اسلام آباد میں 9 ماہ کے دوران جنسی زیادتی کے 132 اور اغوا کے 709 مقدمات درج
اسلام آباد: پاکستان کے وفاقی دارالحکومت میں رواں سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران جنسی زیادتی کے کم از کم 132 اور اغوا کے 709 مقدمات درج کیے گئے پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق یکم جنوری سے 30 ستمبر 2026 تک درج ہونے والے ان مقدمات میں خواتین، لڑکیوں اور بچوں سمیت مختلف عمر کے افراد متاثر ہوئے یہ اعداد و شمار دارالحکومت میں شہریوں کے تحفظ اور جرائم کی روک تھام کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں
پولیس ریکارڈ کے مطابق جنسی زیادتی کے 132 مقدمات میں سب سے زیادہ مقدمات سوہان زون میں درج ہوئے اسکے بعد صدر زون میں 32، دیہی زون میں 25، صنعتی علاقے میں 20 اور سٹی زون میں 15 مقدمات سامنے آئے
درج مقدمات کی تفصیلات میں بچوں اور خواتین کے خلاف سنگین جرائم بھی شامل ہیں۔ ایک مقدمے میں 3 افراد پر ایک لڑکے کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا اجتماعی زیادتی سے متعلق دفعہ 375 اے کے تحت 9 مقدمات درج ہوئے، جن میں 4 لڑکے، 3 لڑکیاں اور ایک خاتون متاثرین میں شامل تھے۔ بعض دیگر مقدمات میں بھی لڑکوں اور لڑکیوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں
پولیس ریکارڈ میں دفعہ 376 کے تحت زیادتی کے مقدمات بھی شامل ہیں اس کے علاوہ تعزیرات پاکستان کی مختلف دفعات کے تحت جنسی جرائم کے دیگر مقدمات درج کیے گئے، جن میں کم عمر بچوں کے خلاف جرائم اور اجتماعی زیادتی کے واقعات بھی شامل ہیں
اسی عرصے میں اغوا کے 709 مقدمات درج کیے گئے ان میں سب سے زیادہ 200 مقدمات سوہان زون میں سامنے آئے، جبکہ دیہی زون میں 185، صدر زون میں 181، صنعتی علاقے میں 72 اور سٹی زون میں 71 مقدمات درج ہوئے
اغوا کے مقدمات میں بچوں کو اغوا کرنے، کسی شخص کو غیر قانونی طور پر قید رکھنے اور خواتین کو شادی پر مجبور کرنے کے لیے اغوا یا بہلا پھسلا کر لے جانے جیسے الزامات شامل ہیں کم عمر بچوں کے اغوا سے متعلق دفعہ 364 اے کے تحت 52 مقدمات درج ہوئے، جبکہ خواتین کو شادی پر مجبور کرنے کے ارادے سے اغوا یا بہلا پھسلا کر لے جانے کے حوالے سے دفعہ 365 بی کے تحت 341 مقدمات درج کیے گئے ان مقدمات میں متاثرہ خواتین اور لڑکیوں کی تعداد بھی تشویش کا باعث ہے
ایک واقعے میں اسلام آباد سے اغوا کیے گئے ایک شخص کو خیبر پختونخوا میں قتل کر دیا گیا اسی طرح ایک شخص کو سیکٹر ایف 6/1 میں اس کے گھر کے باہر سے اغوا کیا گیا، جس کی لاش بعد میں مردان سے ملی ایسے واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ اغوا کے بعض معاملات میں متاثرین کو جان کے سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے
حالیہ واقعات میں گنگال کے علاقے میں ایک 26 سالہ خاتون کو مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا پولیس ذرائع کے مطابق خاتون کام سے واپس گھر جا رہی تھی کہ اسے راستے میں روک کر قریبی جنگلاتی علاقے میں لے جایا گیا، جہاں اس کے ساتھ زیادتی کی گئی۔ واقعے کے بعد خاتون کو طبی معائنے کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا
رپورٹ کے مطابق مقدمہ درج کرنے میں تاخیر ہوئی اور طبی معائنے کی رپورٹ کا انتظار کرنے کا جواز پیش کیا گیا بعد ازاں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 376 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، تاہم اعلیٰ پولیس افسران کی ہدایت پر ایف آئی آر کو سیل کر دیا گیا اس معاملے پر پولیس حکام سے مؤقف لینے کی کوشش کی گئی، لیکن متعلقہ افسر نے جواب نہیں دیا
اسلام آباد پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آپریشنز علی وسیم نے اغوا کے مقدمات کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ تمام مغویوں کو بازیاب کرا لیا گیا ہے ان کے مطابق زیادتی کے زیادہ تر واقعات میں ملوث افراد کا سراغ لگا لیا گیا ہے، جبکہ باقی مقدمات کی تفتیش جاری ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض اوقات خواتین اور لڑکیوں کے گھر سے چلے جانے کے واقعات پر بھی اغوا کے مقدمات درج کیے جاتے ہیں
ان اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ دارالحکومت میں جنسی تشدد اور اغوا کے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے مقدمات کا بروقت اندراج، متاثرین کو تحفظ، شفاف تحقیقات اور ملزمان کو قانون کے مطابق عدالتوں کے سامنے پیش کرنا ضروری ہے خاص طور پر بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم کے معاملات میں پولیس کو فوری کارروائی اور متاثرین کی شناخت و عزت کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے





