فرانس میں مسلمان اور شمالی افریقی شہریوں کو نشانہ بنانے والی فائرنگ، ایک ہلاک، 7 زخمی، ہزاروں افراد کا احتجاج
فرانس کے دارالحکومت پیرس کے نواحی علاقے ٹراپس میں نسل پرستانہ فائرنگ کے واقعے کے خلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے،ایک ہفتہ قبل ہونے والی اس فائرنگ میں ایک شخص ہلاک اور 7 زخمی ہوئے تھے،انسداد دہشت گردی کے پراسیکیوٹرز کے مطابق 39 سالہ ملزم نے دوران تفتیش اعتراف کیا کہ اس نے ایسے لوگوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جنہیں وہ مسلمان، افریقی یا شمالی افریقی سمجھتا تھا
تحقیقات کے دوران ملزم کے سامان سے ایڈولف ہٹلر کی کتاب ’’مائن کامف‘‘ اور فرانس کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت نیشنل ریلی کے اسٹیکرز بھی برآمد ہوئے،تاہم ملزم نے کسی مخصوص سیاسی جماعت کی حمایت سے انکار کیا ہے
واقعے نے فرانس میں نسل پرستی، اسلاموفوبیا اور انتہائی دائیں بازو کی سیاست پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے،ٹراپس کے میئر علی راحیب نے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قاتل نے اپنے متاثرین کا انتخاب اتفاقاً نہیں کیا تھا، بلکہ انہیں ان کی نسلی اور مذہبی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا
صدر ایمانوئل میکرون نے بھی نیشنل ریلی پر الزام لگایا ہے کہ اس کی سیاست فرانس میں نسل پرستانہ ماحول کو فروغ دے رہی ہے،دوسری جانب نیشنل ریلی نے ملزم سے کسی تعلق کی تردید کرتے ہوئے حکومت کو ملک میں نفرت اور عدم برداشت کے پھیلاؤ کا ذمہ دار قرار دیا ہے
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب فرانس اگلے سال کے صدارتی انتخابات کی تیاری کر رہا ہے اور ملک میں امیگریشن، مسلم آبادی اور قومی شناخت کے سوالات سیاسی بحث کے مرکز میں ہیں






