الہان عمر کے گرد قانونی تحقیقات کا نیا طوفان، امیگریشن دستاویزات اور مالی گوشواروں کی الگ الگ چھان بین
واشنگٹن:امریکی کانگریس کی رکن الہان عمر ایک ہی ہفتے میں دو الگ تحقیقات کی زد میں آ گئیں،دائیں بازو کے میڈیا گروپ فاکس نیوز ڈیجیٹل کی رپورٹ کے مطابق، وفاقی حکام نے پیر کی صبح واشنگٹن ڈی سی میں ان کی رہائش گاہ پر سرچ وارنٹ کے تحت کارروائی کی تھی، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی ان کی امریکی شہریت حاصل کرنے کے لیے جمع کرائی گئی امیگریشن دستاویزات سے متعلق جاری فوجداری تحقیقات کا حصہ تھی
فاکس نیوز کے مطابق، حکام اس امکان کی چھان بین کر رہے ہیں کہ آیا الہان عمر یا ان کے والد نے شہریت کے حصول کے لیے کاغذی کارروائی میں کسی قسم کی دھوکا دہی کی تھی،تاہم، دستیاب اقتباس میں ان الزامات کے حق میں کوئی حتمی ثبوت یا تحقیقات کے نتائج پیش نہیں کیے گئے، اس لیے انہیں ثابت شدہ حقائق قرار نہیں دیا جا سکتا
رپورٹ کے مطابق، اگلے روز واشنگٹن ڈی سی کی وفاقی اٹارنی جینین پیرو نے اعلان کیا کہ ان کا دفتر الہان عمر کے مالی گوشواروں کی بھی تحقیقات کر رہا ہے،کانگریس کے ارکان کے لیے ہر سال مالی تفصیلات ظاہر کرنا لازم ہوتا ہے،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمر کے مالی گوشوارے پہلے بھی عوامی توجہ اور کانگریس کی نگرانی کا موضوع بن چکے تھے، تاہم اب معاملہ حکام کی تحقیقات تک پہنچ گیا ہے
فاکس نیوز کی فراہم کردہ تحریر میں مالی تحقیقات کی تفصیلات کا آغاز 2024 کے مالی سال سے متعلق گوشواروں سے کیا گیا ہے، جو الہان عمر نے مئی 2025 میں جمع کرائے تھے،
یہ دونوں تحقیقات الگ الگ نوعیت کی ہیں۔ ایک کا تعلق شہریت کے حصول کے لیے جمع کرائی گئی دستاویزات سے ہے، جبکہ دوسری مالی گوشواروں سے متعلق ہے،تحقیقات شروع ہونے یا گھر پر سرچ وارنٹ کے نفاذ کا مطلب بذات خود جرم ثابت ہونا نہیں ہے،الہان عمر کے خلاف کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کے لیے سرکاری دستاویزات، متعلقہ حکام کے بیانات اور تحقیقات کے نتائج سامنے آنا ضروری ہیں






