پاکستان میں سڑکیں موت کا جال کیوں بن رہی ہیں؟ ہر سال ہزاروں جانیں ضائع، ذمہ داروں کی سزا اور احتساب پر سوالات
پاکستان میں ٹریفک حادثات روزانہ انسانی جانیں نگل رہے ہیں کبھی مسافر بس کھائی میں جا گرتی ہے، کبھی تیز رفتار ٹرک بچوں کو کچل دیتا ہے اور کبھی موٹر سائیکل پر سفر کرنے والا پورا خاندان حادثے کا شکار ہو جاتا ہے چند دن بعد ایک نیا حادثہ خبروں میں آ جاتا ہے، مگر بنیادی سوال وہی رہتا ہے کہ ان حادثات کو روکنے کے لیے مستقل اقدامات کیوں نہیں کیے جاتے اور انسانی جانوں کے ضیاع کے ذمہ داروں کا احتساب کس حد تک ہوتا ہے؟
17 اکتوبر 2026 کو خیبر پختونخوا کے اضلاع بونیر اور چارسدہ میں پیش آنے والے حادثات میں 9 افراد ہلاک اور 21 زخمی ہوئے بونیر کے باباجی کنڈاؤ کے علاقے میں ایک مسافر کوچ گہری کھائی میں جا گری، جس سے 5 مسافر ہلاک اور 17 زخمی ہوئے چارسدہ میں الگ الگ حادثات کے دوران 4 افراد جان سے گئے ان میں 2 بچے بھی شامل تھے جنہیں ترناب روڈ کے قریب ایک ٹرک نے ٹکر ماری، جبکہ ایک دوسرے حادثے میں باپ اور بیٹا موٹر سائیکل اور ٹرک کے تصادم میں ہلاک ہو گئے یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ سڑکوں پر خطرات صرف ڈرائیوروں تک محدود نہیں بلکہ بچوں، پیدل چلنے والوں اور عام مسافروں کی زندگیاں بھی مسلسل خطرے میں ہیں
پاکستان میں سڑک حادثات سے ہونے والی اموات کے اعداد و شمار میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے، کیونکہ تمام حادثات اور اموات کا اندراج ایک ہی مربوط قومی نظام میں نہیں ہوتا اس لیے کسی ایک سرکاری عدد کو ملک میں ہونے والی تمام اموات کی مکمل تصویر نہیں سمجھنا چاہیے
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے شائع کردہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2022 اور 2023 میں ملک بھر میں 9,008 سڑک حادثات رپورٹ ہوئے، جن میں 5,286 افراد ہلاک اور 10,937 زخمی ہوئے یہ پولیس اور متعلقہ اداروں کے ریکارڈ میں آنے والے حادثات تھے، نہ کہ لازماً ملک میں ہونے والے تمام حادثات کی مکمل تعداد
دوسری جانب عالمی ادارۂ صحت کے 2023 کے روڈ سیفٹی پروفائل اور اس سے متعلق عالمی تخمینوں کے مطابق پاکستان میں 2021 کے دوران سڑک حادثات سے تقریباً 28,000 اموات ہوئیں ایشیائی ٹرانسپورٹ آبزرویٹری نے بھی واضح کیا ہے کہ عالمی تخمینے اور پاکستان کے قومی اعداد و شمار میں بڑا فرق موجود ہے بعض دوسرے تحقیقی تخمینے اس سے بھی زیادہ اموات ظاہر کرتے ہیں
ان اعداد و شمار کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں حادثات سے ہونے والی اموات کی حقیقی تعداد سرکاری طور پر رپورٹ ہونے والی تعداد سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے تاہم 5,286 سرکاری طور پر درج اموات اور 28,000 کے عالمی تخمینے کو ایک ہی سال کے یکساں ریکارڈ کے طور پر پیش کرنا درست نہیں، کیونکہ ان کے سال اور طریقۂ شمار مختلف ہیں
