مصنوعی ذہانت سے روزگار کی تباہی کا خدشہ، ڈیموکریٹس نے 2028 کے صدارتی انتخاب کے لیے معاشی تحفظ کو مرکزی مسئلہ بنانے کی تیاری شروع کر دی
امریکہ میں مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلاؤ اور اس کے نتیجے میں ملازمتوں کے خاتمے کے خدشات نے ڈیموکریٹک پارٹی کی آئندہ سیاسی حکمت عملی میں اہم جگہ حاصل کرنا شروع کر دی ہے،پارٹی کے متعدد نمایاں رہنما اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ 2028 کے صدارتی انتخاب میں کامیابی کے لیے ایسا معاشی ایجنڈا پیش کرنا ضروری ہوگا جو مصنوعی ذہانت کے باعث روزگار، آمدنی اور مقامی آبادیوں کے مستقبل کے بارے میں امریکی عوام کی بڑھتی ہوئی تشویش کا جواب دے سکے
واشنگٹن پوسٹ کی شیرا اووائیڈ کی رپورٹ کے مطابق سابق امریکی وزیر ٹرانسپورٹیشن پیٹ بٹجج ان ڈیموکریٹ رہنماؤں میں شامل ہیں جو مصنوعی ذہانت کے ممکنہ معاشی اثرات کو ایک بڑے سیاسی مسئلے کے طور پر پیش کر رہے ہیں،بٹجج، جو آئندہ صدارتی انتخاب کے ممکنہ امیدواروں میں شمار ہوتے ہیں، ڈیموکریٹک امیدواروں کی وسط مدتی انتخابی مہم کے دوران مسلسل یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت روزگار کے ایسے بحران کو جنم دے سکتی ہے جس کے اثرات ماضی میں صنعتی خودکاری کے نتیجے میں پیدا ہونے والی معاشی تبدیلیوں جیسے ہوں گے
انڈیانا سے تعلق رکھنے والے بٹجج کے مطابق ان کے آبائی علاقے نے گزشتہ دہائیوں میں فیکٹریوں میں خودکاری اور دوسرے معاشی عوامل کے باعث ملازمتوں اور مقامی برادریوں میں بڑی تبدیلیاں دیکھی ہیں،ان کا کہنا ہے کہ ماضی کے ان تجربات کو یاد رکھنا ضروری ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت بھی بہت سے لوگوں کی ملازمتوں اور پیشہ ورانہ زندگی کو تبدیل، متاثر یا مکمل طور پر ختم کر سکتی ہے
یہ تشویش اب صرف بٹجج تک محدود نہیں رہی،کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزوم، نیویارک کی رکن کانگریس الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز، میری لینڈ کے گورنر ویس مور اور ایریزونا کے سینیٹرز روبن گالیگو اور مارک کیلی بھی اس موضوع پر بات کر رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے مستقبل میں کارکنوں کو معاشی تحفظ کیسے فراہم کیا جائے اور نئی ٹیکنالوجی کے فوائد چند بڑی کمپنیوں یا سرمایہ کاروں تک محدود ہونے سے کیسے روکے جائیں
ڈیموکریٹس کے لیے یہ مسئلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ مصنوعی ذہانت ایک طرف پیداوار میں اضافے، نئی صنعتوں اور معاشی ترقی کے امکانات پیش کرتی ہے، تو دوسری طرف یہ خدشات بھی پیدا کرتی ہے کہ کمپنیاں کم ملازمین کے ذریعے زیادہ کام انجام دینے کے قابل ہو جائیں گی،اگر اس تبدیلی کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ملازمتیں ختم ہوتی ہیں یا کارکنوں کی اجرتوں پر دباؤ بڑھتا ہے تو اس کے اثرات صرف انفرادی خاندانوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مقامی کاروبار، رہائشی علاقوں اور مجموعی معیشت کو بھی متاثر کر سکتے ہیں
پارٹی کے اندر بڑھتا ہوا احساس یہ ہے کہ 2028 کے لیے ایک قابلِ قبول انتخابی پروگرام میں مصنوعی ذہانت کے معاشی اثرات سے نمٹنے کے عملی اقدامات شامل ہونے چاہئیں،ان میں متاثرہ کارکنوں کی دوبارہ تربیت، نئی ملازمتوں کے مواقع، بے روزگاری کے دوران معاشی تحفظ اور ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والی دولت کی تقسیم جیسے موضوعات شامل ہو سکتے ہیں
تاہم، ڈیموکریٹس کے لیے اصل چیلنج صرف مصنوعی ذہانت کے خطرات کی نشاندہی کرنا نہیں بلکہ ایسے قابلِ عمل حل پیش کرنا ہوگا جو کاروباری ترقی کو مکمل طور پر روکنے کے بجائے کارکنوں کو اس تبدیلی کے لیے تیار کریں،یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ کن شعبوں میں ملازمتیں ختم ہونے کا حقیقی خطرہ ہے، نئی ٹیکنالوجی کن شعبوں میں روزگار پیدا کر سکتی ہے اور حکومت، کمپنیوں اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داریاں کیا ہوں گی
2028 کی صدارتی دوڑ ابھی اپنے ابتدائی سیاسی مرحلے میں ہے، لیکن مصنوعی ذہانت اور روزگار کے تحفظ پر نمایاں ڈیموکریٹ رہنماؤں کی بڑھتی ہوئی توجہ ظاہر کرتی ہے کہ پارٹی کے اندر مستقبل کی معیشت اور عام امریکی کارکن کے تحفظ کو انتخابی بحث کا اہم حصہ بنانے کی کوشش جاری ہے






