Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اہم خبریں

بالآخر خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ، دہشت گردی کی آڑ لیکر پی ٹی آئی کا اقتدار ختم،دھشگردی کیسے کم ہوگی، کتنی دیر میں ہوگی، نہ ہوئ تو ذمہ دار کون، کوئ منصوبہ نہیں پیش کیاگیا، فیلڈ مارشل کا نیا پنگا

بالآخر خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ، دہشت گردی کی آڑ لیکر پی ٹی آئی کا اقتدار ختم،دھشگردی کیسے کم ہوگی، کتنی دیر میں ہوگی، نہ ہوئ تو ذمہ دار کون، کوئ منصوبہ نہیں پیش کیاگیا، فیلڈ مارشل کا نیا پنگا

اسلام آباد:فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی شہباز شریف حکومت نے آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے صوبے کا کنٹرول سنبھال لیا، مگر بڑا سوال یہ ہے کہ کیا منتخب حکومت کو ہٹانے سے دہشت گردی ختم ہوگی یا دھشتگردی کے ساتھ سیاسی محاذ آرائی اور عوامی بے چینی مزید بڑھے گی؟
اسلام آباد نے 11 اکتوبر 2026: خیبر پختونخوا میں بالآخر وہی کیا جس کا وفاقی حکومت گزشتہ کئی روز سے عندیہ دے رہی تھی، وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کی سفارش اور صدر آصف علی زرداری کی منظوری کے بعد صوبے میں ایمرجنسی کے ساتھ گورنر راج نافذ کردیا گیا ہے،اس اقدام کے نتیجے میں عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف کی زیر قیادت صوبائی حکومت کا انتظامی اختیار عملاً وفاق کے مقرر کردہ گورنر کے ہاتھ میں چلا گیا ہے
صدرِ مملکت کے اعلامیے میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات، سرکاری تنصیبات، بنیادی ڈھانچے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں اور صوبائی حکومت کی جانب سے امن و امان برقرار رکھنے میں مبینہ ناکامی کو اس فیصلے کی وجوہات قرار دیا گیا ہے،حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبے میں بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر فوری آئینی مداخلت ناگزیر ہوگئی تھی
یہ محض ایمرجنسی کے اعلان کا معاملہ نہیں،آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی اور آرٹیکل 234 کے تحت صوبائی آئینی نظام کے بارے میں کارروائی کی گئی ہے،دونوں دفعات کا حوالہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وفاق نے صوبے کے انتظامی معاملات اپنے اختیار میں لینے کے لیے غیر معمولی آئینی راستہ اختیار کیا ہے،آئینی ماہرین کے مطابق ان دونوں دفعات کے قانونی تقاضے الگ ہیں اور اقدام کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیتے وقت ان کی شرائط، جواز اور دائرۂ اختیار کو الگ الگ دیکھنا ہوگا
وفاقی حکومت کے اس فیصلے کا وقت بھی سیاسی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے،یہ اقدام ایسے وقت ہوا ہے جب پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کی تیاری کر رہی ہے،اس لیے گورنر راج کو صرف امن و امان کے انتظامی فیصلے کے طور پر دیکھنا مشکل ہے،ایک طرف حکومت دہشت گردی سے نمٹنے میں صوبائی انتظامیہ کی ناکامی کو جواز بنا رہی ہے، دوسری طرف اس فیصلے کے فوری سیاسی اثرات براہ راست پی ٹی آئی کی حکومت اور اس کی احتجاجی مہم پر پڑیں گے
