فرانس میں اسلام مخالف ڈیجیٹل مہم پر 10 ملین یورو سے زیادہ خرچ، تین برس میں 830 ملین مرتبہ دیکھی گئی نفرت انگیز ویڈیوز
فرانس اور دوسرے یورپی ممالک میں مسلمانوں اور قطر کے خلاف نسل پرستانہ اور اسلام مخالف مواد پھیلانے کے لیے ایک منظم ڈیجیٹل مہم کا انکشاف ہوا ہے، جس پر گزشتہ تین برس کے دوران 10 ملین یورو سے زیادہ خرچ کیے جانے کا اندازہ ہے،فرانسیسی اخبار لی مونڈ کے مطابق محققین نے ہزاروں اشتہارات اور ویڈیوز کا جائزہ لینے کے بعد بتایا ہے کہ یہ مہم مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مجموعی طور پر تقریباً 830 ملین مرتبہ دیکھی جا چکی ہے
اس مہم میں قطر کو یورپ میں دہشت گردی، بڑے پیمانے پر امیگریشن اور اسلامائزیشن کی پشت پناہی کرنے والے ملک کے طور پر پیش کیا گیا،ایک ویڈیو میں مشہور گیم گرینڈ تھیفٹ آٹو کی طرز پر طنزیہ عنوان ’’گرینڈ تھیفٹ قطر‘‘ استعمال کیا گیا، جس میں اماراتی لباس پہنے ایک کردار کو یورپی عمارتیں خرید کر انہیں مساجد میں تبدیل کرتے دکھایا گیا
محققین کے مطابق فرانس اس مہم کا سب سے بڑا ہدف رہا، جہاں گزشتہ تین برس میں اشتہارات کو تقریباً 120 ملین مرتبہ دیکھا گیا،جرمنی میں بھی انتخابی سرگرمیوں سے پہلے اس نوعیت کے اشتہارات کی سرگرمی میں نمایاں تبدیلی دیکھی گئی
تحقیق میں اسرائیل کے نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے بعض افراد اور ڈیجیٹل سرگرمیوں کی طرف مضبوط اشارے ملنے کا دعویٰ کیا گیا ہے،محققین نے بعض ویڈیوز کے تکنیکی ریکارڈ اور انٹرنیٹ آئی پی ایڈریس کا سراغ اسرائیل تک پہنچایا ہے،تاہم اس مہم کے اصل مالی معاونین کی شناخت حتمی طور پر ثابت نہیں ہوئی
رپورٹ کے مطابق یوٹیوب، ٹک ٹاک اور فیس بک نے بعض اشتہارات اور اکاؤنٹس ہٹائے، لیکن مہم چلانے والے نئے اکاؤنٹس کے ذریعے دوبارہ سرگرم ہو جاتے تھے
یہ انکشاف اس لیے اہم ہے کہ فرانس اور اٹلی میں 2027 کے انتخابات سے پہلے اسلام، امیگریشن اور مسلم آبادی کے بارے میں عوامی رائے کو متاثر کرنے کے لیے ڈیجیٹل پروپیگنڈے کے استعمال پر سوالات اٹھ رہے ہیں






