Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

کوئٹہ میں فوجی تربیتی طیارہ گر کر تباہ، 2 پائلٹ شہید؛ تکنیکی خرابی کا سرکاری مؤقف، بلوچستان میں حالیہ حملوں کے تناظر میں بلوچ لبریشن آرمی کے ملوث ہونے کا شبہ

کوئٹہ میں فوجی تربیتی طیارہ گر کر تباہ، 2 پائلٹ شہید؛ تکنیکی خرابی کا سرکاری مؤقف، بلوچستان میں حالیہ حملوں کے تناظر میں بلوچ لبریشن آرمی کے ملوث ہونے کا شبہ

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے نواں کلی کے قریب پاک فوج کا تربیتی طیارہ گر کر تباہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں پاک فوج کے ایوی ایشن ونگ کے انسٹرکٹر پائلٹ میجر حسنین شہزاد ہمایوں اور زیر تربیت پائلٹ کیپٹن عبدالصمد جاں بحق ہوگئے۔ فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق حادثہ پیر 12 اکتوبر کو دوپہر کے وقت پیش آیا اور ابتدائی سرکاری مؤقف کے مطابق طیارہ تکنیکی خرابی کے باعث حادثے کا شکار ہوا
آئی ایس پی آر کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ مشاق تربیتی طیارہ تھا، جو پاک فوج کے ایوی ایشن ونگ کے زیر استعمال تھا،میجر حسنین شہزاد ہمایوں انسٹرکٹر پائلٹ جبکہ کیپٹن عبدالصمد زیر تربیت پائلٹ تھے؟دونوں افسران کی ناگہانی موت پر اعلیٰ حکومتی شخصیات نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سوگوار خاندانوں سے تعزیت کی ہے،ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر نے بھی دونوں پائلٹس کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ قوم اپنے بہادر سپوتوں کی خدمات اور قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے
حادثے کے وقت اور مقام کی اہمیت کے باعث بلوچستان کی مجموعی سکیورٹی صورت حال میں اس واقعے پر توجہ مرکوز ہوگئی ہے،یہ حادثہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب گوادر کے ساحلی علاقے جیوانی کے قریب پاکستان کوسٹ گارڈز کی 2 کشتیوں پر حملے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں،بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے 13 اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے، تاہم اس تعداد کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور پاکستانی حکام کی جانب سے واقعے کی مکمل تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں
طیارے کے حادثے اور ساحلی کشتیوں پر حملے کے درمیان کسی تعلق کا تاحال کوئی مصدقہ ثبوت سامنے نہیں آیا،بعض غیر مصدقہ اطلاعات اور تبصروں میں طیارے کو بھی بلوچ مسلح تنظیموں کی کارروائی کا ممکنہ ہدف قرار دینے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم ان دعوؤں کی تصدیق نہیں ہوئی اور نہ ہی دستیاب سرکاری بیان میں کسی حملے یا تخریب کاری کا ذکر کیا گیا ہے،بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) یا بی ایل اے کی جانب سے اس طیارے کو نشانہ بنانے کا کوئی مصدقہ دعویٰ بھی سامنے نہیں آیا
اس لیے فی الحال حادثے کو مسلح حملے کا نتیجہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا،اصل سوال یہ ہے کہ تکنیکی خرابی کی نوعیت کیا تھی اور کیا تحقیقات میں کسی بیرونی مداخلت یا تخریب کاری کا امکان بھی زیر غور ہے،حادثے کی حتمی وجوہات کے بارے میں مزید معلومات اور متعلقہ تحقیقات کے نتائج سامنے آنے کے بعد ہی اس حوالے سے کوئی نتیجہ اخذ کیا جا سکے گا
بلوچستان میں حالیہ دنوں کے دوران سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے واقعات اور ساحلی علاقوں میں مسلح کارروائیوں کی اطلاعات نے صوبے کی سکیورٹی صورت حال کو مزید حساس بنا دیا ہے،ایسے ماحول میں فوجی تربیتی طیارے کا حادثہ متعدد سوالات ضرور اٹھاتا ہے،

قومی خبریں سے مزید