پاکستان میں 2 کروڑ 60 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر، تعلیمی تحقیق کے لیے سرکاری فنڈز نہ ہونے کے برابر
پاکستان میں تعلیم کے شعبے کو درپیش سنگین مسائل کے باوجود تعلیمی تحقیق کو حکومتی ترجیحات میں وہ اہمیت حاصل نہیں ہو سکی جس کی ضرورت ہے ملک میں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 2 کروڑ 60 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ اسکولوں میں داخل بچوں کی بڑی تعداد کو بھی معیاری تعلیم میسر نہیں اس صورتحال میں ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لیے صرف اسکولوں کی تعداد بڑھانا کافی نہیں بلکہ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ بچے تعلیم سے محروم کیوں ہیں، اساتذہ کی تربیت کیسے بہتر بنائی جا سکتی ہے اور سرکاری و نجی اسکولوں کے نظام کو زیادہ مؤثر کیسے بنایا جائے
پاکستان کی آبادی میں سالانہ تقریباً 2.4 فیصد اضافہ ہو رہا ہے اور ہر سال لگ بھگ 60 لاکھ بچے آبادی میں شامل ہوتے ہیں اتنی بڑی تعداد میں بچوں کی تعلیم، صحت اور مستقبل کے روزگار کے انتظامات ایک بڑا قومی چیلنج ہیں ترقی یافتہ ملکوں کو عموماً عمر رسیدہ آبادی اور صحت کے بڑھتے ہوئے اخراجات جیسے مسائل کا سامنا ہے، جبکہ پاکستان کے لیے بچوں کو اسکولوں تک پہنچانا اور نوجوانوں کو معیاری تعلیم اور ہنر فراہم کرنا بنیادی ضرورت ہے
تعلیم کے شعبے میں تحقیق کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ پاکستان کو کئی بنیادی سوالات کے قابل اعتماد جواب درکار ہیں مثال کے طور پر، لاکھوں بچوں کو اسکولوں میں داخل کرنے کے لیے کون سی پالیسیاں زیادہ مؤثر ہیں، بچوں کے اسکول چھوڑنے کی وجوہات کیا ہیں، اساتذہ کی بھرتی اور تربیت کا نظام کیسے بہتر ہو سکتا ہے اور نصاب و درسی کتابوں کو بچوں کی ضروریات سے ہم آہنگ کیسے بنایا جا سکتا ہے تحقیق کے ذریعے یہ بھی معلوم کیا جا سکتا ہے کہ معذوری کے شکار بچوں سمیت محروم طبقات کو تعلیم کے یکساں مواقع کیسے فراہم کیے جائیں
پاکستان میں تعلیمی تحقیق کو درپیش سب سے بڑی رکاوٹ مالی وسائل کی کمی ہے ماضی میں بھی حکومت تعلیم پر مجموعی قومی پیداوار کا 2 فیصد سے زیادہ خرچ نہیں کر سکی، جبکہ موجودہ صورت حال میں یہ شرح ایک فیصد سے بھی کم بتائی گئی ہے جب تعلیم کے پورے شعبے کے لیے ہی وسائل ناکافی ہوں تو تحقیق کے لیے رقم مختص کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے
ایک اور مسئلہ تحقیق کے لیے فنڈز فراہم کرنے والے اداروں کی ترجیحات ہیں۔ اعلیٰ تعلیمی کمیشن سمیت مختلف اداروں میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں کو سماجی علوم، انسانی علوم اور فنون کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دی جاتی رہی ہے انجینئرز اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کی تیاری کو ملکی ترقی کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے، لیکن تعلیم جیسے اہم سماجی شعبے میں تحقیق کی ضرورت اکثر نظر انداز ہو جاتی ہے
