پچاس ہزار پاکستانی، مگر سرکاری اعداد میں صرف پندرہ ہزار! ٹام سوازی کی حمایت : لانگ آئی لینڈ کی پاکستانی کمیونٹی میں فرقہ تصویریہ کی نمائندگی، ووٹ اور تنظیمی سیاست کی نئی بحث
نیویارک کے لانگ آئی لینڈ میں ناساؤ کاؤنٹی کی پاکستانی امریکین کمیونٹی کے لیے 14 اکتوبر ایک اہم سیاسی دن بننے جا رہا ہے، جب ڈیموکریٹ کانگریس مین ٹام سوازی پاکستانی ووٹرز سے ملاقات کے لیے ڈاکٹر اعجاز احمد کی رہائش گاہ پر آئیں گے، جس کے خلاف لانگ آئ لینڈ میں ایک منظم مہم چلائ جارہی ہے ، اس ملاقات کے پس منظر میں کمیونٹی کے اندر تنظیموں کے کردار، سیاسی اثرورسوخ، ووٹر رجسٹریشن اور مقامی سیاست میں پاکستانی امریکیوں کی حقیقی نمائندگی کے حوالے سے کئی سوالات سامنے آ رہے ہیں
ٹام سوازی نیویارک کے تیسرے کانگریشنل ضلع کی نمائندگی کرتے ہیں، جس میں لانگ آئی لینڈ کے مختلف علاقے شامل ہیں،وہ 2017 سے 2023 تک مسلسل تین کانگریسی ادوار میں خدمات انجام دے چکے ہیں،2022 میں انہوں نے دوبارہ کانگریس کا انتخاب لڑنے کے بجائے نیویارک کے گورنر کا انتخاب لڑنے کی کوشش کی، جس میں وہ ڈیموکریٹک نامزدگی حاصل نہیں کر سکے،بعد ازاں 2024 میں خصوصی انتخاب کے ذریعے دوبارہ کانگریس میں پہنچے اور اسی سال نومبر میں بھی کامیابی حاصل کی،اس طرح وہ موجودہ دور میں دوبارہ منتخب ہو کر ایوانِ نمائندگان میں خدمات انجام دے رہے ہیں
ٹام سوازی کی پاکستانی امریکی کمیونٹی سے قربت محض مقامی ملاقاتوں تک محدود نہیں،وہ کانگریس کے دو جماعتی پاکستان کاکس کے شریک سربراہ ہیں اور پاکستان امریکہ تعلقات پر متعدد سرگرمیوں میں حصہ لے چکے ہیں،مارچ 2026 میں انہوں نے ریپبلکن کانگریس مین جیک برگمین کے ساتھ امریکی کانگریس میں پاکستان امریکہ تعلقات کے مستقبل پر ایک پالیسی کانفرنس کی میزبانی بھی کی،اپریل 2025 میں وہ ایک کانگریسی وفد کے ساتھ پاکستان گئے، جہاں انہوں نے سرکاری حکام اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے ملاقاتیں سے اہم کیں، ان سرگرمیوں کے باعث وہ پاکستان اور پاکستانی امریکی کمیونٹی سے متعلق امور میں نمایاں آواز اور پاکستان دوست سمجھے جاتے ہیں
ناساؤ کاؤنٹی میں پاکستانی امریکیوں کی تعداد کے بارے میں بھی ایک اہم فرق سامنے آتا ہے،کمیونٹی کے بعض حلقے یہاں پاکستانی آبادی 40 سے 50 ہزار تک بتاتے ہیں، لیکن امریکی مردم شماری کے اعداد و شمار پر مبنی ایک تخمینے کے مطابق کاؤنٹی میں پاکستانی نژاد افراد کی تعداد تقریباً 15,295 ہے،دونوں اعداد میں نمایاں فرق اس بات کی ضرورت اجاگر کرتا ہے کہ کمیونٹی کی آبادی، شہریت، ووٹر رجسٹریشن اور انتخابی شرکت کے بارے میں مستند اعداد و شمار جمع کیے جائیں، تاہم تمام پاکستانی امریکن تنظیمیں جو کمیونٹی میں فرقہ تصویریا کہلاتی ہیں ذاتی تعلقات اور فائدے کی تلاش میں سرگرداں نظر آتی ہیں جن میں ڈاکٹر اعجاز احمد کی اے پی پیک تنظیم سر فہرست ہے
مقامی پاکستانی امریکیوں کے لیے اصل سوال صرف آبادی کی تعداد نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس آبادی میں کتنے افراد امریکی شہری ہیں، کتنے ووٹ ڈالنے کے لیے رجسٹرڈ ہیں اور کتنے باقاعدگی سے مقامی، ریاستی اور وفاقی انتخابات میں حصہ لیتے ہیں،کمیونٹی میں یہ شکایت بھی سننے میں آتی ہے کہ متعدد تنظیمیں موجود ہونے کے باوجود ووٹر رجسٹریشن، نوجوانوں کو مقامی سیاست میں آگے لانے اور منتخب نمائندوں کے ساتھ مستقل رابطے کے لیے اتنی منظم کوششیں دکھائی نہیں دیتیں جتنی پاکستانی حکام کے دوروں اور سیاسی شخصیات کے ساتھ تقریبات کے انعقاد پر نظر آتی ہیں
14 اکتوبر کی ملاقات کے حوالے سے بھی کمیونٹی کے اندر اختلافات کی اطلاعات ہیں،پاکستان پوسٹ امریکہ کو بعض ایسے افراد نے بتایا ہے جو اس ملاقات کے انتظامات سے واقف ہیں کہ واٹس ایپ گروپ کے ذریعے دعوت نامے بھیجے جانے کے باوجود متعدد افراد نے ڈاکٹر اعجاز کی رہائش گاہ پر منعقد ہونے والی تقریب میں شرکت سے معذرت کی ہے ، ان ذرائع کے مطابق بعض لوگوں کا اعتراض یہ ہے کہ کمیونٹی کی تقریبات اکثر ایک ہی شخصیت یا تنظیم کے گرد مرکوز ہو جاتی ہیں، جس سے دوسرے سماجی اور سیاسی کارکنوں کو مناسب نمائندگی نہیں ملتی،
