Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اہم خبریں

سہیل آفریدی کی وارننگ کے چار دن بعد خیبر پختونخوا میں گورنر راج، امن کی پالیسی پر جنگ اور گہری ہوگئی

سہیل آفریدی کی وارننگ کے چار دن بعد خیبر پختونخوا میں گورنر راج، امن کی پالیسی پر جنگ اور گہری ہوگئی
سابق وزیراعلیٰ کے پی کے سہیل آفریدی نے دھشگردی کے خلاف وفاقی پالیسی مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ صوبے کے متعلقہ فریقوں کی تجاویز پر عمل کرکے 100 دن میں امن قائم کیا جا سکتا ہے،11 اکتوبر کو گورنر راج نافذ ہونے کے بعد سوال یہ ہے کہ مقامی آبادی اور سیاسی قیادت کو اعتماد میں لیے بغیر دہشت گردی کے خلاف جنگ کیسے جیتی جائے گی؟
کے پی کے میں ، 11 اکتوبر 2026: خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی پر وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی قیادت کے درمیان اختلاف اب محض پالیسی کی بحث نہیں رہا بلکہ اقتدار کی کشمکش میں تبدیل ہوگیا ہے،7 اکتوبر کو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاقی پالیسی پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ صوبے کے متعلقہ فریقوں کی تجاویز پر عمل کیا جائے تو 100 دن میں امن قائم کیا جا سکتا ہے،چار روز بعد صدر آصف علی زرداری نے وفاقی کابینہ کی سفارش پر صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی منظوری دے دی، جس سے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے انتظامی اختیارات معطل ہوگئے ہیں
7 اکتوبر کی تقریر کے دستیاب اخباری متن میں سہیل آفریدی نے گورنر کی جانب سے چیف سیکریٹری اور انسپکٹر جنرل پولیس کو طلب کرنے اور اجلاس منعقد کرنے کو آئین اور جمہوریت پر حملہ قرار دیا تھا،ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں دو تہائی اکثریت سے منتخب حکومت موجود ہے اور اسمبلی، کابینہ اور حکومت فعال ہیں،انہوں نے وفاقی پالیسی کو خیبر پختونخوا اور بلوچستان دونوں میں غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کے متعلقہ فریقوں کی پالیسی پر عمل کیا جائے تو 100 دن میں امن قائم کیا جا سکتا ہے
سہیل آفریدی نے سات اکتوبر کو لانگ مارچ کے دوران ایک موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا تھا یہ مجھ سے میرے لوگوں کے خلاف فوجی آپریشن کے معاہدے پر دستخط کروانا چاہتے تھے مگر خدا کی قسم میں انکی بات نہیں مانوں گا، جان دیدوں گا مگر پختونوں کے خلاف انکی جان لیوا پالیساں نہیں مانوں گا، سہیل آفریدی نے کہا تھا میں انہیں پالیسی دیتا ہوں جس پر چلکر چند دن میں امن قائم ہوسکتا ہے مگر امن قائم کرنا انکا مقصد ہی نہیں ، تحریک انصاف اور فوج کے زیر کنٹرول وفاقی حکومت کے درمیان تنازعہ اس لیے بھی اہم ہے کہ قبائلی مشران وفاق اور صوبے کے درمیان ثالثی کی کوشش کر چکے ہیں،یکم اکتوبر کو سابق گورنر خیبر پختونخوا شوکت اللہ خان کی قیادت میں قبائلی مشران کے ایک وفد نے وفاقی وزیر امیر مقام سے ملاقات کرکے دونوں حکومتوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی پیش کش کی تھی،امیر مقام نے اس کوشش کا خیرمقدم کیا اور وفد کی تجاویز وفاقی قیادت تک پہنچانے کی یقین دہانی کرائی تھی
یہ پیش رفت اس بحث کو اہم بناتی ہے کہ دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں پالیسی بناتے وقت مقامی قبائلی قیادت، سیاسی جماعتوں، منتخب نمائندوں اور شہری آبادی کو کس حد تک شریک کیا جائے،پاکستان ٹوڈے کی 5 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق، پی ٹی آئی مذاکرات میں اس بات پر زور دے رہی تھی کہ انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں وفاق اور صوبے کی مشاورت سے طے ہوں، صوبائی اسمبلی میں نمائندگی رکھنے والی سیاسی جماعتوں کو شامل کیا جائے اور شہری ہلاکتوں اور نقل مکانی سے بچا جائے،وفاقی حکومت کا مؤقف تھا کہ مشاورت کے نام پر کارروائی میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے
