بلوچستان میں دہائیوں سے جاری شورش، صرف طاقت کے استعمال سے امن قائم نہیں ہو سکتا
پاکستان کے صوبے بلوچستان میں کئی دہائیوں سے جاری شورش حالیہ برسوں میں مزید شدت اختیار کر گئی ہے سابق پولیس افسر اور نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی کے پہلے قومی رابطہ کار طارق پرویز نے اپنے مضمون میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ بلوچستان میں تشدد پر قابو پانے کے لیے صرف فوجی کارروائیاں کافی نہیں، بلکہ سیاسی مسائل، مقامی آبادی کی شکایات اور مذاکرات کو بھی حکمت عملی کا بنیادی حصہ بنانا ضروری ہے
مضمون کے مطابق، جولائی 2026 میں بلوچستان ملک کا سب سے زیادہ تشدد سے متاثرہ صوبہ بن گیا اور اس حوالے سے خیبر پختونخوا بھی پیچھے رہ گیا بعض ذرائع کے اعداد و شمار کے مطابق، جولائی میں بلوچستان میں 176 دہشت گرد حملے ہوئے جن میں 438 افراد ہلاک ہوئے ہلاک ہونے والوں میں 127 سکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے یہ تعداد ایک ماہ کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کے حوالے سے غیر معمولی طور پر زیادہ بتائی گئی ہے
طارق پرویز کے مطابق، مسلسل بڑھتے ہوئے تشدد سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطرے کی نوعیت اور اس سے نمٹنے کے لیے اختیار کیے گئے اقدامات میں فرق موجود ہے ان کا کہنا ہے کہ کئی دہائیوں سے طاقت کے استعمال کے باوجود شورش ختم نہیں ہو سکی، اس لیے موجودہ حکمت عملی کا دوبارہ جائزہ لینا ضروری ہے
مضمون میں انسداد شورش کے عالمی تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کامیاب حکمت عملی میں فوجی کارروائی اور سیاسی اقدامات کے درمیان توازن ضروری ہوتا ہے طاقت کے استعمال سے بعض اوقات مذاکرات کے لیے حالات پیدا کیے جا سکتے ہیں، لیکن دیرپا امن کے لیے سیاسی حل، عوامی حمایت اور مقامی آبادی کے اعتماد کا حصول بنیادی اہمیت رکھتا ہے
مصنف کے مطابق، بلوچستان کی صورتحال کے بارے میں ریاستی اداروں اور بلوچ سیاسی قیادت کے درمیان بنیادی اختلاف موجود ہے اختر مینگل اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ سمیت بعض بلوچ سیاسی رہنما اس شورش کو بنیادی طور پر سیاسی مسئلہ سمجھتے ہیں اور مذاکرات، سیاسی مفاہمت اور مقامی شکایات کے ازالے پر زور دیتے ہیں
اس کے برعکس ریاستی اور فوجی مؤقف میں بیرونی خفیہ اداروں کی مبینہ معاونت اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں کو شورش کا اہم سبب قرار دیا جاتا ہے ریاستی مؤقف کے مطابق، بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے مسلح گروہ بلوچستان میں تشدد اور عدم استحکام کو ہوا دیتے ہیں مصنف تسلیم کرتے ہیں کہ شورش میں بیرونی معاونت کے شواہد موجود ہیں، لیکن ان کے مطابق تمام مسئلے کو بیرونی مداخلت تک محدود کر دینا مقامی شکایات کی اہمیت کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہوگا
