Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

’نو کنگز‘ مظاہروں کے پیچھے ڈیموکریٹس کی انتخابی حکمت عملی؟ فاکس نیوز کا دعویٰ، ٹرمپ مخالف احتجاج کو ووٹوں میں بدلنے کی کوشش

’نو کنگز‘ مظاہروں کے پیچھے ڈیموکریٹس کی انتخابی حکمت عملی؟ فاکس نیوز کا دعویٰ، ٹرمپ مخالف احتجاج کو ووٹوں میں بدلنے کی کوشش

امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ’نو کنگز‘ مظاہروں کو انتخابی طاقت میں تبدیل کرنے کی کوششوں پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے،فاکس نیوز ڈیجیٹل کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان مظاہروں کے منتظمین کی جانب سے سیاسی جماعتوں کی حمایت میں واضح مہم چلانے سے گریز کی ہدایت کے باوجود، مختلف مقامات پر سرگرم کارکن ڈیموکریٹک پارٹی کے حق میں انتخابی مہم جیسی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں
رپورٹ کے مطابق ’نو کنگز‘ تحریک کے اعلیٰ سطح کے منتظمین ہفتے کے روز ہونے والے ملک گیر مظاہروں کو ووٹر رجسٹریشن اور ووٹ ڈالنے کی ترغیب دینے والی مہم میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں،تاہم، فاکس نیوز کا دعویٰ ہے کہ زمینی سطح پر اس سرگرمی کی قیادت کرنے والی تنظیموں اور کارکنوں کی کوششیں غیر جانب دار شہری سرگرمی سے آگے بڑھ کر ڈیموکریٹس کی انتخابی حمایت کی شکل اختیار کر رہی ہیں
رپورٹ میں بائیں بازو کے قریب سمجھی جانے والی غیر منافع بخش تنظیم ’انویزیبل‘ (Indivisible) کا خصوصی ذکر کیا گیا ہے،فاکس نیوز کے مطابق اس تنظیم کو ڈیموکریٹک پارٹی کے بڑے مالی معاون جارج سوروس سے لاکھوں ڈالر کی مالی معاونت مل چکی ہے،رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’نو کنگز‘ مظاہروں کے پیچھے ترقی پسند سیاسی تنظیموں، مزدور یونینوں اور ڈیموکریٹک سیاسی کارکنوں کا ایک وسیع نیٹ ورک سرگرم ہے، جس میں تقریباً 300 تنظیمیں شامل ہیں
فاکس نیوز کے مطابق سیاسی ماہرین اس سرگرمی کو ایک ایسی انتخابی حکمت عملی کے طور پر دیکھتے ہیں جس کے تحت ٹرمپ مخالف مظاہروں میں جمع ہونے والے ہجوم کو مستقل ووٹر گروپ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے،اس حکمت عملی کا ممکنہ مقصد انتخابی معرکوں میں ڈیموکریٹس کے لیے ووٹروں کی زیادہ سے زیادہ شرکت یقینی بنانا اور ایسا انتخابی دباؤ پیدا کرنا ہے جسے بعض کارکن ’بلیو سونامی‘ کا نام دیتے ہیں
اس بحث کا ایک اہم پہلو امریکہ میں غیر منافع بخش تنظیموں کے لیے انتخابی سرگرمیوں سے متعلق قانونی پابندیاں ہیں،امریکی ٹیکس قوانین کے تحت سیکشن 501(c)(3) کے تحت رجسٹرڈ خیراتی تنظیموں کو امیدواروں کی حمایت یا مخالفت میں انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ تاہم، ووٹر رجسٹریشن، ووٹ ڈالنے کی ترغیب اور غیر جماعتی شہری آگاہی کی سرگرمیاں مخصوص شرائط کے تحت قانونی ہو سکتی ہیں،کسی مظاہرے میں ڈیموکریٹک حامیوں کی موجودگی یا کسی تنظیم کی جانب سے ووٹ ڈالنے کی اپیل بذاتِ خود قانون شکنی کا ثبوت نہیں
فاکس نیوز کی رپورٹ میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ آیا ’نو کنگز‘ کے نام سے منعقد ہونے والے مظاہروں کو شہری احتجاج سے آگے بڑھا کر کسی مخصوص سیاسی جماعت کے لیے انتخابی قوت پیدا کرنے کے مقصد سے استعمال کیا جا رہا ہے،تاہم، اس دعوے کی مکمل جانچ کے لیے متعلقہ تنظیموں کے اصل پیغامات، مالی ریکارڈ، انتخابی سرگرمیوں اور ان کے قانونی ڈھانچے کا جائزہ ضروری ہے،رپورٹ کے مطابق منتظمین نے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا
’نو کنگز‘ تحریک کے حامی ان مظاہروں کو ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں اور اختیارات کے استعمال کے خلاف عوامی احتجاج قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین کا مؤقف ہے کہ ایسی تحریکیں انتخابی سیاست پر اثرانداز ہونے کے لیے بھی استعمال ہو سکتی ہیں،اس لیے اصل سوال یہ ہے کہ احتجاج، شہری تنظیم سازی اور باقاعدہ جماعتی انتخابی مہم کے درمیان قانونی حد کہاں قائم ہوتی ہے اور آیا اس حد کی پابندی کی جا رہی ہے یا نہیں
یہ معاملہ امریکی سیاست میں احتجاجی تحریکوں، غیر منافع بخش تنظیموں کی مالی معاونت اور انتخابی عمل کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلق کو اجاگر کرتا ہے،اگر ’نو کنگز‘ کے اجتماعات واقعی ووٹرز کو متحرک کرنے کی وسیع مہم کا حصہ ہیں تو ان کے انتخابی اثرات کا تعین صرف مظاہروں میں شریک افراد کی تعداد سے نہیں بلکہ ووٹر رجسٹریشن، انتخابی شرکت اور متعلقہ تنظیموں کی عملی سرگرمیوں سے ہوگا

قومی خبریں سے مزید