پی ٹی آئی کے ترجمان ذوالفقار بخاری نے اس اقدام کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا ملک کی واحد ایسی حکومت ہے جسے وہ حقیقی انتخابی مینڈیٹ کی حامل سمجھتے ہیں،ان کے مطابق، اس فیصلے سے خونریزی، عدم استحکام اور مزید نقصان کا خطرہ بڑھے گا،پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ وفاق نے مذاکرات کے بجائے تصادم کا راستہ اختیار کیا ہے
اس کے برعکس وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ دہشت گردی کے خلاف صوبائی حکومت کی مبینہ عدم دلچسپی نے وفاقی مداخلت ناگزیر بنا دی،اصل سوال یہ ہے کہ کیا انتظامی اختیار اسلام آباد منتقل کرنے سے وہ مسائل حل ہو جائیں گے جن کے باعث صوبے میں دہشت گردی کے واقعات بڑھ رہے ہیں؟
کیا وفاق کے اس انتہائ اقدام سے دھشگردی کم ہوگی ؟ یہ اس فیصلے کا سب سے اہم اور ابھی تک غیر حل شدہ سوال ہے،انتظامی کنٹرول تبدیل کرنے سے سکیورٹی اداروں کے درمیان رابطہ، فیصلوں پر عمل درآمد اور وسائل کے استعمال میں تبدیلی آسکتی ہے، لیکن اس سے دہشت گردی خود بخود ختم نہیں ہوتی،اس کے لیے مؤثر انٹیلی جنس، پولیس اور انسداد دہشت گردی کے اداروں کی صلاحیت، مقامی آبادی کا تعاون، سرحدی سلامتی اور مسلسل سیاسی و انتظامی حکمت عملی درکار ہوتی ہے
وفاقی حکومت نے اپنے فیصلے کے حق میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات اور صوبائی حکومت کی ناکامی کا حوالہ دیا ہے، لیکن اس اعلان کے ساتھ ایسا کوئی قابلِ پیمائش منصوبہ سامنے نہیں آیا جس سے واضح ہو کہ گورنر راج کے بعد دہشت گرد حملوں میں کمی کیسے آئے گی، کتنی مدت میں نتائج سامنے آئیں گے اور ناکامی کی صورت میں کس کو جواب دہ ٹھہرایا جائے گا؟
اس کے برعکس، اگر یہ اقدام صوبے میں وفاق اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی تصادم کو مزید گہرا کرتا ہے تو اس کے منفی اثرات بھی سامنے آسکتے ہیں،مقامی انتظامیہ اور منتخب نمائندوں کے ساتھ تعاون کم ہونے، عوامی احتجاج بڑھنے اور سیاسی توانائی سکیورٹی کے بجائے اقتدار کی کشمکش پر صرف ہونے کا خطرہ موجود ہے،تاہم یہ کہنا بھی قبل از وقت ہوگا کہ گورنر راج لازماً دہشت گردی میں اضافہ کرے گا،اس کا فیصلہ عملی نتائج اور سکیورٹی پالیسی کی کامیابی یا ناکامی سے ہوگا
آئینی ماہرین کا انتباہ: دہشت گردی اور آئینی ناکامی دو الگ سوال ہیں
سپریم کورٹ کے وکیل باسل نبی ملک نے آرٹیکل 232 اور آرٹیکل 234 کے درمیان فرق واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلا سکیورٹی خطرات اور ہنگامی حالات سے متعلق ہے، جبکہ دوسرا اس صورت حال سے متعلق ہے جب صوبائی حکومت آئین کے مطابق نہ چلائی جا سکے،بیرسٹر علی طاہر نے بھی ان دونوں دفعات کو بالترتیب سکیورٹی ایمرجنسی اور آئینی نظام کی ناکامی سے متعلق قرار دیا