پاکستان میں پولیس، صوبائی ٹریفک اداروں، ریسکیو سروسز، اسپتالوں اور موٹروے پولیس کے اعداد و شمار الگ الگ نظاموں کے تحت جمع کیے جاتے ہیں کسی حادثے میں زخمی ہونے والا شخص اگر کئی دن بعد اسپتال میں دم توڑ دے تو ممکن ہے اس کی موت حادثے کے ابتدائی ریکارڈ میں شامل نہ ہو دور دراز علاقوں میں پیش آنے والے واقعات اور ایسے حادثات جن کی باقاعدہ رپورٹ درج نہیں ہوتی، وہ بھی مجموعی اعداد و شمار سے باہر رہ سکتے ہیں
جون 2025 میں ایشیا پیسیفک روڈ سیفٹی آبزرویٹری نے پاکستان میں سڑک حادثات کے ریکارڈ اور رپورٹنگ کے نظام کا جائزہ شائع کیا، جس میں ڈیٹا کو بہتر طور پر جمع کرنے اور مختلف اداروں کے ریکارڈ میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت اجاگر کی گئی جب حکومت کو ہی یہ معلوم نہ ہو کہ کتنے افراد کہاں، کن حالات میں اور کس نوعیت کے حادثات میں ہلاک ہوئے تو مؤثر پالیسی بنانا اور ذمہ داری کا تعین کرنا مشکل ہو جاتا ہے
ٹریفک حادثات کی ایک بڑی وجہ تیز رفتاری اور لاپرواہ ڈرائیونگ ہے پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس نے بھی تیز رفتاری، خطرناک انداز میں دوسری گاڑیوں سے آگے نکلنے اور غیر محتاط ڈرائیونگ کو حادثات کی اہم وجوہات میں شمار کیا ہے موٹر سائیکل سواروں کا ہیلمٹ استعمال نہ کرنا، غلط سمت میں گاڑی چلانا، دوران ڈرائیونگ موبائل فون استعمال کرنا اور ٹریفک اشاروں کی خلاف ورزی بھی جان لیوا خطرات پیدا کرتی ہے
مسافر بسوں اور مال بردار گاڑیوں کے معاملات میں خطرات مزید بڑھ جاتے ہیں طویل ڈیوٹی کے باعث ڈرائیوروں کی تھکن، گاڑیوں کی ناقص مرمت، خراب ٹائر، ناکارہ بریک، مقررہ حد سے زیادہ مسافر یا سامان، اور غیر تربیت یافتہ ڈرائیور کسی معمولی غلطی کو بڑے سانحے میں تبدیل کر سکتے ہیں
اس کے ساتھ سڑکوں کی ناقص حالت، مناسب روشنی کی کمی، خطرناک موڑ، حفاظتی رکاوٹوں کا نہ ہونا اور سڑک کے کناروں پر غیر محفوظ پیدل راستے بھی حادثات کی شدت بڑھاتے ہیں پہاڑی علاقوں میں گہری کھائیاں اور تنگ سڑکیں خطرات میں مزید اضافہ کرتی ہیں بونیر جیسے علاقوں میں مسافر گاڑی کا کھائی میں گرنا اس بات کی یاد دہانی ہے کہ صرف ڈرائیور کو قصوروار ٹھہرانے کے بجائے گاڑی کی حالت، رفتار، سڑک کے ڈیزائن اور حفاظتی انتظامات کی بھی تحقیقات ہونی چاہییں
ایک اور مسئلہ کم عمر اور غیر لائسنس یافتہ ڈرائیوروں کا ہے لاہور میں اگست 2026 میں ٹریفک پولیس نے تقریباً 348,000 تجارتی گاڑیوں کے ڈرائیوروں کے ریکارڈ کی جانچ شروع کرنے کا اعلان کیا متعلقہ حکام کے مطابق تجارتی اور عوامی سواریوں کے ڈرائیوروں کے ریکارڈ، لائسنس اور سابقہ خلاف ورزیوں کی جانچ کو حادثات کی روک تھام کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے اس اقدام سے یہ سوال بھی سامنے آتا ہے کہ ڈرائیوروں کی اہلیت اور گاڑیوں کی فٹنس کی جانچ پہلے سے زیادہ مؤثر کیوں نہیں بنائی گئی تھی
