ایک ہی جامعہ میں 1,184 ایل ایل بی اندراجات کالعدم، کراچی یونیورسٹی میں فیل طلبہ پاس، سندھ کے تعلیمی نظام کا احتساب کون کرے گا؟
کراچی: سندھ کے سرکاری تعلیمی نظام میں سامنے آنے والے دو بڑے معاملات نے یونیورسٹیوں کی خودمختاری، امتحانی شفافیت، داخلوں کی جانچ پڑتال اور سرکاری نگرانی کے پورے نظام پر ہونے والی بحث کو مذید تیز کردیا ہے،
خیرپور کی شاہ عبداللطیف یونیورسٹی میں 1,184 ایل ایل بی امیدواروں کے غیر قانونی تعلیمی اندراجات اور متعلقہ اسناد کالعدم قرار دینے کی خبر سامنے آئی ہے، جبکہ کراچی یونیورسٹی میں تقریباً 150 سے زائد ایسے طلبہ کو امتحانی جانچ پڑتال کے بعد کامیاب قرار دینے کا تنازعہ بھی سامنے آیا ہے جو پہلے فیل قرار دیے گئے تھے،دونوں معاملات کی نوعیت مختلف ہے، لیکن بنیادی سوال ایک ہی ہے،جب داخلے، امتحانات، حاضری، فیسوں اور اسناد کا ریکارڈ یونیورسٹیوں کے اپنے نظام میں موجود ہوتا ہے تو ایسی بے ضابطگیاں برسوں تک کیسے جاری رہ سکتی ہیں؟
شاہ عبداللطیف یونیورسٹی کے بارے میں سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی نے امتحانی ریکارڈ، حاضری شیٹس، فیسوں کی تفصیلات، بینک اسٹیٹمنٹس اور دوسرے دستاویزی شواہد کا جائزہ لینے کے بعد 1,184 امیدواروں کے اندراجات کو غیر قانونی قرار دیا، جبکہ 64 امیدواروں کا ریکارڈ درست پایا گیا،وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر یوسف خشک کی سربراہی میں سنڈیکیٹ کے فیصلوں اور تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات کے بعد نوٹیفکیشن جاری کیے گئے اور ان کی نقول ہائر ایجوکیشن کمیشن، پاکستان بار کونسل اور متعلقہ صوبائی بار کونسلوں کو بھیجنے کی اطلاع دی گئی ہے
یہ معاملہ محض چند طلبہ کے داخلوں کا نہیں۔ قانون کی تعلیم حاصل کرنے والے امیدوار مستقبل میں وکالت اور عدالتی نظام کا حصہ بنتے ہیں،اگر کسی امیدوار کا داخلہ ہی قانونی تقاضوں کے مطابق نہ ہو یا اس کی تعلیمی سند جعلی ریکارڈ کی بنیاد پر جاری ہوئی ہو تو اس کے اثرات صرف یونیورسٹی تک محدود نہیں رہتے،اس سے پیشہ ورانہ اہلیت، بار کونسلوں کی جانچ پڑتال اور قانونی نظام پر عوام کے اعتماد کے بارے میں بھی سوالات پیدا ہوتے ہیں
تاہم اس معاملے میں یہ فرق برقرار رکھنا ضروری ہے کہ کسی امیدوار کا اندراج غیر قانونی قرار پانا اور اس امیدوار کے خلاف انفرادی طور پر جعل سازی کا جرم ثابت ہونا دو الگ قانونی امور ہیں،ہر متعلقہ امیدوار کو فیصلے کی وجوہات جاننے، ریکارڈ تک رسائی اور قانون کے مطابق اپیل کا موقع ملنا چاہیے،اسی طرح یہ بھی سامنے آنا چاہیے کہ غیر قانونی اندراجات کس دور میں ہوئے، ان کی منظوری کس نے دی، متعلقہ افسران کی ذمہ داری کیا تھی اور نگرانی کا نظام کیوں ناکام رہا
دوسری طرف کراچی یونیورسٹی میں قانون کے طلبہ کے نتائج تبدیل ہونے کا معاملہ اس سے مختلف نوعیت رکھتا ہے،اکتوبر 2026 میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق ایس ایم لا کالج اور اسلامیہ لا کالج کے تقریباً 150 سے زائد طلبہ کو بعض مضامین میں پہلے ناکام قرار دیا گیا تھا، لیکن بعد میں جانچ پڑتال کے عمل کے ذریعے کامیاب قرار دے دیا گیا،سابق وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ سالانہ امتحانی نظام میں جانچ پڑتال کے تحت نمبروں کی دوبارہ گنتی کی جا سکتی ہے، جواب ناموں کی ازسرنو جانچ کی نہیں،دوسری جانب جامعہ کے بعض متعلقہ عہدیداروں نے مؤقف اختیار کیا کہ طلبہ کے ساتھ ناانصافی ہوئی تھی اور کمیٹی نے ان کے جوابات کا دوبارہ جائزہ لیا تھا