ماضی میں پاکستان میں تعلیمی تحقیق زیادہ تر مقامی جامعات کے اساتذہ، طلبہ اور بیرون ملک مقیم محققین نے کی مقامی محققین کے پاس اکثر محدود بجٹ اور چھوٹے نمونوں کے ساتھ کام کرنے کے وسائل تھے، جبکہ بیرونی اداروں کو نسبتاً زیادہ مالی معاونت حاصل ہوتی تھی عالمی بینک، برطانوی ترقیاتی ادارے اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے بھی متعدد تحقیقی منصوبوں کی مالی مدد کی تاہم، ایسے منصوبوں سے حاصل ہونے والے تجربات اور تحقیقی صلاحیتوں کو مستقل طور پر مقامی اداروں میں منتقل کرنے میں مشکلات پیش آتی رہیں
اس مسئلے کے حل کے لیے تعلیم میں تحقیق کے ایک پروگرام نے مقامی جامعات اور بین الاقوامی محققین کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کی کوشش کی اس پروگرام کے تحت محققین کو مسابقتی بنیادوں پر فنڈز کے حصول کے مواقع دیے گئے، مختلف اداروں کے درمیان شراکت داری قائم کی گئی، تحقیقی اعداد و شمار کو عام کرنے اور نتائج کو بین الاقوامی علمی جرائد میں شائع کرنے پر زور دیا گیا۔
اس پروگرام کے تحت 40 سے زیادہ تحقیقی مطالعات شروع کیے گئے ان میں سے متعدد مکمل ہو چکے ہیں اور ان کی رپورٹس اور پالیسی سفارشات دستیاب ہیں ان منصوبوں سے مقامی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان رابطے بڑھے، نوجوان محققین کو تربیت اور رہنمائی ملی اور تعلیمی پالیسی بنانے والوں کے ساتھ تحقیق کے نتائج پر تبادلہ خیال کے مواقع پیدا ہوئے
ان مطالعات میں اساتذہ کی بھرتی اور لائسنسنگ، خصوصی ضروریات کے حامل بچوں کی تعلیم، کلاس روم میں تدریس کے معیار اور نصاب و درسی کتابوں کی بہتری جیسے معاملات پر کام کیا گیا اس طرح تحقیق کا مقصد محض علمی مقالے تیار کرنا نہیں بلکہ ایسی معلومات فراہم کرنا تھا جن کی مدد سے حکومتیں تعلیمی نظام میں عملی اصلاحات کر سکیں
تاہم، اس پروگرام کی مالی معاونت ختم ہونے کے قریب پہنچنے سے یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ اس دوران قائم ہونے والے تحقیقی روابط اور ادارہ جاتی صلاحیتوں کو کیسے برقرار رکھا جائے گا بین الاقوامی امداد میں تبدیلیوں کے باعث مستقبل میں ایسے پروگراموں کے لیے مالی وسائل ملنا مشکل ہو سکتا ہے اگر حکومت، صوبائی محکمہ ہائے تعلیم اور اعلیٰ تعلیمی کمیشن نے ذمہ داری نہ سنبھالی تو خدشہ ہے کہ تحقیق کے لیے قائم کیے گئے نیٹ ورک، سالانہ کانفرنسیں اور محققین کے درمیان تعاون بھی متاثر ہو سکتے ہیں
پاکستان میں تعلیم کی بہتری کے لیے ضروری ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں تعلیمی تحقیق کو مستقل پالیسی کا حصہ بنائیں صرف بجٹ مختص کرنا کافی نہیں ہوگا بلکہ تحقیقی نتائج کو عملی فیصلوں سے جوڑنا، اعداد و شمار تک رسائی فراہم کرنا اور مقامی محققین کو طویل مدت کے لیے مالی معاونت دینا بھی ضروری ہے
پاکستان کا تعلیمی بحران اتنا بڑا ہے کہ اس کا حل اندازوں یا وقتی منصوبوں سے نہیں نکل سکتا جب تک حکومت یہ نہیں جان سکے گی کہ کون سی پالیسیاں بچوں کو اسکولوں میں لانے، اساتذہ کی کارکردگی بہتر بنانے اور تعلیم کا معیار بلند کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں، تب تک محدود وسائل کے مؤثر استعمال میں مشکلات برقرار رہیں گی معیاری تحقیق پر سرمایہ کاری دراصل بچوں کے مستقبل، ملکی معیشت اور آئندہ نسلوں کی ترقی پر سرمایہ کاری ہے





