Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پاکستان میں حقیقی تبدیلی کے لیے سیاست سے سکیورٹی اداروں کی مداخلت ختم کرنا ضروری ہے

پاکستان میں حقیقی تبدیلی کے لیے سیاست سے سکیورٹی اداروں کی مداخلت ختم کرنا ضروری ہے

پاکستان میں حکمرانی کے بحران کا حقیقی حل صرف ہنگامی اقدامات، انتظامی تبدیلیوں یا طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ آئین کی بالادستی، شفاف انتخابات، آزاد عدلیہ اور صوبائی خودمختاری میں پوشیدہ ہے سابق پولیس افسر طارق کھوسہ کے مطابق ملک میں پائیدار تبدیلی اسی وقت ممکن ہے جب سکیورٹی ادارے سیاسی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں اور تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں
پاکستان میں حکومتی نظام کو بہتر بنانے کے نام پر کیے جانے والے اقدامات پر سوال اٹھاتے ہوئے طارق کھوسہ نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ہنگامی حالت کے نفاذ کے فیصلے کو سیاسی اور سکیورٹی معاملات کے باہمی تعلق کی مثال قرار دیا ہے ان کے مطابق صوبے میں تحریک انصاف کی حکومت کو ہٹانے کے لیے سکیورٹی کی صورتحال کو بنیاد بنایا گیا، حالانکہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر مؤثر حکمت عملی کی ضرورت ہے
خیبر پختونخوا میں تحریک طالبان پاکستان کی کارروائیوں، خصوصاً افغانستان کی سرحد سے ملحقہ اضلاع میں بڑھتے ہوئے خطرات نے امن و امان کی صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے فوجی کارروائیوں اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور آبادی کی نقل مکانی کے خدشات بھی سامنے آتے رہے ہیں قبائلی جرگوں اور مختلف سیاسی فورمز نے ان کارروائیوں کے طریقہ کار پر اعتراضات اٹھائے ہیں اور مطالبہ کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی میں مقامی آبادی کے تحفظ اور اعتماد کو بنیادی اہمیت دی جائے
مضمون میں بلوچستان کی صورتحال کو بھی نمایاں کیا گیا ہے، جہاں مسلح شورش اور ریاستی اداروں پر حملوں کے باعث سکیورٹی کے مسائل سنگین ہیں مصنف سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر کسی صوبے میں خراب امن و امان گورنر راج یا ہنگامی حالت کے نفاذ کی وجہ بن سکتا ہے تو بلوچستان میں بھی ایسے ہی اقدامات کیوں نہیں کیے گئے ان کے نزدیک اس فرق کی ایک وجہ یہ ہے کہ بلوچستان کی صوبائی حکومت مقتدر حلقوں کے زیادہ قریب سمجھی جاتی ہے یہ مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سکیورٹی کے فیصلوں میں سیاسی وابستگی کے بجائے یکساں اصولوں کا اطلاق ضروری ہے
طارق کھوسہ کے مطابق پاکستان کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ آئینی اصولوں پر قائم جمہوری ریاست بننا چاہتا ہے یا ایسا سکیورٹی پر مبنی نظام برقرار رکھنا چاہتا ہے جس میں سیاست، عدلیہ، معیشت اور داخلی معاملات پر طاقتور اداروں کا اثر غالب رہے ان کے نزدیک ریاست کی اصل طاقت محض خوف اور جبر سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ عوام کے اعتماد، مشترکہ اقدار اور قانون کی یکساں عمل داری سے جنم لیتی ہے
حقیقی تبدیلی کے لیے مصنف نے چند بنیادی اصلاحات پر زور دیا ہے ان کے مطابق سب سے پہلے آزادانہ اور شفاف انتخابات کے ذریعے عوامی نمائندگی کو یقینی بنانا ہوگا جب انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھتے رہیں تو حکومت کی ساکھ متاثر ہوتی ہے اور سیاسی استحکام حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے اسی لیے ایک آزاد اور خودمختار الیکشن کمیشن اور عوامی مینڈیٹ کا احترام ضروری ہے
دوسری اہم ضرورت صوبائی خودمختاری اور مضبوط بلدیاتی نظام ہے پاکستان کے آئین 1973 میں صوبوں کو دیے گئے اختیارات پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد ہونا چاہیے تاکہ فیصلے صرف وفاقی دارالحکومت تک محدود نہ رہیں اور مقامی مسائل کے حل میں صوبوں اور منتخب بلدیاتی اداروں کا کردار مضبوط ہو
تیسری اصلاح عدلیہ کی آزادی سے متعلق ہے عدالتوں کو سیاسی دباؤ سے آزاد ہو کر کام کرنے کا موقع ملنا چاہیے اور عدالتی احکامات پر بلاامتیاز عمل درآمد ہونا چاہیے مصنف کے مطابق اگر حکمران یا ریاستی ادارے عدالتی فیصلوں کو نظرانداز کریں تو قانون کی بالادستی کا تصور کمزور پڑ جاتا ہے اور سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے
چوتھی ضرورت خفیہ اداروں کے کردار اور اختیارات کو واضح قانونی دائرے میں لانا ہے مصنف کا مؤقف ہے کہ ان اداروں کی کارکردگی پر پارلیمانی نگرانی ہونی چاہیے اور قانون سازی کے ذریعے یہ طے کیا جانا چاہیے کہ داخلی اور بیرونی سلامتی کے معاملات میں ان کے اختیارات کیا ہیں کسی بھی ادارے کو غیر محدود اختیارات حاصل نہیں ہونے چاہییں، کیونکہ جواب دہی کے بغیر طاقت کا استعمال جمہوری نظام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے
دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے بھی مضمون میں طویل مدتی حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے فوجی کارروائیاں بعض حالات میں ضروری ہو سکتی ہیں، لیکن ان کے ساتھ سیاسی مذاکرات، مقامی آبادی کی شمولیت، معاشی ترقی، تعلیم اور انتہا پسندی کے اسباب کے خاتمے کے لیے اقدامات بھی ہونے چاہییں صرف طاقت کے ذریعے مستقل امن قائم کرنا مشکل ہے، خصوصاً ایسے علاقوں میں جہاں عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد کمزور ہو چکا ہو
مصنف کے نزدیک پاکستان میں حقیقی اصلاحات کی سب سے اہم شرط یہ ہے کہ سکیورٹی اسٹیٹ کا تصور سیاست پر غالب نہ رہے اگر انتخابات شفاف ہوں، عدلیہ آزاد ہو، صوبوں کو آئینی اختیارات حاصل ہوں اور تمام ادارے قانون کے تابع ہوں تو ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد بحال ہونے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں
پاکستان کو درپیش بحران کا حل کسی ایک سیاسی جماعت کو کمزور کرنے یا کسی دوسرے گروہ کو اقتدار میں رکھنے سے نہیں نکلے گا پائیدار استحکام اسی وقت ممکن ہے جب اقتدار کا سرچشمہ عوام کا ووٹ ہو، اختلاف رائے کو دشمنی نہ سمجھا جائے اور ریاستی طاقت آئین اور قانون کی پابند ہو

قومی خبریں سے مزید