Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

کارنی کی البرٹا کے عوام سے اپیل، کینیڈا کے مستقبل کا فیصلہ سمجھ کر ووٹ دیں

کارنی کی البرٹا کے عوام سے اپیل، کینیڈا کے مستقبل کا فیصلہ سمجھ کر ووٹ دیں

کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے البرٹا کے شہر کیلگری میں کینیڈا کی وحدت کے حق میں منعقدہ ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے صوبے کے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ 19 اکتوبر کو ہونے والے ریفرنڈم میں سوچ سمجھ کر ووٹ ڈالیں انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ صرف البرٹا کا نہیں بلکہ پورے کینیڈا کے مستقبل پر اثر انداز ہو سکتا ہے
15 اکتوبر کو ہونے والے اس جلسے میں کینیڈا کے ساتھ البرٹا کے تعلق کو برقرار رکھنے کے حامیوں نے شرکت کی شرکا نے کینیڈا کے پرچم اٹھا رکھے تھے اور قومی اتحاد کے حق میں نعرے لگائے کارنی نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں کینیڈا کا متحد رہنا انتہائی اہم ہے اور عوام کو ووٹ دیتے وقت ملک کے طویل مدتی مفادات کو سامنے رکھنا چاہیے
وزیر اعظم نے خبردار کیا کہ دنیا میں سیاسی کشیدگی اور تقسیم بڑھ رہی ہے ان کے مطابق، بیرونی قوتیں کینیڈا کو کمزور کرنے کی کوشش کر سکتی ہیں، اس لیے ملک کے اندر اتحاد اور یکجہتی برقرار رکھنا ضروری ہے
کارنی نے البرٹا کے عوام کی شکایات کا ذکر کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ صوبے کے بہت سے لوگوں کو وفاقی حکومت کی پالیسیوں پر تحفظات ہیں ان میں قدرتی وسائل، تیل اور گیس کی صنعت اور صوبائی اختیارات سے متعلق مسائل شامل ہیں تاہم، ان کا کہنا تھا کہ ان شکایات کا حل کینیڈا سے علیحدگی نہیں بلکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مذاکرات اور تعاون ہے
البرٹا میں ہونے والا ریفرنڈم براہ راست آزادی کا فیصلہ نہیں ہے اس کا تعلق اس سوال سے ہے کہ آیا صوبے کو مستقبل میں کینیڈا سے علیحدگی کے لیے ایک حتمی ریفرنڈم کی جانب بڑھنا چاہیے اگر علیحدگی کے حامی کامیاب ہوتے ہیں تو بھی البرٹا فوری طور پر کینیڈا سے الگ نہیں ہوگا، بلکہ اس کے لیے مزید قانونی، آئینی اور سیاسی مراحل طے کرنا ہوں گے
البرٹا کی وزیر اعلیٰ ڈینیئل اسمتھ صوبے کے اختیارات میں اضافے کی حامی ہیں ان کی حکومت کا مؤقف ہے کہ وفاقی حکومت کو صوبے کے قدرتی وسائل اور مقامی معاملات میں زیادہ خودمختاری دینی چاہیے علیحدگی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ البرٹا اپنی آمدنی اور وسائل پر زیادہ اختیار چاہتا ہے، جبکہ کینیڈا کے ساتھ رہنے کے حامیوں کو خدشہ ہے کہ علیحدگی کی کوشش سے معاشی بے یقینی اور سیاسی تنازعات بڑھ سکتے ہیں
البرٹا کینیڈا کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے صوبہ تیل اور قدرتی گیس کے بڑے ذخائر رکھتا ہے اور اس کی توانائی کی صنعت روزگار، برآمدات اور حکومتی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے اسی لیے البرٹا کی علیحدگی کی تحریک کے ممکنہ اثرات صرف صوبے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے کینیڈا کی معیشت، سرمایہ کاری اور توانائی کی منڈیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں
کارنی نے کینیڈا کے ساتھ رہنے کے حامیوں پر زور دیا کہ وہ اپنے مؤقف کی حمایت میں ووٹ ضرور ڈالیں ان کا کہنا تھا کہ صرف جلسوں میں شرکت یا اتحاد کے حق میں بات کرنے سے کام نہیں چلے گا بلکہ ووٹ کے ذریعے اپنا فیصلہ ظاہر کرنا بھی ضروری ہے
البرٹا کے ریفرنڈم کا نتیجہ صوبے اور وفاقی حکومت کے تعلقات کے مستقبل کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے اگر علیحدگی کے حق میں حمایت بڑھتی ہے تو وفاقی حکومت پر صوبے کے تحفظات دور کرنے کے لیے دباؤ بڑھے گا دوسری جانب، کینیڈا کے ساتھ رہنے کے حق میں فیصلہ آنے کی صورت میں بھی وسائل، اختیارات اور وفاقی پالیسیوں سے متعلق اختلافات حل کرنے کی ضرورت برقرار رہے گی

قومی خبریں سے مزید