Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

سیاسی کشیدگی اور انتظامی رکاوٹیں ترقی کی راہ روک سکتی ہیں

سیاسی کشیدگی اور انتظامی رکاوٹیں ترقی کی راہ روک سکتی ہیں

پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام کے چوتھے جائزے کے بعد عملے کی سطح پر معاہدہ کر لیا ہے، جس سے معاشی استحکام کی کوششوں میں پیش رفت ظاہر ہوتی ہے تاہم سابق گورنر اسٹیٹ بینک اشرف حسین کے مطابق اصل امتحان معاشی استحکام کو پائیدار ترقی، روزگار اور عوام کی بہتر زندگی میں تبدیل کرنا ہے ان کا کہنا ہے کہ سیاسی کشیدگی، انتظامی رکاوٹوں اور پالیسیوں میں بار بار تبدیلیوں سے گریز کرنا ضروری ہے، کیونکہ اس وقت پاکستان بحران سے نکل کر ترقی کی جانب بڑھنے کے ایک اہم مرحلے میں ہے
معاشی استحکام کے باوجود عوام مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں
پاکستان کا مالیاتی خسارہ مجموعی قومی پیداوار کے 2.6 فیصد تک محدود رہا ہے، جبکہ حکومت کے بنیادی بجٹ سرپلس میں بھی بہتری آئی ہے محصولات کے اہداف پورے ہوئے ہیں اور بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر نے ملکی بیرونی ادائیگیوں کے توازن کو سہارا دیا ہے اس کے باوجود اشیا کی برآمدات میں کمی تشویش کا باعث ہے
پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر تقریباً 3 ماہ کی درآمدات کے اخراجات پورے کرنے کے قابل ہو گئے ہیں مالیاتی درجہ بندی میں بہتری آئی ہے اور بیرونی مالیاتی منڈیوں تک رسائی بحال ہوئی ہے بیرونی سرکاری قرضوں کا حجم مجموعی قومی پیداوار کے 25 فیصد تک آ گیا ہے، جبکہ قلیل مدتی قرضوں کا حصہ 24 فیصد سے کم ہو کر 16 فیصد رہ گیا ہے
لیکن ان معاشی اعداد و شمار کے باوجود عام شہریوں کی زندگی میں نمایاں بہتری دکھائی نہیں دیتی غربت، بے روزگاری، مہنگی بجلی، ناقص سرکاری خدمات اور ٹیکسوں کا غیر منصفانہ نظام عوام اور کاروباری اداروں پر دباؤ بڑھا رہے ہیں سرمایہ کاری اور بچت کی شرح بھی کمزور ہے، جبکہ برآمدات میں وہ تیزی نہیں جو معیشت کو مستقل بنیادوں پر آگے بڑھا سکے
معاشی ترقی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اخراجات اور انتظامی ڈھانچے کو مؤثر بنانا ضروری قرار دیا گیا ہے سرکاری ملازمتوں میں مہارت کی بنیاد پر بھرتیاں، بہتر انتظامی نظام اور سرکاری خدمات کو ڈیجیٹل بنانے سے حکومتی کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے
وفاقی ادارے ایف بی آر کو چاہیے کہ پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والے شہریوں اور کاروباری اداروں پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرے۔ اسی طرح صوبائی حکومتوں کو زرعی آمدنی اور جائیداد پر ٹیکس کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد کرنا چاہیے
سرکاری ملکیتی اداروں کی تنظیم نو اور نجکاری، برآمدات بڑھانے کے لیے بہتر پالیسیوں اور چھوٹے کاروباروں، کسانوں اور خواتین کاروباری افراد کو مالی سہولتوں کی فراہمی بھی اہم اقدامات ہیں نئے برآمد کنندگان کو قرضوں اور مالی تحفظ کی سہولتیں فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ پاکستانی مصنوعات عالمی منڈیوں میں مقابلہ کر سکیں
اس کے ساتھ کراچی سے پشاور تک ایم ایل ون ریلوے منصوبے، سکھر حیدرآباد موٹروے، تیل کی پائپ لائنوں، آئل ریفائنریوں، کوئٹہ ژوب شاہراہ، خصوصی صنعتی علاقوں اور کراچی سرکلر ریلوے جیسے دیرینہ منصوبوں کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے ان منصوبوں سے روزگار کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ مل سکتا ہے
پاکستان کی معیشت کو بیرونی خطرات کا بھی سامنا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ، آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل میں رکاوٹیں اور بحیرہ احمر کے قریب باب المندب میں عدم استحکام تیل اور دیگر درآمدی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کر سکتے ہیں
اس کے نتیجے میں مہنگائی بڑھنے، زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ آنے اور روپے کی قدر متاثر ہونے کا خطرہ موجود ہے سندھ طاس معاہدے کی معطلی نے پانی کی دستیابی کے حوالے سے بھی خدشات بڑھا دیے ہیں
مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلاؤ کے باعث روزگار کی منڈی بھی تبدیل ہو رہی ہے اس لیے پاکستان کو نئی مہارتیں سکھانے اور کارکنوں کو بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق تیار کرنے کی ضرورت ہے
معاشی اصلاحات کے ساتھ ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانا بھی ضروری ہے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بدامنی، غربت اور تنازعات ایک دوسرے کو بڑھا رہے ہیں متاثرہ علاقوں میں روزگار، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتوں کی کمی معاشی محرومی کو مزید گہرا کرتی ہے
اس مسئلے کے حل کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان تعاون، مؤثر انسداد دہشت گردی حکمت عملی اور سیاسی مکالمے پر زور دیا گیا ہے۔ صرف سکیورٹی کارروائیاں کافی نہیں ہوں گی، بلکہ متاثرہ علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں، روزگار اور بہتر عوامی خدمات کی فراہمی بھی ضروری ہے
خیبر پختونخوا میں ہنگامی یا گورنر راج نافذ کرنے سے سیاسی کشیدگی بڑھنے اور امن و امان کی صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے اس لیے حکومت کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو پہلے سے موجود تنازعات کو مزید پیچیدہ بنا دیں
انٹرنیٹ کی بندش اور سامان کی ترسیل میں رکاوٹیں معیشت کو نقصان پہنچاتی ہیں
ملک بھر میں سامان اور خدمات کی بلاتعطل ترسیل بھی معاشی سرگرمیوں کے لیے ضروری ہے اگر کنٹینرز، ٹرکوں اور تیل بردار گاڑیوں کو سکیورٹی یا انتظامی مقاصد کے لیے روک لیا جائے تو فیکٹریوں کو خام مال پہنچنے میں تاخیر ہوتی ہے، برآمد کنندگان اپنے آرڈرز وقت پر مکمل نہیں کر پاتے اور کسانوں کی زرعی پیداوار منڈیوں تک پہنچنے میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں
ایسی رکاوٹوں سے اشیا کی قلت اور قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کا براہ راست بوجھ عام صارفین کو برداشت کرنا پڑتا ہے
اسی طرح انٹرنیٹ کی بندش سے آن لائن ادائیگیاں، کاروباری لین دین، سامان کی ترسیل اور معلومات کی فراہمی متاثر ہوتی ہے آزادانہ کام کرنے والے افراد اور ٹیکنالوجی کی خدمات بیرون ملک فروخت کرنے والی پاکستانی کمپنیوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے سکیورٹی کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے معاشی سرگرمیوں کو غیر ضروری نقصان سے بچانا حکومت کی ذمہ داری ہے
ملک میں نئے صوبوں یا انتظامی اکائیوں کے قیام کی بحث کو ایک اور سیاسی تنازع بننے سے روکنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے سندھ اسمبلی صوبے کی تقسیم کی مخالفت کر چکی ہے، جبکہ اس نوعیت کی انتظامی تبدیلیوں کے لیے آئینی وضاحت، مالی اخراجات کا جائزہ اور سیاسی اتفاق رائے ضروری ہے
نئے صوبوں کے قیام سے نئے انتظامی ادارے بننے اور سرکاری اخراجات بڑھنے کا امکان ہے اس سے وفاق کو منتقل ہونے والے صوبائی مالی سرپلس پر بھی اثر پڑ سکتا ہے اور بجٹ میں توازن برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے
اس کے بجائے موجودہ انتظامی ڈھانچے میں مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے اور عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کو ترجیح دینے کی تجویز دی گئی ہے
پاکستان اس وقت معاشی بحران سے نکل کر پائیدار ترقی کی جانب بڑھنے کے درمیانی مرحلے میں ہے اس سفر کو کامیاب بنانے کے لیے پالیسیوں کا تسلسل، سیاسی استحکام، امن و امان، ٹیکس نظام میں اصلاحات اور برآمدات و روزگار میں اضافہ ناگزیر ہے بیرونی بحرانوں کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں، لیکن بہتر حکمت عملی اور قومی اتفاق رائے کے ذریعے ان کے اثرات کم کیے جا سکتے ہیں
اصل کامیابی صرف معاشی اعداد و شمار بہتر بنانے میں نہیں، بلکہ ان بہتریوں کو عام شہری کی آمدنی، روزگار، قوت خرید اور معیار زندگی میں تبدیل کرنے میں ہے

قومی خبریں سے مزید