معاشی استحکام پر تحقیق کے لیے دو امریکی ماہرینِ معاشیات نوبیل انعام کے مستحق قرار، نوبیل انعام یافتہ ماہرین معاشی استحکام کے لیے حکومت عوام کے درمیان اعتماد کو اہم سمجھتے ہیں
معاشی استحکام کی بنیادوں، خصوصاً گھریلو صارفین اور کاروباری اداروں کی توقعات کے کردار پر تحقیق کرنے والے دو امریکی ماہرینِ معاشیات رابرٹ ای ہال اور مائیکل ووڈفورڈ کو معاشیات کا نوبیل انعام دینے کا اعلان کیا گیا ہے،دونوں ماہرین کی تحقیق اس بات کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ حکومتیں اور مرکزی بینک مہنگائی، معاشی سست روی اور توانائی کی قیمتوں میں اچانک اضافے جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے اپنی پالیسیوں کو کس طرح مؤثر بنا سکتے ہیں
رابرٹ ای ہال اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں معاشیات کے پروفیسر ہیں، جبکہ مائیکل ووڈفورڈ کولمبیا یونیورسٹی میں اسی شعبے سے وابستہ ہیں،دونوں ماہرین کے درمیان انعام کی مجموعی رقم 12 ملین سویڈش کرونا برابر تقسیم کی جائے گی، جو تقریباً 1.3 ملین ڈالر بنتی ہے
1930 کی دہائی میں معروف ماہرِ معاشیات جان مینارڈ کینز نے ایسی معاشی پالیسیوں کے نظریات پیش کیے تھے جن کا مقصد معاشی سرگرمیوں میں ضرورت سے زیادہ تیزی یا شدید سست روی کو قابو میں رکھنا تھا،ان پالیسیوں نے کئی دہائیوں تک معاشی نظم و ضبط قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا، تاہم 1970 کی دہائی میں توانائی کے بحرانوں اور قیمتوں میں اچانک اضافے نے ان پالیسیوں کی حدود نمایاں کر دیں
نوبیل انعام سے متعلق ادارے کے مطابق ہال اور ووڈفورڈ کے کام نے اس بات کو سمجھنے کے لیے ایک اہم فکری بنیاد فراہم کی کہ بعض روایتی معاشی پالیسیاں بدلتے ہوئے حالات میں کیوں ناکام ہوئیں،ان کی تحقیق میں اس امر کو بھی اہمیت دی گئی ہے کہ صارفین اور کاروباری ادارے مستقبل کی معاشی صورت حال کے بارے میں کیا توقعات رکھتے ہیں اور ان توقعات کے مطابق اپنے اخراجات، سرمایہ کاری اور مالی فیصلوں کو کیسے تبدیل کرتے ہیں
اس تحقیق کا ایک اہم نتیجہ یہ ہے کہ حکومتوں اور مرکزی بینکوں کے لیے صرف شرحِ سود میں تبدیلی یا مالیاتی اقدامات کافی نہیں ہوتے،انہیں اپنی پالیسیوں، فیصلوں کی وجوہات اور مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں واضح ابلاغ بھی کرنا ہوتا ہے، کیونکہ عوام اور کاروباری اداروں کی توقعات خود معاشی سرگرمیوں پر اثر انداز ہوتی ہیں
دونوں امریکی ماہرین کی تحقیق جدید معاشی پالیسی سازی میں اس بنیادی سوال کو نمایاں کرتی ہے کہ معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے حکومتی اقدامات کے ساتھ عوامی اعتماد اور مستقبل کے بارے میں توقعات کو کس طرح بہتر طور پر سمجھا جائے






