سندھ میں کم عمر بچیوں کا اغوا، جبری شادیوں اور اقلیتوں کے تحفظ پر تشویش کی نئی لہر ، عمرکوٹ میں ایک اور پانچویں جماعت کی طالبہ لاپتہ
سندھ کے ضلع عمرکوٹ کے گاؤں بودر فارم میں اسکول سے واپسی پر پانچویں جماعت کی ایک طالبہ کے مبینہ اغوا نے کم عمر بچیوں کے تحفظ اور صوبے میں مذہبی اقلیتوں کو درپیش خطرات کے حوالے سے ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں،پولیس نے واقعے کا مقدمہ بچی کے والد کی مدعیت میں ایک خاتون سمیت تین ملزمان کے خلاف درج کرکے ان کی تلاش شروع کر دی ہے،واقعہ کو چار روز گزرنے کے باوجود بچی کی بازیابی کے بارے میں واضح معلومات سامنے نہ آنے پر تشویش بڑھ رہی ہے
اس واقعے میں ایک اہم سوال بچی کی مذہبی شناخت اور اغوا کے ممکنہ محرکات کا بھی ہے،سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں اور سندھ میں اقلیتی بچیوں کے تحفظ کے حوالے سے پہلے سے موجود خدشات کے تناظر میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیاکیا یہ بچی بھی ہندو برادری سے تعلق رکھتی ہے؟ تاہم، فی الحال پولیس کے دستیاب بیان یا سامنے آنے والی رپورٹ میں بچی کے مذہب کی تصدیق نہیں کی گئی،اس لیے اس کی شناخت کے بارے میں کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کے بجائے پولیس کو چاہیے کہ وہ اس پہلو سمیت تمام ممکنہ محرکات کی شفاف تحقیقات کرے
سندھ میں ہندو برادری کی کم عمر لڑکیوں کے اغوا، مذہب کی تبدیلی اور جبری شادیوں کے الزامات برسوں سے انسانی حقوق کی تنظیموں، اقلیتی نمائندوں اور سماجی کارکنوں کی توجہ کا مرکز رہے ہیں،ایسے متعدد واقعات میں اہل خانہ نے الزام لگایا کہ ان کی کم عمر بیٹیوں کو اغوا کیا گیا، بعد میں مذہب تبدیل کرنے اور اپنی مرضی سے شادی کرنے کے دعوے سامنے آئے، جبکہ خاندانوں نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کی واپسی کا مطالبہ کیا،ان معاملات میں عمر کے تعین، آزادانہ رضامندی اور عدالتی تحفظات کے حوالے سے بھی سنجیدہ سوالات اٹھتے رہے ہیں
اس مسئلے کا ایک اور پہلو ہندو تاجروں اور نسبتاً خوش حال خاندانوں کے تحفظ سے متعلق خدشات ہیں،بعض علاقوں میں اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کی شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں، لیکن عمرکوٹ کی اس طالبہ کے معاملے میں فی الحال تاوان کا کوئی مصدقہ مطالبہ سامنے نہیں آیا،اس لیے یہ طے کرنا قبل از وقت ہوگا کہ اغوا کے پیچھے تاوان، جبری شادی یا کوئی اور محرک کارفرما ہے
تاہم، پانچویں جماعت میں پڑھنے والی بچی کی عمر اس واقعے کو غیر معمولی طور پر تشویش ناک بناتی ہے،اگر بچی تقریباً دس یا گیارہ برس کی ہے تو اس کی حفاظت، بازیابی اور اس کے مستقبل سے متعلق ہر فیصلے میں اس کی کم عمری کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے،کسی کم عمر بچی کے بارے میں محض یہ دعویٰ کہ وہ اپنی مرضی سے گھر چھوڑ کر گئی یا شادی کے لیے رضامند ہوگئی، اس کی آزادانہ رضامندی ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں،ایسے معاملے میں عمر کی مستند تصدیق، دباؤ سے آزاد ماحول میں بیان، قانونی نمائندگی اور عدالتی نگرانی ناگزیر ہیں
یہ معاملہ صرف ایک خاندان کی پریشانی نہیں بلکہ ریاست کی ذمہ داری کا امتحان ہے،اگر کسی بچی کو اغوا کیا گیا ہے تو اس کی فوری بازیابی، ملزمان کی گرفتاری اور واقعے کے محرکات سامنے لانا پولیس اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے،اگر جبری مذہب تبدیلی، کم عمری کی شادی یا تاوان کا عنصر موجود ہے تو اس کی بھی قانون کے مطابق تحقیقات ہونی چاہئیں
پاکستان کا آئین شہریوں کو مذہب سے قطع نظر تحفظ اور مساوی حقوق کی ضمانت دیتا ہے،لیکن جب اقلیتی خاندان اپنی بیٹیوں کے تحفظ کے بارے میں خوف محسوس کریں، شکایات کے باوجود انصاف کے حصول میں مشکلات کا سامنا کریں اور کم عمر لڑکیوں کے اغوا سے متعلق سوالات بار بار اٹھیں تو ریاستی اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھنا فطری ہے
سندھ میں ہندو برادری کے تحفظ کا مسئلہ برسوں سے زیر بحث ہے،اگر ریاست ان خدشات کو دور کرنے، متاثرہ خاندانوں کو انصاف دلانے اور کم عمر بچیوں کو اغوا اور جبری شادیوں سے بچانے میں مؤثر ثابت نہیں ہوتی تو اقلیتوں کے لیے تحفظ کے آئینی وعدے اپنی عملی اہمیت کھو دیتے ہیں،بعض متاثرہ خاندانوں اور اقلیتی نمائندوں کے نزدیک یہ صورت حال ان کے لیے مستقل خوف اور عدم تحفظ کا باعث بن چکی ہے
عمرکوٹ کی اس طالبہ کی بازیابی اب فوری ترجیح ہونی چاہیے،اس کے مذہب اور اغوا کے مقصد کے بارے میں قیاس آرائیوں کے بجائے پولیس کو حقائق سامنے لانے چاہئیں،اگر یہ واقعہ بھی کم عمر بچیوں کے اغوا اور استحصال کے پہلے سے موجود سلسلے کی ایک کڑی ثابت ہوتا ہے تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی محض ایک مقدمے تک محدود نہیں رہنی چاہیے،ریاست کی اصل آزمائش یہی ہے کہ وہ سب سے کمزور شہریوں، خصوصاً بچوں اور مذہبی اقلیتوں، کو عملی تحفظ فراہم کرتی ہے یا نہیں






