Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

صوبوں کو منتقل وزارتوں پر وفاق کے 26 کھرب روپے خرچ کرنے کی تحقیقات کا مطالبہ

صوبوں کو منتقل وزارتوں پر وفاق کے 26 کھرب روپے خرچ کرنے کی تحقیقات کا مطالبہ

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اختیارات کی منتقلی کی ذیلی کمیٹی نے وفاقی حکومت کی جانب سے گزشتہ 16 برسوں کے دوران ان وزارتوں اور شعبوں پر 26 کھرب روپے خرچ کرنے کے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جن کی ذمہ داریاں 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو منتقل کر دی گئی تھیں
کمیٹی کے اجلاس کی صدارت سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے کی۔ اجلاس میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ 2010 میں صوبوں کو اختیارات منتقل کیے جانے کے باوجود تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں سے متعلق وفاقی وزارتوں اور اداروں پر بھاری اخراجات کیوں جاری رہے اور آیا ان اخراجات کے لیے آئینی و قانونی جواز موجود تھا یا نہیں
سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے کہا کہ عوام کے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی رقم خرچ کرنے کے لیے واضح قانونی جواز اور مؤثر پارلیمانی نگرانی ضروری ہے ان کے مطابق وفاقی حکومت کو ان معاملات پر اخراجات کرنے چاہییں جو آئین کے تحت اس کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر دیگر صوبائی شعبوں سے متعلق وفاقی اخراجات بھی شامل کیے جائیں تو مجموعی رقم مزید بڑھ سکتی ہے
18ویں آئینی ترمیم 2010 میں منظور کی گئی تھی، جس کے تحت تعلیم، صحت اور کئی دوسرے شعبوں کے انتظامی اور قانون سازی کے اختیارات وفاق سے صوبوں کو منتقل کیے گئے اس ترمیم کا بنیادی مقصد صوبائی خودمختاری کو مضبوط بنانا اور صوبوں کو اپنے معاملات کے بارے میں زیادہ اختیار دینا تھا
تاہم کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ اختیارات کی منتقلی کے 16 سال بعد بھی وفاقی سطح پر ان شعبوں سے متعلق وزارتوں اور اداروں پر اخراجات کیوں جاری رہے کمیٹی کے نزدیک اس معاملے کی وضاحت ضروری ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ یہ رقم کن مقاصد کے لیے خرچ کی گئی اور آیا ان اخراجات کی آئین اجازت دیتا تھا
اجلاس میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے حکام نے وضاحت کی کہ ان کا آڈٹ منظور شدہ بجٹ اور مجاز پارلیمانی فورم کی جانب سے مختص کیے گئے فنڈز کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ حکام نے آڈٹ کے دائرہ کار سے متعلق بعض حدود کا بھی ذکر کیا اس پر کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ صرف بجٹ کی منظوری کافی نہیں، بلکہ یہ جانچنا بھی ضروری ہے کہ رقم ایسے مقاصد کے لیے خرچ ہوئی جن کی آئین اجازت دیتا ہے
کمیٹی نے آئین کے آرٹیکل 169 اور آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے اختیارات سے متعلق قانونی دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے متعلقہ حکام سے اخراجات کی تفصیلات طلب کیں۔ آڈیٹر جنرل کے حکام نے یقین دہانی کرائی کہ مطلوبہ معلومات 2 ہفتوں کے اندر فراہم کر دی جائیں گی
اجلاس میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی مجوزہ نجکاری کا معاملہ بھی زیر بحث آیا سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے سوال اٹھایا کہ آیا اس عمل میں صوبوں کے آئینی اختیارات اور مشترکہ مفادات کونسل کے کردار کو مناسب طور پر ملحوظ رکھا گیا ہے ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی تقسیم اور اس سے متعلق معاملات میں صوبوں کے مفادات بھی شامل ہیں، اس لیے متعلقہ فیصلوں اور دستاویزات کا جائزہ ضروری ہے
دوسری جانب نجکاری کے وزیر نے مؤقف اختیار کیا کہ نجکاری کے لیے ضروری قانونی اور انتظامی تقاضے پورے کیے جا چکے ہیں ان کے مطابق بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو بجلی چوری، انتظامی کمزوریوں اور مالی نقصانات جیسے مسائل کا سامنا ہے، اس لیے نجکاری سے کارکردگی بہتر بنانے اور قومی خزانے پر بوجھ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے
کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلوں، صوبوں سے مشاورت اور نجکاری کے قانونی طریقہ کار سے متعلق دستاویزات فراہم کی جائیں تاکہ معاملے کا مکمل جائزہ لیا جا سکے
یہ معاملہ پاکستان میں وفاقی اور صوبائی اختیارات کی تقسیم، سرکاری اخراجات کی شفافیت اور عوامی پیسے کے احتساب سے جڑا ہوا ہے اگر وفاقی وزارتیں ایسے شعبوں پر اخراجات کرتی رہیں جن کی ذمہ داریاں صوبوں کو منتقل ہو چکی ہیں تو انتظامی اخراجات میں اضافے اور اختیارات کے دہرے نظام کے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں
تاہم 26 کھرب روپے کے اخراجات کو غیر قانونی قرار دینے سے پہلے متعلقہ ریکارڈ، اخراجات کی نوعیت اور ان کے قانونی جواز کی جانچ ضروری ہے سینیٹ کی کمیٹی نے اسی مقصد کے لیے تفصیلات طلب کی ہیں تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ وفاقی اخراجات آئینی حدود کے مطابق تھے یا نہیں

قومی خبریں سے مزید