غزہ پر اسرائیلی حملے، 5 فلسطینی ہلاک، جنگ بندی کے مستقبل پر سوالات
غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 5 فلسطینی ہلاک ہوگئے طبی حکام کے مطابق یہ ہلاکتیں ہفتے کے روز 2 الگ الگ حملوں میں ہوئیں، جس کے بعد گزشتہ سال طے پانے والی جنگ بندی پر عمل درآمد اور غزہ میں امن کی کوششوں کے حوالے سے ایک مرتبہ پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں
طبی عملے کے مطابق غزہ شہر میں پانڈا مال کے قریب اسرائیلی حملے میں 4 فلسطینی ہلاک ہوئے، جبکہ شہر کے طفاح محلے میں ایک اور شخص جان سے ہاتھ دھو بیٹھا اسرائیلی فوج نے کہا کہ ان حملوں میں جنگجوؤں کو نشانہ بنایا گیا، تاہم اس نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں
اسرائیل نے حالیہ ہفتوں کے دوران حماس کے خلاف حملوں میں اضافہ کیا ہے اسرائیلی حکومت کا دعویٰ ہے کہ حماس دوبارہ اسلحہ جمع کر رہی ہے اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہے حماس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے ہتھیاروں کا ذخیرہ دوبارہ تیار کرنے یا حملے کرنے کی کوشش نہیں کر رہی تنظیم کا الزام ہے کہ اسرائیل مسلسل حملوں کے ذریعے جنگ بندی اور امن معاہدے کو نقصان پہنچا رہا ہے
امریکا کی ثالثی میں گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کا ایک اہم مقصد غزہ کی تعمیر نو اور جنگ کے خاتمے کے لیے مستقل معاہدے کی راہ ہموار کرنا تھا تاہم اس معاہدے پر مکمل عمل درآمد میں بہت کم پیش رفت ہوئی ہے حماس کو غیر مسلح کرنے اور غزہ سے اسرائیلی فوج کے انخلا کی شرائط پر اختلافات بدستور موجود ہیں
غزہ کے طبی حکام کے مطابق جنگ بندی طے پانے کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں میں کم از کم 1,400 فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں دوسری جانب اسرائیل کا کہنا ہے کہ اسی عرصے کے دوران غزہ میں مسلح افراد کے حملوں میں اس کے 4 فوجی ہلاک ہوئے ہیں
غزہ میں موجودہ جنگ کا آغاز 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں اسرائیل پر حملوں کے بعد ہوا تھا اسرائیلی حکام کے مطابق ان حملوں میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک اور 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا اس کے بعد اسرائیل نے غزہ میں بڑے پیمانے پر فضائی بمباری اور زمینی کارروائیاں شروع کیں
غزہ کے طبی حکام کے مطابق اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اب تک 74,000 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں بڑے پیمانے پر تباہی، بے گھر ہونے والے خاندانوں کی مشکلات اور بنیادی سہولتوں کی کمی نے علاقے میں انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے
تازہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب جنگ بندی کے باوجود تشدد مکمل طور پر ختم نہیں ہوسکا اور غزہ کی تعمیر نو کے لیے درکار سیاسی اتفاق رائے پیدا نہیں ہوا مسلسل ہلاکتوں سے شہریوں کے تحفظ، امدادی سرگرمیوں اور مستقل امن معاہدے کے امکانات کے بارے میں تشویش برقرار ہے