یہ کہنا درست نہیں کہ پاکستان میں ٹریفک حادثات کے کسی ذمہ دار کو کبھی سزا نہیں ہوئی قانونی ریکارڈ میں ایسے مقدمات موجود ہیں جن میں ڈرائیوروں کو قید اور متاثرہ خاندانوں کو دیت ادا کرنے کی سزا سنائی گئی تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر حادثے کے بعد گرفتاری یا مقدمہ درج ہونا، مجرم ثابت ہونے اور سزا ملنے کے برابر نہیں ہے
پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 279 کے تحت عوامی سڑک پر خطرناک یا لاپرواہ ڈرائیونگ قابل سزا جرم ہے اس دفعہ کے تحت قید، جرمانہ یا دونوں کی سزا ہو سکتی ہے دفعہ 320 کے تحت لاپرواہ یا غفلت پر مبنی ڈرائیونگ سے موت واقع ہونے پر حالات کے مطابق دیت کے علاوہ 10 سال تک قید کی سزا بھی دی جا سکتی ہے زخمی ہونے کی صورت میں دفعہ 337-G سمیت متعلقہ قانونی دفعات لاگو ہو سکتی ہیں
لیکن ان قانونی دفعات کی موجودگی خود بخود انصاف کی ضمانت نہیں بنتی استغاثہ کو ثابت کرنا ہوتا ہے کہ گاڑی کون چلا رہا تھا، حادثہ کیسے ہوا، ڈرائیور کی غفلت کیا تھی اور اس غفلت کا موت یا چوٹ سے کیا تعلق تھا اگر پولیس جائے حادثہ کے شواہد محفوظ نہ کرے، گواہوں کے بیانات درست طور پر درج نہ ہوں، گاڑی کی تکنیکی جانچ نہ ہو یا مقدمے کی تفتیش میں خامیاں رہ جائیں تو ملزم کو فائدہ مل سکتا ہے
اس کی ایک مثال بلوچستان ہائی کورٹ کا ایک مقدمہ ہے جس میں ٹرک اور ٹریلر کے حادثے میں 4 افراد ہلاک ہوئے تھے ٹرائل کورٹ نے ڈرائیور کو سزا سنائی، لیکن اپیل میں عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ نے خطرناک ڈرائیونگ ثابت کرنے کے لیے ضروری شواہد پیش نہیں کیے تھے گواہوں کے بیانات اور گاڑیوں کی تکنیکی جانچ میں خامیوں کی وجہ سے سزا ختم کر کے ملزم کو بری کر دیا گیا اس مقدمے سے واضح ہوتا ہے کہ سنگین حادثے کے باوجود سزا برقرار رکھنے کے لیے مضبوط اور قابل اعتماد تفتیش ضروری ہے
اس کے برعکس ایک دوسرے مقدمے میں عدالت نے لاپرواہ ڈرائیونگ سے 3 افراد کی ہلاکت پر ڈرائیور کو ایک ایک سال قید اور ہر جاں بحق شخص کے خاندان کو دیت ادا کرنے کی سزا سنائی تھی یہ مثالیں بتاتی ہیں کہ سزائیں دی بھی جاتی ہیں اور بعض مقدمات میں شواہد کی کمی یا قانونی وجوہات کی بنا پر سزائیں ختم بھی ہو جاتی ہیں
یہ ایک اہم سوال ہے کہ ہر سال ٹریفک حادثات میں کتنے مقدمات درج ہوتے ہیں، کتنے ملزمان گرفتار کیے جاتے ہیں، کتنے مقدمات عدالتوں میں پہنچتے ہیں، کتنے افراد کو سزا ہوتی ہے اور کتنے بری ہو جاتے ہیں دستیاب عوامی اعداد و شمار میں ان تمام مراحل کا ایک مربوط اور تازہ قومی ریکارڈ سامنے نہیں آتا اس لیے یہ دعویٰ کرنا ممکن نہیں کہ تمام ذمہ داروں کو سزا ملتی ہے یا کسی کو سزا نہیں ملتی