اس تنازعہ کے بعد امتحانات کے کنٹرولر ڈاکٹر محمد یاسر خان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا اور نئے کنٹرولر کی تقرری کی گئی،لیکن کنٹرولر کو عہدے سے ہٹانا بذات خود یہ ثابت نہیں کرتا کہ تمام متعلقہ طلبہ کے نتائج غیر قانونی تھے یا کسی مخصوص شخص نے دانستہ جعل سازی کی،اصل ضرورت ایک آزادانہ تحقیق کی ہے جو اصل جواب ناموں، نمبروں کی ابتدائی فہرستوں، تبدیل شدہ نتائج، کمیٹی کی کارروائی اور متعلقہ قواعد کا تقابلی جائزہ لے،یہ بھی ضروری ہے کہ تحقیق کی تکمیل کے بعد نتائج اور ذمہ داروں کے بارے میں واضح فیصلہ سامنے آئے،اس وقت تک کسی فرد یا طالب علم کو حتمی طور پر مجرم قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
سندھ میں امتحانی شفافیت کا سوال صرف قانون کی تعلیم تک محدود نہیں،2024 میں میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج داخلہ ٹیسٹ، یعنی ایم ڈی کیٹ، کے نتائج پر بھی سنجیدہ اعتراضات اٹھے تھے،قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت نے غیر معمولی طور پر زیادہ نمبروں پر تشویش ظاہر کی تھی،اسی سال سندھ ہائی کورٹ نے مبینہ پرچہ لیک ہونے کے الزامات کے بعد نتائج روکنے اور تحقیقات کی ہدایت دی تھی،عدالت میں پیش کیے گئے مؤقف کے مطابق 683 امیدواروں نے 200 میں سے 190 سے زیادہ نمبر حاصل کیے تھے، جن میں ایک ادارے کے 30 امیدوار بھی شامل تھے،یہ اعداد بذات خود دھاندلی کا ثبوت نہیں تھے، لیکن ان کی غیر معمولی نوعیت نے تحقیقات کی ضرورت ضرور پیدا کی
بعد ازاں پارلیمانی سطح پر بھی اس معاملے کا جائزہ لیا گیا،سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ فرانزک تحقیقات میں مبینہ طور پر امتحانی پرچہ مقررہ وقت سے تقریباً 13 گھنٹے پہلے واٹس ایپ پر شیئر ہونے کے شواہد سامنے آئے تھے،یہ ایک سنگین معاملہ تھا، کیونکہ میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لیے ہونے والے امتحانات ہزاروں طلبہ کے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں،اگر کسی امتحان کا پرچہ لیک ہو جائے تو محنت کرنے والے طلبہ کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے اور داخلوں کے پورے نظام کی ساکھ متاثر ہوتی ہے
یہاں ایک اہم اصولی سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔ اگر کسی امتحان کے نتائج پر شبہ ہو تو کیا ہر بار نئی کمیٹی، نئی جانچ پڑتال یا دوبارہ امتحان ہی واحد حل ہوگا؟ جدید امتحانی نظام میں سوالیہ پرچوں کی حفاظت، امیدواروں کی شناخت، جوابی پرچوں کی ڈیجیٹل نگرانی، نمبروں کی تبدیلی کا مکمل ریکارڈ، آزادانہ آڈٹ اور شکایات کے لیے شفاف طریقۂ کار بنیادی اہمیت رکھتے ہیں،اگر کسی امیدوار کے نمبروں میں تبدیلی کی جائے تو اس کی وجہ، منظوری اور متعلقہ دستاویزات محفوظ ہونی چاہئیں، تاکہ بعد میں یہ معلوم کیا جا سکے کہ تبدیلی جائز تھی یا قواعد سے انحراف کیا گیا
دنیا کے دوسرے ملکوں میں بھی تعلیمی اداروں اور امتحانی نظاموں کی بے ضابطگیوں کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں،لیکن ان مثالوں کو درست طور پر سمجھنے کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کہیں جعلی یونیورسٹیوں کی جانب سے اسناد جاری کی گئیں، کہیں تسلیم شدہ ادارے کے اندر امتحانی ضابطوں کی خلاف ورزی ہوئی اور کہیں امتحانی نظام کی تکنیکی غلطیوں سے ہزاروں امیدوار متاثر ہوئے
