Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ڈیرہ اسماعیل خان میں 200 سال قدیم رام لیلا مندر مسمار کرنے کی کوشش شہریوں نے رکوا دی

ڈیرہ اسماعیل خان میں 200 سال قدیم رام لیلا مندر مسمار کرنے کی کوشش شہریوں نے رکوا دی

پاکستان کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے تاریخی رحیم بازار میں واقع تقریباً 200 سال قدیم رام لیلا مندر کو مسمار کرنے کا کام شہریوں کی مداخلت کے بعد روک دیا گیا مقامی سول سوسائٹی اور تاجروں نے تاریخی عمارت کو بچانے کے لیے آواز اٹھائی، جس کے بعد ضلعی انتظامیہ نے عمارت کو سیل کر دیا
ڈیرہ سول سوسائٹی کے صدر سہیل احمد اعظمی، جو تاجروں کی انجمن کے صدر بھی ہیں، کے مطابق انہیں اطلاع ملی تھی کہ کچھ افراد تاریخی مندر کو گرا کر اس جگہ تجارتی عمارت تعمیر کرنا چاہتے ہیں وہ دیگر شہریوں کے ہمراہ موقع پر پہنچے اور مزدوروں کو مسمار کرنے کا کام جاری رکھنے سے روک دیا ان کے مطابق موقع پر موجود ایک شخص نے بتایا کہ اسے عمارت گرانے کا ٹھیکہ دیا گیا تھا
سہیل احمد اعظمی نے دعویٰ کیا کہ سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے دور میں متروکہ وقف املاک بورڈ نے یہ عمارت 25 ملین روپے، یعنی 2 کروڑ 50 لاکھ روپے میں فروخت کی تھی تاہم عمارت کی ملکیت اور اسے مسمار کرنے کے معاملے پر ضلعی انتظامیہ کا باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا تھا
ان کے مطابق اس مقام پر کئی سال پہلے بھی تجارتی پلازہ تعمیر کرنے کی کوشش کی گئی تھی، لیکن مقامی رہائشیوں اور تاجروں کی مداخلت کے بعد یہ منصوبہ روک دیا گیا تھا تاریخی عمارت میں پہلے بیڈمنٹن اور ٹیبل ٹینس کھیلنے کے لیے جگہ موجود تھی، لیکن عمارت کی حالت خراب ہونے کے باعث یہ سرگرمیاں بند کر دی گئی تھیں
شہریوں اور تاجروں نے معاملہ ضلعی انتظامیہ کے نوٹس میں لایا، جس کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان کے اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر حامد صدیق موقع پر پہنچے اور عمارت کو سیل کر دیا سول سوسائٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ حکام عمارت کی قانونی حیثیت واضح کریں اور اس کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کریں
رام لیلا مندر ڈیرہ اسماعیل خان کے تاریخی ورثے کا حصہ ہے محکمہ آثار قدیمہ و عجائب گھر کی ثقافتی ورثے کی فہرست میں ضلع کی تقریباً 400 عمارتیں اور املاک شامل بتائی جاتی ہیں۔ ایسے تاریخی مقامات صرف مذہبی اہمیت ہی نہیں رکھتے بلکہ علاقے کی مشترکہ تاریخ، ثقافت اور ماضی کی یادگار بھی ہوتے ہیں
اس واقعے نے پاکستان میں تاریخی عمارتوں کے تحفظ اور تجارتی تعمیرات کے لیے ان کے استعمال سے متعلق سوالات کو دوبارہ نمایاں کر دیا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ عمارت کی ملکیت، فروخت اور مسماری کی اجازت سے متعلق تمام ریکارڈ کی جانچ کی جائے اور یہ یقینی بنایا جائے کہ کسی تاریخی ورثے کو قانونی تقاضے پورے کیے بغیر نقصان نہ پہنچایا جائے
دوسری جانب ڈیرہ اسماعیل خان کے قریب یارک کے علاقے میں موٹر سائیکل اور بس کے تصادم سے 3 سالہ اور 11 سالہ 2 بچیاں موقع پر جاں بحق ہو گئیں، جبکہ ایک 35 سالہ شخص اور ایک سالہ بچی زخمی ہوئے۔ ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد اسپتال منتقل کیا

قومی خبریں سے مزید