حکومت کو چاہیے کہ پولیس، پراسیکیوشن، عدالتوں، ریسکیو اداروں اور اسپتالوں کا ڈیٹا ایک نظام میں جمع کرے ہر بڑے حادثے کی تحقیقات، درج مقدمے، چالان، عدالتی فیصلے، سزا یا بریت اور متاثرہ خاندان کو دی جانے والی دیت یا معاوضے کی تفصیل عوام کے سامنے رکھی جانی چاہیے اس سے معلوم ہو سکے گا کہ انصاف کہاں رکتا ہے اور کون سا ادارہ اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہا
حادثات روکنے کے لیے کیا کرنا ہوگا؟
سب سے پہلے مسافر بسوں، ٹرکوں اور دیگر تجارتی گاڑیوں کی فٹنس کی باقاعدہ جانچ ضروری ہے ڈرائیوروں کے لائسنس، تربیت، کام کے اوقات اور سابقہ خلاف ورزیوں کا ریکارڈ بھی چیک کیا جانا چاہیے بار بار تیز رفتاری یا خطرناک ڈرائیونگ کرنے والوں کے خلاف صرف جرمانہ کافی نہیں، بلکہ قانون کے مطابق لائسنس معطل کرنے اور سنگین خلاف ورزیوں پر فوجداری کارروائی کی ضرورت ہے
دوسرا، خطرناک سڑکوں اور موڑوں کی نشاندہی کر کے وہاں حفاظتی رکاوٹیں، مناسب روشنی، واضح نشانات اور رفتار محدود کرنے کے انتظامات کیے جائیں اسکولوں، بازاروں اور آبادی والے علاقوں میں بچوں اور پیدل چلنے والوں کے تحفظ کے لیے محفوظ گزرگاہیں بنائی جائیں
تیسرا، ہر بڑے حادثے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں اگر ڈرائیور کی غفلت ثابت ہو تو اسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے اگر گاڑی کی ناقص مرمت، مالک کی جانب سے غیر محفوظ گاڑی چلانے کی اجازت، یا متعلقہ حکام کی غفلت حادثے کا سبب بنی ہو تو اس پہلو کی بھی تحقیقات ہونی چاہییں کسی شخص کو صرف اس کے عہدے، دولت یا تعلقات کی وجہ سے رعایت نہیں ملنی چاہیے، لیکن کسی کو صرف حادثہ پیش آنے کی بنیاد پر شواہد کے بغیر مجرم بھی قرار نہیں دیا جا سکتا
پاکستان میں ٹریفک حادثات کو محض قسمت یا بدقسمتی قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہر حادثے کے پیچھے کوئی انسانی غلطی، گاڑی کی خرابی، سڑک کا خطرہ یا حفاظتی نظام کی ناکامی ہو سکتی ہے جب تک ان وجوہات کی درست نشاندہی، قانون پر یکساں عمل درآمد اور عدالتی فیصلوں کے اعداد و شمار عوام کے سامنے نہیں آئیں گے، تب تک حادثات کی اصل وجوہات اور احتساب کی کمزوریوں کو سمجھنا مشکل رہے گا
اصل سوال صرف یہ نہیں کہ پاکستان میں ہر سال کتنے لوگ سڑکوں پر ہلاک ہوتے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ان اموات میں سے کتنی قابلِ روک تھام تھیں اور کتنے سانحات کے بعد نظام نے اپنی غلطیوں سے سبق سیکھا انسانی جانوں کے تحفظ کو حکومتی ترجیح بنائے بغیر، صرف حادثے کے بعد امدادی کارروائی کرنا کافی نہیں ہوگا