ہائی کورٹ کے وکیل حسن عبداللہ نیازی نے بھی وفاقی مداخلت کے جواز پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ محض سیاسی اختلاف یا مرکز اور صوبے کے درمیان کشیدگی آئینی نظام کی ناکامی ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں،ان ماہرین کے مطابق، اگر صوبائی اسمبلی کام کر رہی ہو اور وزیراعلیٰ کو اسمبلی کی حمایت حاصل ہو تو آرٹیکل 234 کے تحت اقدام کے لیے محض سیاسی یا سکیورٹی بنیادوں کا حوالہ کافی ہونے پر سنجیدہ قانونی سوالات پیدا ہوتے ہیں
یہ قانونی اعتراضات خود بخود یہ ثابت نہیں کرتے کہ موجودہ اعلان غیر آئینی ہے،اس کی حتمی قانونی حیثیت کا تعین اعلان کی اصل شرائط، آئینی تقاضوں اور متعلقہ عدالتی کارروائی کی روشنی میں ہوگا،لیکن یہ بحث اس لیے اہم ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے اختیار حاصل کرنا اور ایک منتخب صوبائی حکومت کو آئینی طور پر معطل یا بے اختیار کرنا دو الگ معاملات ہیں
عوام گورنر راج قبول کریں گے یا مزاحمت کریں گے؟
خیبر پختونخوا کے عوام کی اجتماعی رائے کے بارے میں کسی تازہ اور معتبر سروے کے بغیر یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ اکثریت اس فیصلے کی حمایت کرے گی یا مخالفت،پی ٹی آئی کو صوبے میں نمایاں سیاسی حمایت حاصل ہے، اس لیے وفاقی اقدام کو اس کے حامی اپنے انتخابی مینڈیٹ پر حملہ سمجھ سکتے ہیں،دوسری جانب، دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کے شہری امن، تحفظ اور معمولات زندگی کی بحالی کو فوری ترجیح دے سکتے ہیں، خواہ اس کے لیے انتظامی اقدامات میں تبدیلی ہی کیوں نہ ہو
حکومت کے لیے اصل امتحان صرف صوبائی انتظام سنبھالنا نہیں بلکہ عوام کو یہ دکھانا ہوگا کہ اس تبدیلی سے ان کی جان و مال کا تحفظ بہتر ہوا ہے،اگر حملے جاری رہتے ہیں، مقامی آبادی میں عدم تحفظ برقرار رہتا ہے اور سیاسی تنازعہ شدت اختیار کرتا ہے تو وفاق کے لیے اپنے فیصلے کا دفاع کرنا مشکل ہوسکتا ہے،اگر سکیورٹی میں قابلِ پیمائش بہتری آتی ہے تو حکومت اسے اپنے اقدام کی کامیابی کے ثبوت کے طور پر پیش کر سکے گی
بہرحال فوری طور پر صوبائی اقتدار منتقل ہوگیا ہے ، کامیابی ابھی ثابت ہونا باقی ہے
شہباز شریف حکومت نے گورنر راج کے ذریعے خیبر پختونخوا کے سیاسی منظرنامے کو یکسر تبدیل کردیا ہے،وفاق کو اب یہ ثابت کرنا ہوگا کہ یہ اقدام محض پی ٹی آئی کو سیاسی طور پر دباؤ میں لانے کے لیے نہیں بلکہ دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے ضروری تھا
پی ٹی آئی کے لیے چیلنج یہ ہوگا کہ وہ اپنے سیاسی مؤقف اور انتخابی مینڈیٹ کا دفاع آئینی اور جمہوری طریقوں سے کیسے کرتی ہے،وفاق کے لیے چیلنج اس سے بھی بڑا ہے،کیا وہ دہشت گردی کے خلاف ایسی حکمت عملی پیش کرسکتا ہے جس کے نتائج عوام اپنی زندگیوں میں محسوس کریں؟
گورنر راج نافذ کرنا ایک انتظامی فیصلہ ہے، دہشت گردی ختم کرنا ایک عملی نتیجہ،دونوں کو ایک سمجھنا غلط ہوگا،آئندہ ہفتوں اور مہینوں میں حملوں کی تعداد، شہریوں کا تحفظ، مقامی انتظامیہ کی کارکردگی اور سیاسی ردعمل ہی بتائیں گے کہ یہ اقدام امن کی طرف پیش رفت ثابت ہوتا ہے یا پاکستان کے پہلے سے کشیدہ سیاسی ماحول میں ایک نیا محاذ کھول دیتا ہے

قومی خبریں سے مزید