برطانیہ میں امتحانی ضابطوں کی نگرانی کرنے والے ادارے آف کوال نے فروری 2026 میں یونیورسٹی آف ویسٹ لندن پر 150,000 پاؤنڈ جرمانہ عائد کیا،سرکاری تحقیقات کے مطابق 2020 سے 2022 کے دوران ایک تیسرے فریق کے مرکز نے یونیورسٹی کی معمول کی منظوری کے عمل کے بغیر موسیقی کی بعض امتحانی اسناد تیار کیں، امتحانات منعقد کیے اور 224 امیدواروں کو اسناد جاری کیں،اسی معاملے میں تقریباً 4,300 طلبہ کو اسناد بروقت فراہم نہ کیے جانے کی شکایت بھی سامنے آئی،یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ تسلیم شدہ یونیورسٹیوں میں بھی نگرانی کی ناکامی ہو سکتی ہے، لیکن اس کے بعد ریگولیٹر نے تحقیقات کرکے مالی جرمانہ عائد کیا،یہ معاملہ شاہ عبداللطیف یونیورسٹی کے 1,184 اندراجات کی منسوخی سے یکساں نہیں، کیونکہ دونوں معاملات کے قانونی اور انتظامی حقائق مختلف ہیں
امریکہ میں بھی یونیورسٹی آف مشی گن کی جانب سے ایک سابق طالب علم کی ماسٹرز ڈگری منسوخ کیے جانے کا معاملہ عدالت تک پہنچا تھا،اس مقدمے میں الزام تھا کہ طالب علم نے اپنی تحقیق میں جعلی اعداد و شمار استعمال کیے تھے،1987 میں امریکی اپیل کورٹ نے ڈگری منسوخ کرنے کے یونیورسٹی کے اختیار اور اختیار کیے گئے طریقۂ کار کو تسلیم کیا،اس مثال سے یہ اصول سامنے آتا ہے کہ کسی ڈگری کی منسوخی ممکن ہے، لیکن اس کے لیے متعلقہ شواہد، مناسب کارروائی اور قانونی تقاضوں کی پابندی ضروری ہے
بھارت میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن جعلی یونیورسٹیوں کی فہرست جاری کرتا ہے اور غیر مجاز اداروں کے خلاف کارروائی کے لیے ریاستی حکومتوں کو ہدایات دیتا ہے،بھارتی وزارت تعلیم نے اگست 2026 میں پارلیمان کو بتایا کہ کمیشن کی فروری 2026 کی فہرست میں 32 جعلی یونیورسٹیاں شامل تھیں،تاہم، جعلی اداروں کی فہرست میں نام آنے کا مطلب یہ نہیں کہ کسی تسلیم شدہ سرکاری یونیورسٹی نے ایک ہی کارروائی میں 1,184 ایل ایل بی اندراجات منسوخ کیے ہوں،
ان بین الاقوامی مثالوں کا اصل سبق یہ ہے کہ تعلیمی بے ضابطگیوں کا مقابلہ محض بیانات یا انتظامی تبادلوں سے نہیں کیا جا سکتا،ضروری ہے کہ ادارے اپنی غلطیوں کی نشاندہی کریں، ذمہ داروں کا تعین کریں، متاثرہ طلبہ کو قانونی تحفظ دیں اور مستقبل میں ایسی بے ضابطگیوں کو روکنے کے لیے قابلِ جانچ نظام قائم کریں
اس تمام بحث کے دوران پاکستان بار کونسل کے رکن اور جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے رکن احسن بھون کی قانون کی ڈگری سے متعلق تنازعہ بھی سامنے آیا،سابق رکن قومی اسمبلی اور پنجاب کے وزیراعلی مریم نواز کے شوہر ریٹائرڈ کیپٹن محمد صفدر نے ان کی تعلیمی اسناد کی تصدیق کا مطالبہ کیا تھا، جو تاحال جاری ہے
اعلیٰ عوامی اور پیشہ ورانہ عہدوں پر فائز افراد کی اسناد کی تصدیق کا طریقۂ کار شفاف ہونا چاہیے اور اگر کسی شہری کو اعتراض ہو تو اس کی آزادانہ جانچ کے لیے واضح راستہ موجود ہونا چاہیے،
شاہ عبداللطیف یونیورسٹی اور کراچی یونیورسٹی کے معاملات میں بھی یہی معیار لاگو ہونا چاہیے،اگر 1,184 اندراجات غیر قانونی تھے تو یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ ان کے پیچھے کون سا انتظامی نظام ناکام ہوا






