Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ایران جنگ کے اثرات، مہنگائی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے 13 کروڑ افراد غربت میں دھکیلے جانے کا خدشہ

ایران جنگ کے اثرات، مہنگائی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے 13 کروڑ افراد غربت میں دھکیلے جانے کا خدشہ

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے سربراہ الیگزینڈر ڈی کرو نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کے غریب اور ترقی پذیر ممالک کو ایک کے بعد ایک بحران کا سامنا ہے اور ان کے پاس سنبھلنے کے لیے وقت اور مالی وسائل تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ ایران جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، خوراک کی مہنگائی، قرضوں پر بڑھتا ہوا سود اور شدید موسمیاتی تبدیلیاں لاکھوں خاندانوں کو غربت کی طرف دھکیل سکتی ہیں
بنکاک میں عالمی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈی کرو نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو ایک بحران سے نکلنے اور اپنی معیشت بحال کرنے کا موقع نہیں ملتا کہ نیا بحران سامنے آ جاتا ہے ان کے مطابق بعض ممالک کے پاس مالی ذخائر اور مشکلات سے نمٹنے کے وسائل موجود ہیں، لیکن کئی غریب ممالک کے پاس نہ مناسب مالی تحفظ ہے اور نہ ہی مزید قرض لینے کی گنجائش
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق، اگر توانائی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا پورا بوجھ صارفین پر منتقل کر دیا جائے اور حکومتیں سبسڈی کے ذریعے عوام کو تحفظ فراہم نہ کریں تو 2026 میں دنیا بھر میں مزید 13 کروڑ افراد غربت کا شکار ہونے کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں یہ ایک ممکنہ صورت حال کا تخمینہ ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ تمام افراد پہلے ہی غربت میں جا چکے ہیں
جنوبی ایشیا، مشرقی ایشیا اور افریقہ کے صحارا کے جنوب میں واقع ممالک کے عوام کو اس خطرے کا زیادہ سامنا ہے، کیونکہ ان علاقوں میں بڑی تعداد میں خاندان اپنی آمدنی کا نمایاں حصہ خوراک، ایندھن اور روزمرہ ضروریات پر خرچ کرتے ہیں قیمتوں میں معمولی اضافے سے بھی ان کے لیے بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل ہو سکتا ہے
ایران جنگ کے نتیجے میں تیل اور قدرتی گیس کی عالمی رسد متاثر ہونے سے ایندھن مہنگا ہوا ہے اس کا اثر صرف گاڑیوں میں استعمال ہونے والے پیٹرول اور ڈیزل تک محدود نہیں رہتا، بلکہ بجلی کی پیداوار، کھیتی باڑی، سامان کی نقل و حمل اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر بھی پڑتا ہے جب ٹرانسپورٹ اور پیداوار کے اخراجات بڑھتے ہیں تو کاروباری ادارے اکثر یہ اضافی لاگت صارفین سے وصول کرتے ہیں
ترقی پذیر ممالک کی حکومتوں نے مہنگائی کے اثرات کم کرنے کے لیے ایندھن کی سبسڈی اور دیگر مالی امداد فراہم کی، لیکن مسلسل بحرانوں کے باعث ان کے بجٹ پر دباؤ بڑھ گیا ہے اب بہت سی حکومتوں کے لیے عوام کو ریلیف دینا اور اپنے قرضوں کی ادائیگی کرنا بیک وقت مشکل ہوتا جا رہا ہے
رپورٹ کے مطابق، ایک اوسط ترقی پذیر ملک اپنی سرکاری آمدنی کا تقریباً 9.5 فیصد صرف قرضوں پر سود ادا کرنے میں خرچ کر رہا ہے یہ تناسب گزشتہ 25 برسوں کی بلند ترین سطح پر ہے اور زیادہ آمدنی والے ممالک کے مقابلے میں 3 گنا سے بھی زیادہ ہے قرضوں پر سود کی ادائیگی بڑھنے سے تعلیم، صحت، روزگار اور غریب خاندانوں کی مدد کے لیے دستیاب رقم کم ہو جاتی ہے
مسئلہ صرف جنگ اور مہنگائی تک محدود نہیں رواں سال ال نینو موسمیاتی رجحان کے غیر معمولی طور پر شدید ہونے کا خدشہ ہے، جس کے نتیجے میں دنیا کے مختلف علاقوں میں خشک سالی، سیلاب اور شدید موسمی واقعات پیدا ہو سکتے ہیں ان اثرات کے 2027 کے آغاز میں زیادہ نمایاں ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے اگر فصلیں متاثر ہوئیں تو خوراک کی پیداوار کم اور قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس سے پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار خاندانوں پر اضافی بوجھ پڑے گا
ڈی کرو نے ترقی یافتہ ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ ترقی پذیر ممالک کو سستے قرضوں، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کے لیے مالی مدد فراہم کریں ان کے مطابق، حکومتوں کو ایسی سبسڈی کو ترجیح دینی چاہیے جو براہ راست ضرورت مند خاندانوں تک پہنچے، بجائے اس کے کہ محدود سرکاری وسائل ہر طبقے کو یکساں رعایت دینے پر خرچ کیے جائیں
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نجی شعبے کو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور متاثرہ معیشتوں میں سرمایہ کاری بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا، معیشت کو بیرونی جھٹکوں کے مقابلے میں مضبوط بنانا اور کم آمدنی والے طبقوں کو تحفظ فراہم کرنا ضروری ہے
رپورٹ کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ عالمی معیشت میں بحران اب ایک دوسرے سے الگ نہیں رہے جنگ کے باعث مہنگائی بڑھتی ہے، مہنگائی حکومتی اخراجات میں اضافہ کرتی ہے، قرضوں پر سود ترقیاتی بجٹ کو محدود کرتا ہے اور موسمیاتی آفات خوراک کی دستیابی کو متاثر کرتی ہیں اگر عالمی برادری نے بروقت مالی مدد اور مؤثر اقدامات نہ کیے تو اس صورت حال کا سب سے بھاری بوجھ ان لوگوں کو برداشت کرنا پڑ سکتا ہے جو پہلے ہی غربت اور بنیادی سہولتوں کی کمی کا شکار ہیں

قومی خبریں سے مزید