Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پاکستان کی معاشی ترقی سست، مہنگائی 9.9 فیصد تک پہنچنے کا خدشہ

پاکستان کی معاشی ترقی سست، مہنگائی 9.9 فیصد تک پہنچنے کا خدشہ

پاکستان کی معیشت رواں مالی سال میں 3.5 فیصد کی شرح سے ترقی کرنے کی توقع ہے، جبکہ مہنگائی بڑھ کر 9.9 فیصد تک پہنچ سکتی ہے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، معاشی استحکام کے لیے کیے گئے اقدامات کے باوجود پاکستان کو سست ترقی، بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کا سامنا رہے گا
گزشتہ مالی سال میں پاکستان کی معیشت 3.6 فیصد کی شرح سے بڑھی تھی، لیکن اس کے بعد ترقی کی رفتار میں مزید کمی کا خدشہ ہے تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، غربت اور بے روزگاری کے پیش نظر یہ شرح ملک کی معاشی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی دکھائی دیتی ہے۔ معیشت کی سست رفتار ترقی سے نہ صرف لوگوں کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ مشکل ہوگا بلکہ روزگار کی تلاش میں نکلنے والے نوجوانوں کے لیے بھی کافی ملازمتیں پیدا کرنا دشوار ہو سکتا ہے
گزشتہ مالی سال میں مہنگائی کی اوسط شرح 7.1 فیصد رہی تھی، لیکن اب اس کے بڑھ کر 9.9 فیصد ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے اس اضافے سے عام خاندانوں کی قوت خرید مزید متاثر ہو سکتی ہے پہلے ہی بجلی، ایندھن، ٹیکسوں اور روزمرہ ضروریات کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے گھریلو بجٹ محدود کر رکھا ہے اگر قیمتوں میں دوبارہ تیزی آتی ہے تو کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے خوراک، تعلیم، علاج اور رہائش کے اخراجات پورے کرنا مزید مشکل ہو جائے گا
معیشت کے بیرونی کھاتے میں بھی دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے اندازے کے مطابق، رواں مالی سال میں پاکستان کا جاری کھاتہ مجموعی قومی پیداوار کے 1 فیصد کے برابر خسارے میں جا سکتا ہے تیل کی بلند قیمتیں اور بحری نقل و حمل میں رکاوٹیں درآمدات مہنگی کر سکتی ہیں اگر برآمدات میں مناسب اضافہ نہ ہوا تو درآمدات کے اخراجات پورے کرنے کے لیے مزید زرمبادلہ درکار ہوگا
آئی ایم ایف کے مطابق، مالی سال 2026 سے 2027 کے دوران پاکستان میں بے روزگاری کی شرح 6.9 فیصد سے کم ہو کر 6.5 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ تاہم صرف بے روزگاری کی شرح میں کمی کافی نہیں اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ کتنے نئے لوگوں کو روزگار ملتا ہے، ملازمتیں کتنی محفوظ ہیں اور ان سے حاصل ہونے والی آمدنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے یا نہیں
علاقائی صورت حال سے موازنہ کیا جائے تو پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار مزید کمزور دکھائی دیتی ہے جنوبی ایشیا کی معیشت 2026 میں 6.4 فیصد کی شرح سے بڑھنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ پاکستان کی متوقع شرح صرف 3.5 فیصد ہے اس فرق سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کو صنعت، تجارت، سرمایہ کاری اور برآمدات میں زیادہ مضبوط ترقی کی ضرورت ہے
عالمی معیشت کے لیے بھی صورت حال آسان نہیں۔ عالمی ترقی کی شرح 2026 میں 3.1 فیصد اور 2027 میں 3.4 فیصد رہنے کی توقع ہے بعض ممالک میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری معاشی سرگرمیوں کو فروغ دے رہی ہے، جبکہ دوسرے ممالک توانائی کی مہنگی قیمتوں، تجارتی رکاوٹوں اور سخت مالی حالات سے متاثر ہو رہے ہیں ایران جنگ کے اثرات نے بھی توانائی کی فراہمی اور عالمی تجارت کے بارے میں خدشات بڑھا دیے ہیں
پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے ساتھ کم آمدنی والے خاندانوں کو ہدفی مالی امداد فراہم کرے ایسی سبسڈی سے گریز کرنا ہوگا جس سے حکومتی اخراجات غیر پائیدار حد تک بڑھ جائیں، لیکن حقیقی ضرورت مند افراد کو ریلیف دینا بھی ضروری ہے
معاشی بہتری کے لیے حکومت کو پیداواری شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے، صنعتوں کی مسابقت بہتر بنانے، ٹیکس نیٹ وسیع کرنے اور برآمدات میں تنوع پیدا کرنے پر توجہ دینا ہوگی تعلیم اور فنی تربیت کے مواقع بڑھانا بھی ضروری ہے تاکہ نوجوانوں کو جدید معیشت کی ضروریات کے مطابق روزگار مل سکے
پاکستان کی معیشت کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ مالیاتی استحکام کو عام شہری کی زندگی میں بہتری میں کیسے تبدیل کیا جائے اگر ترقی کی رفتار کم رہی اور مہنگائی دوبارہ بڑھی تو معاشی استحکام کے فوائد محدود رہ سکتے ہیں پائیدار ترقی کے لیے مستقل پالیسیاں، پیداواری سرمایہ کاری، بہتر روزگار اور برآمدات میں اضافہ ناگزیر ہیں

قومی خبریں سے مزید