دونوں مؤقف کے درمیان بنیادی اختلاف یہ ہے کہ سکیورٹی پالیسی کا اختیار کس کے پاس ہو اور اس پر عمل درآمد کے لیے مقامی آبادی کا اعتماد کیسے حاصل کیا جائے،وفاق قومی سطح پر یکساں حکمت عملی اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون چاہتا ہے، جبکہ پی ٹی آئی کی قیادت کا کہنا ہے کہ مقامی حالات، قبائلی روایات اور زمینی حقائق کو نظر انداز کرکے پائیدار امن قائم نہیں کیا جاسکتا
گورنر راج کے بعد افسران کی تبدیلیاں، مقامی نمائندگی پر نئی بحث
11 اکتوبر کو گورنر راج کے نفاذ کے بعد وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کی بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کیں،چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ سمیت متعدد سینئر افسران کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی، جبکہ گریڈ 22 کے افسر ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان کو نیا چیف سیکریٹری مقرر کیا گیا،گریڈ 20 کے افسر یحییٰ اخونزادہ کی خدمات بھی صوبائی حکومت کے سپرد کی گئیں
ان تبدیلیوں کے بعد یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ صوبے کے انتظامی اور سکیورٹی فیصلوں میں مقامی افسران اور پختون آبادی کی نمائندگی کتنی ہوگی،تاہم دستیاب سرکاری اطلاعات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نئی تعیناتیوں میں پختون افسران کو منظم طور پر نظرانداز کیا گیا ہے،اس الزام کا جائزہ لینے کے لیے تعینات اور تبدیل کیے گئے افسران کے ڈومیسائل، سروس کیڈر، عہدوں اور اختیارات کا باقاعدہ ریکارڈ درکار ہوگا
اس کے باوجود، مقامی آبادی کے اعتماد کا سوال اپنی جگہ موجود ہے،اگر شہری یہ محسوس کریں کہ ان کے علاقے کے بارے میں فیصلے ان کی شرکت کے بغیر کیے جا رہے ہیں تو اس سے حکومت اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھ سکتے ہیں،دہشت گردی سے نمٹنے میں یہ فاصلہ اہم ہوسکتا ہے، کیونکہ انٹیلی جنس کے حصول، مقامی تعاون اور پولیس کی مؤثریت کا تعلق بھی عوامی اعتماد سے ہے
کیا گورنر راج سے دہشت گردی کم ہوگی یا سیاسی تصادم بڑھے گا؟
خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی شدت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا،میڈیارپورٹس کے مطابق، جنوری سے ستمبر 2026 کے دوران صوبے میں 680 عسکریت پسند حملے ریکارڈ کیے گئے، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ تعداد 508 تھی،یہ اعداد سکیورٹی صورت حال کی سنگینی ظاہر کرتے ہیں، لیکن بذاتِ خود یہ ثابت نہیں کرتے کہ اس بحران کا سبب صرف صوبائی حکومت کی پالیسی ہے یا اس کا حل صرف گورنر راج ہے،
گورنر راج سے وفاق کو انتظامی فیصلے تیزی سے نافذ کرنے اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ رابطہ بہتر بنانے کا موقع مل سکتا ہے،لیکن اگر مقامی قیادت، قبائلی مشران اور شہری آبادی کو پالیسی سازی سے باہر رکھا گیا تو اس سے بے اعتمادی بڑھنے کا خطرہ بھی موجود ہے،یہ نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا کہ گورنر راج لازماً دہشت گردی میں اضافہ کرے گا، تاہم صرف اقتدار کی تبدیلی کو امن کی ضمانت بھی نہیں سمجھا جاسکتا
اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا نئی انتظامیہ حملوں میں کمی، پولیس اور انسداد دہشت گردی کے اداروں کی صلاحیت میں بہتری، شہریوں کے تحفظ اور مقامی تعاون میں اضافہ کر پاتی ہے یا نہیں؟
سہیل آفریدی کا 100 دن میں امن قائم کرنے کا دعویٰ بھی اسی پیمانے پر پرکھا جانا چاہیے،ان کی پیش کردہ حکمت عملی کی تفصیلات، اس کے لیے مطلوبہ وسائل اور نتائج کی پیمائش سامنے آئے بغیر یہ دعویٰ محض سیاسی وعدہ رہے گا،اسی طرح وفاقی حکومت کو بھی واضح کرنا ہوگا کہ گورنر راج کے بعد کون سے اقدامات کیے جائیں گے، ان کے نتائج کب تک متوقع ہیں اور ناکامی کی صورت میں جواب دہ کون ہوگا
خیبر پختونخوا کا بحران اب صرف یہ نہیں کہ حکومت کس کے ہاتھ میں ہے،اصل سوال یہ ہے کہ امن کی پالیسی کون بنائے گا، مقامی لوگوں کی آواز کتنی سنی جائے گی اور کامیابی کا فیصلہ سیاسی بیانات کے بجائے زمینی حقائق سے کیسے ہوگا؟

قومی خبریں سے مزید