Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

بلوچستان کے سمندر میں سکیورٹی فورسز پر بڑا حملہ، بی ایل اے کا 2 کشتیوں کو نشانہ بنانے اور 13 اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

بلوچستان کے سمندر میں سکیورٹی فورسز پر بڑا حملہ، بی ایل اے کا 2 کشتیوں کو نشانہ بنانے اور 13 اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر کے علاقے جیوانی کے قریب سمندر میں پاکستان کوسٹ گارڈز کی 2 کشتیوں پر مسلح حملے نے ملکی بحری سلامتی سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں،بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بحری یونٹ نے مربوط کارروائی کے دوران دونوں کشتیوں کو نشانہ بنایا اور 13 اہلکار ہلاک کر دیے،تاہم، پاکستانی حکام کی جانب سے تاحال ہلاکتوں کی تعداد کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی
بی ایل اے کے ترجمان جئیند بلوچ کے بیان کے مطابق حملہ تنظیم کی بحری شاخ، حمال میری ٹائم ڈیفنس فورس نے کیا،تنظیم کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں بیک وقت 2 بڑی کوسٹ گارڈز کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ مقامی ذرائع کی ابتدائی اطلاعات میں 18 سے زائد اہلکاروں کے ہلاک یا زخمی ہونے کا ذکر بھی کیا گیا، لیکن دستیاب معلومات سے ہلاکتوں اور زخمیوں کی الگ الگ تعداد کی تصدیق نہیں ہوتی
حملے کے بعد جیوانی کے ساحلی علاقے میں سکیورٹی سرگرمیاں بڑھنے اور ماہی گیروں کو سمندر سے واپس بلانے کی اطلاعات سامنے آئیں ہیں ، یہ پیش رفت اس لیے اہم ہے کہ بلوچستان میں جاری شورش اب صرف شاہراہوں، سرکاری تنصیبات اور سکیورٹی چوکیوں تک محدود نہیں رہی بلکہ مسلح گروہ سمندری راستوں پر بھی کارروائی کرنے کی صلاحیت ظاہر کرنے کی کوشش کر چکے ہیں
بی ایل اے نے رواں سال اپریل میں بھی جیوانی کے قریب ایک گشتی کشتی پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی،اس کارروائی میں 3 اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی تھیں،بعد ازاں تنظیم نے اپنی بحری یونٹ حمال میری ٹائم ڈیفنس فورس کے قیام کا اعلان کیا،تازہ حملہ اس پس منظر میں اس بات کی علامت ہو سکتا ہے کہ تنظیم اپنی کارروائیوں کا دائرہ ساحلی پانیوں تک بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے
گوادر پاکستان کے لیے غیر معمولی اسٹریجک اور معاشی اہمیت رکھتا ہے،یہاں کی بندرگاہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کا اہم حصہ ہے اور بحیرہ عرب کے ذریعے علاقائی تجارت اور بحری آمدورفت سے جڑی ہوئی ہے،ایسے علاقے میں کوسٹ گارڈز کی کشتیوں پر حملہ ساحلی نگرانی، بحری گشت اور حساس تنصیبات کے تحفظ سے متعلق انتظامات پر دباؤ بڑھا سکتا ہے
بلوچستان میں علیحدگی پسند شورش کی بنیادی وجوہات، وسائل کی تقسیم، سیاسی نمائندگی اور ریاستی پالیسیوں سے متعلق تنازعات طویل عرصے سے زیر بحث ہیں،پاکستانی حکومت مسلح گروہوں کی کارروائیوں کو دہشت گردی قرار دیتی ہے، جبکہ بی ایل اے اپنے اقدامات کو بلوچستان کی آزادی کی لڑائی کا حصہ قرار دیتی ہے،تاہم مسلح کارروائیوں کے نتیجے میں سکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کی جانوں کو لاحق خطرات خطے میں امن اور معاشی سرگرمیوں کے لیے مسلسل چیلنج بنے ہوئے ہیں
تازہ حملے کے بارے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا پاکستانی حکام ہلاکتوں کی تعداد اور واقعے کی مکمل تفصیلات کی تصدیق کرتے ہیں، اور ساحلی پانیوں میں مستقبل کے حملوں کو روکنے کے لیے سکیورٹی انتظامات میں کیا تبدیلیاں کی جاتی ہیں

قومی خبریں سے مزید