Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اہم خبریں

تھیٹر سے احتجاجی سیاست تک: مودی حکومت کے لیے چیلنج بننے والی نوجوان رہنما نیہا بورا کون ہیں؟

تھیٹر سے احتجاجی سیاست تک: مودی حکومت کے لیے چیلنج بننے والی نوجوان رہنما نیہا بورا کون ہیں؟

دہلی:بھارت میں نوجوانوں کے احتجاجی سلسلے نے ایک نئی سیاسی آواز کو نمایاں کردیا ہے،29 سالہ طالبہ اور بائیں بازو کی طلبہ تنظیم آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی قومی صدر نیہا بورا ان نوجوان رہنماؤں میں شامل ہوگئی ہیں جو وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف بڑھتی ہوئی بے چینی کی علامت بن رہے ہیں
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، بورا اس ہفتے کے اختتام پر ان متعدد کارکنوں میں شامل تھیں جنہیں پولیس نے حراست میں لیا،حکام نے اس وقت مظاہرین کے خلاف کارروائی کی جب ’’کاکروچ‘‘ کے نام سے سرگرم نوجوانوں کی تحریک سے وابستہ افراد نے مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف احتجاج کی کوشش کی،مظاہرین کا الزام ہے کہ مودی کی جماعت کو فائدہ پہنچانے کے لیے بڑے پیمانے پر ووٹوں میں ہیرا پھیری کی گئی
بورا کا کہنا ہے کہ انہوں نے سیاست میں آنے کا فیصلہ ابتدا ہی سے نہیں کیا تھا،ان کے سیاسی سفر کی ابتدا تھیٹر سے ہوئی، جہاں انہوں نے اظہار اور مکالمے کے ہنر سیکھے،بعد ازاں 2019 اور 2020 میں شہریت کے قانون کے خلاف طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاج نے انہیں سیاسی سرگرمیوں کی جانب مزید راغب کیا
ان کی شناخت ایک ایسے وقت میں ابھری ہے جب بھارت میں نوجوان امتحانات میں مبینہ پرچوں کے افشا، روزگار کے محدود مواقع اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف شکایات کا اظہار کررہے ہیں،بورا کے مطابق، موجودہ احتجاج محض کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ برسوں سے جمع ہونے والی شکایات اور نوجوانوں کی مایوسی کا اظہار ہے
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، ہفتے کو پولیس نے مظاہرین کو نئی دہلی میں احتجاج کے لیے مختص مقام جنتر منتر تک پہنچنے سے روک دیا،اس کے بعد بورا نے حراست میں رہتے ہوئے بھی مظاہرین کو اپنی جدوجہد جاری رکھنے کی اپیل کی
نیہا بورا کا ابھرنا بھارت کی نوجوان سیاست میں ایک اہم پیش رفت ہے، جہاں طلبہ تنظیمیں اور نئے احتجاجی گروہ روایتی سیاسی قیادت سے ہٹ کر اپنی جگہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں،ان کی بڑھتی ہوئی شناخت اس وسیع تر سوال کو بھی نمایاں کرتی ہے کہ روزگار، امتحانی نظام اور انتخابی شفافیت سے متعلق نوجوانوں کے تحفظات بھارتی سیاست پر کس حد تک اثرانداز ہوسکتے ہیں

قومی خبریں سے مزید