مضمون میں بلوچستان کی شورش کی تاریخ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے مصنف کے مطابق، 1948 میں ریاست قلات کے پاکستان سے الحاق، 1958 میں ون یونٹ کے قیام اور خان آف قلات کی گرفتاری، 1960 کی دہائی میں مرکزی اختیارات میں اضافے اور فوجی چھاؤنیوں کے قیام، اور 1973 میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کی جانب سے نیشنل عوامی پارٹی کی صوبائی حکومت برطرف کیے جانے جیسے واقعات نے مختلف ادوار میں شورش کو جنم دینے یا بڑھانے میں کردار ادا کیا
طارق پرویز کا کہنا ہے کہ موجودہ شورش 20 سال سے زیادہ عرصے سے جاری ہے اتنے طویل عرصے تک کسی مسلح تحریک کے برقرار رہنے کے لیے مقامی سطح پر نئے افراد کی بھرتی، قیادت اور معاون نیٹ ورک کی ضرورت ہوتی ہے ان کے مطابق، اس پہلو کو نظر انداز کرکے مسئلے کو صرف بیرونی سازش قرار دینا زمینی حقائق کو مکمل طور پر سمجھنے میں رکاوٹ بن سکتا ہے
مصنف نے 2015 میں شروع کیے گئے پرامن بلوچستان منصوبے کی مثال بھی دی ہے اس منصوبے میں مسلح گروہوں سے مذاکرات، ترقیاتی منصوبے اور بعض شرائط کے تحت ہتھیار ڈالنے والوں کے لیے عام معافی جیسے اقدامات شامل تھے اس وقت کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے براہمداغ بگٹی سمیت مختلف رہنماؤں سے رابطے کیے اور مذاکرات کے امکانات تلاش کیے، لیکن ڈاکٹر مالک کی مدت ختم ہونے کے بعد یہ کوشش آگے نہ بڑھ سکی۔ مصنف کے مطابق، سیاسی حمایت اور مستقل حکومتی توجہ کی کمی کے باعث یہ منصوبہ اپنی پوری صلاحیت کے مطابق جاری نہ رہ سکا
مضمون میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ اگر بلوچستان کی شورش کو صرف بیرونی سرپرستی میں ہونے والی جنگ سمجھا جائے تو ریاستی ردعمل زیادہ تر سکیورٹی کارروائیوں تک محدود رہتا ہے لیکن اگر مقامی آبادی کی شکایات، سیاسی محرومی، اختیارات کی تقسیم اور اعتماد کے فقدان کو بھی مسئلے کا حصہ تسلیم کیا جائے تو مذاکرات اور سیاسی اصلاحات کے لیے زیادہ گنجائش پیدا ہو سکتی ہے
بلوچستان قدرتی وسائل، معدنیات، توانائی اور جغرافیائی اہمیت کے لحاظ سے پاکستان کا اہم صوبہ ہے تاہم، طویل عرصے سے جاری بدامنی نے مقامی آبادی کی زندگی، ترقیاتی سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور ریاستی اداروں کے ساتھ تعلقات کو متاثر کیا ہے دیرپا امن کے لیے سکیورٹی کے ساتھ ساتھ تعلیم، روزگار، بنیادی سہولتوں، سیاسی نمائندگی اور قانون کی حکمرانی پر بھی توجہ ضروری ہے
طارق پرویز کے مطابق، بلوچستان میں شورش کے بارے میں ریاست کی بنیادی تشخیص پر نظرثانی کرنا وقت کی ضرورت ہے اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس تنازعے کو مکمل طور پر بیرونی سرپرستی میں جاری پراکسی جنگ سمجھا جائے یا اسے مقامی ناراضی اور سیاسی محرومی سے پیدا ہونے والا ایسا مسئلہ بھی تسلیم کیا جائے جسے بیرونی قوتیں اپنے مفادات کے لیے استعمال کر رہی ہیں
مصنف کا مؤقف ہے کہ بلوچستان میں پائیدار امن کے لیے طاقت کے استعمال، سیاسی مذاکرات اور مقامی آبادی کی حمایت کے درمیان توازن پیدا کرنا ہوگا بصورت دیگر، موجودہ حکمت عملی کے تحت شورش کے مزید طویل ہونے اور تشدد کے مستقل سلسلے میں تبدیل ہونے کا خطرہ برقرار رہے گا