ڈاکٹر اعجاز کی جانب سے چلائی جانے والی اے پی پاک تنظیم بھی اس بحث کا حصہ ہے،کمیونٹی میں اس تنظیم کے سیاسی روابط، پاکستانی حکام کے ساتھ تعلقات اور تقریبات کے انتظام میں اس کے کردار کے حوالے سے مختلف آرا پائی جاتی ہیں،بعض حلقے ان روابط کو پاکستانی امریکیوں کے لیے سیاسی رسائی کا ذریعہ سمجھتے ہیں، جبکہ دوسرے حلقوں کا خیال ہے کہ مقامی سیاست میں کمیونٹی کی نمائندگی چند شخصیات یا تنظیموں تک محدود نہیں ہونی چاہیے،پاکستان کے بعض حکام کے ڈاکٹر اعجاز کی رہائش گاہ پر آنے اور مختلف سیاسی شخصیات سے ان کے روابط کمیونٹی میں بھی موضوع گفتگو ہے،
مقامی سیاسی روابط کے حوالے سے ایک اور معاملہ بھی زیر بحث ہے،پاکستان پوسٹ امریکہ کو بعض ذرائع نے بتایا کہ ڈاکٹر اعجاز کے ٹام سوازی کے ساتھ تعلقات میں ماضی میں تناؤ پیدا ہوا تھا، کیونکہ ان کے بقول سوازی کی حمایت کے باوجود ڈاکٹر اعجاز کی رہائش گاہ پر ٹام سوازی کی کانگریس کے انتخاب میں ماضی کی سیاسی حریف کے لیے فنڈ ریزنگ تقریب منعقد ہوئی تھی،اور واقعہ جو تصدیق شدہ ہے، ڈاکٹر اعجاز کی سیاسی میچورٹی اور مقامی سیاسی تعلقات میں ذاتی روابط اور انتخابی حمایت کے درمیان پیچیدگی کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے
ڈاکٹر اعجاز احمد کے مختلف امریکی سیاسی رہنماؤں کے ساتھ روابط اور ان کی رہائش گاہ پر ہونے والی تقریبات کو بھی کمیونٹی میں نمایاں طور پر زیر بحث لایا جاتا ہے،تاہم، کسی سیاست دان کے ساتھ تصویر، ملاقات یا ذاتی تعلق کی بنیاد پر کسی شخص کی جماعتی وابستگی یا سیاسی وفاداری کا حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، مگر نظریاتی و فکری مائنڈ سیٹ کو سمجھنے میں مددگار ضرور قرار دیا جاتا ہے ، امریکی سیاست میں مختلف جماعتوں کے رہنماؤں سے روابط رکھنا بذاتِ خود غیر معمولی بات نہیں، لیکن جب کوئی تنظیم مقامی کمیونٹی کی نمائندگی کا دعویٰ کرے تو اس کی ترجیحات، سرگرمیوں اور نتائج پر سوال اٹھانا بھی جائز ہے
لانگ آئی لینڈ میں پاکستانی امریکیوں کے علاوہ جنوبی ایشیائی اور یہودی ووٹر بھی انتخابی سیاست میں اہم کردار ادا کرتے ہیں،ایسے متنوع حلقے میں کسی امیدوار کے لیے کمیونٹی کے مختلف طبقات تک رسائی رکھنا اہم ہے،سوازی کی پاکستانی امریکیوں سے ملاقات اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ دیکھا جا سکے گا کہ کمیونٹی اپنے مسائل، خصوصاً کاروبار، امیگریشن، تعلیم، صحت، ٹیکس اور مقامی ترقی کے معاملات، براہِ راست منتخب نمائندے کے سامنے کس حد تک پیش کرتی ہے
اس پوری صورت حال کا بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی امریکی تنظیمیں اپنی سیاسی سرگرمیوں کو محض شخصیات کے ساتھ ملاقاتوں، تصاویر اور تقریبات تک محدود رکھیں گی، یا وہ ووٹر رجسٹریشن، مقامی نمائندگی اور انتخابی شرکت بڑھانے کے لیے بھی قابلِ پیمائش نتائج پیش کریں گی؟ اگر ناساؤ کاؤنٹی میں پاکستانی امریکی آبادی کے بارے میں مختلف اندازے گردش کر رہے ہیں تو کمیونٹی کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ مستند مردم شماری کے اعداد و شمار اور ووٹر رجسٹریشن کے ریکارڈ کی بنیاد پر اپنی حقیقی سیاسی قوت کا تعین بھی کرے
ٹام سوازی کی 14 اکتوبر کی ملاقات اس حوالے سے ایک موقع فراہم کرتی ہے کہ پاکستانی امریکی اپنے مشترکہ مسائل کو منظم انداز میں سامنے لائیں اور یہ واضح کریں کہ کمیونٹی کی سیاسی نمائندگی کسی ایک گھر، تنظیم یا شخصیت تک محدود نہیں، بلکہ اس کا اصل پیمانہ ووٹروں کی شرکت، عوامی مسائل کے حل اور مقامی سیاست میں دیرپا اثرورسوخ ہونا چاہیے




