں کو نقصان پہنچانے کے بجائے اب عبادت کے لیے آنے والے مسلمانوں کو براہ راست نشانہ بنانے کے واقعات بڑھ رہے ہیں،نومبر 2025 کے بعد درج ہونے والے واقعات میں 62.7 فیصد ایسے تھے جن میں سنگین دھمکیاں، ہتھیاروں کی موجودگی، قتل کی دھمکیاں، آتش زنی، براہ راست تشدد یا بڑے پیمانے پر حملوں کی مبینہ منصوبہ بندی شامل تھی
برٹش مسلم ٹرسٹ نے سیاست دانوں کو خبردار کیا ہے کہ امیگریشن اور معاشرتی انضمام پر سیاسی تنقید بعض اوقات برطانوی مسلمانوں کے خلاف نفرت میں تبدیل ہو جاتی ہے،تنظیم کے مطابق مساجد اور مسلم کمیونٹیز کے لیے سکیورٹی کے تقاضے مسلسل بڑھ رہے ہیں
یہ اعدادوشمار برطانیہ میں مسلم آبادی کے لیے ایک بڑے سماجی اور سیاسی مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں، جہاں مذہبی شناخت، امیگریشن اور قومی سیاست کے درمیان تعلق پہلے سے زیادہ حساس ہوتا جا رہا ہے

قومی خبریں سے مزید