Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

امریکی ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکنز کی مشکلات بڑھنے لگیں، مزید 11 نشستوں کے انتخابی جائزے ڈیموکریٹس کے حق میں تبدیل، ڈیموکریٹ کو کانگریس میں دوسو چالیس نشستیں مل سکتی ہیں

امریکی ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکنز کی مشکلات بڑھنے لگیں، مزید 11 نشستوں کے انتخابی جائزے ڈیموکریٹس کے حق میں تبدیل، ڈیموکریٹ کو کانگریس میں دوسو چالیس نشستیں مل سکتی ہیں

واشنگٹن: امریکا میں نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکن پارٹی کے لیے ایوانِ نمائندگان میں اپنی معمولی اکثریت برقرار رکھنا مزید مشکل ہوتا دکھائی دے رہا ہے،معروف غیر جماعتی انتخابی تجزیاتی ادارے کُک پولیٹیکل رپورٹ نے مزید 11 انتخابی حلقوں کے بارے میں اپنی درجہ بندی ڈیموکریٹس کے حق میں تبدیل کر دی ہے،اس تازہ جائزے سے ان حلقوں میں ریپبلکن امیدواروں کی پوزیشن کمزور ہونے اور انتخابی مقابلے میں ڈیموکریٹس کے لیے امکانات بڑھنے کی نشاندہی ہوتی ہے
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق کُک پولیٹیکل رپورٹ نے پانچ ایسے حلقوں کو، جہاں ریپبلکن امیدواروں کی پوزیشن نسبتاً مضبوط سمجھی جا رہی تھی، ’’ریپبلکنز کی جانب جھکاؤ‘‘ کے درجے میں منتقل کر دیا ہے، جبکہ تین حلقوں کو ’’یقینی ریپبلکن‘‘ سے کم کرکے ’’غالباً ریپبلکن‘‘ کے درجے میں رکھا ہے،ان تبدیلیوں میں اوہائیو کے دو حلقوں سمیت جنوبی کیرولائنا، کنساس اور نیبراسکا کے حلقے شامل ہیں،یہ وہ ریاستیں ہیں جہاں روایتی طور پر ریپبلکن پارٹی کو برتری حاصل رہی ہے، لیکن اب وہاں بھی انتخابی مقابلے کی شدت بڑھ رہی ہے
رپورٹ کے مطابق مونٹانا کے پہلے کانگریشنل ضلع میں مقابلہ اب برابر کی ٹکر قرار دیا گیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2024 کے صدارتی انتخاب میں یہ ضلع 12 فیصد پوائنٹس کی برتری سے جیتا تھا، لیکن تازہ جائزے میں ریپبلکن امیدوار کی برتری برقرار رہنے کے بارے میں غیر یقینی بڑھ گئی ہے،دوسری جانب اوہائیو میں ڈیموکریٹ رکن کانگریس گریگ لینڈز مین کے حلقے کو ’’ڈیموکریٹس کی جانب جھکاؤ‘‘ سے بڑھا کر ’’غالباً ڈیموکریٹس‘‘ کے درجے میں رکھا گیا ہے، جبکہ فلوریڈا کے نئے انتخابی ضلع میں ڈیموکریٹ رکن کانگریس جیرڈ موسکووٹز کی دوبارہ کامیابی کے امکانات بھی بہتر قرار دیے گئے ہیں
کُک پولیٹیکل رپورٹ کی انتخابی تجزیہ کار ایرن کووی کے مطابق ان تبدیلیوں کی ایک بڑی وجہ معاشی معاملات پر ریپبلکنز کی کارکردگی سے ووٹروں میں بڑھتی ہوئی بے اطمینانی ہے،رپورٹ اس رجحان کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ ماضی میں سابق صدر باراک اوباما کی حمایت کرنے والے اور بعد میں ریپبلکنز کی طرف منتقل ہونے والے بعض حلقوں میں اب دوبارہ سخت انتخابی مقابلے کی صورت حال پیدا ہو رہی ہے
یہ تازہ جائزہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ ریپبلکنز اپنی محدود برتری برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں،تاہم انتخابی درجہ بندی میں تبدیلی حتمی نتائج کی ضمانت نہیں، اور اصل فیصلہ ووٹنگ کے دن ووٹروں کے انتخاب سے ہوگا
16 اکتوبر 2026 کے جائزے کے مطابق، کانگریس کی 435 نشستوں میں 214 ڈیموکریٹس اور 200 ریپبلکنز کے حق میں ہیں، جبکہ 21 نشستیں سخت مقابلے میں ہیں؛ باقی 6 نشستوں کی درجہ بندی اس خلاصے میں شامل نہیں
دوسری جانب، پولنگ فورکاسٹ کے 14 اکتوبر کے ماڈل نے ڈیموکریٹس کو 231 اور ریپبلکنز کو 204 نشستیں دی ہیں، یعنی ڈیموکریٹس کو ایوان میں اکثریت ملنے کا امکان ہے
کک کے 16 اکتوبر 2026 کے تازہ جائزے میں 21 سخت مقابلے والی نشستوں میں سے 16 ریپبلکنز اور 5 ڈیموکریٹس کو مل سکتی ہیں

قومی خبریں سے مزید