لنڈی کوتل کے قبائلی علاقوں میں شہریوں کی آمدورفت پر پابندی، مسلح گروہوں کی نقل و حرکت میں اضافے پر تشویش
خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل میں سکیورٹی خدشات کے باعث قبائلی باشندوں کو بعض حساس اور خطرناک پہاڑی علاقوں میں جانے سے روک دیا گیا ہے مقامی انتظامیہ کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹس میں سلطان خیل، نیکہ خیل اور ولی خیل کے رہائشیوں کو مخصوص علاقوں میں جانے سے منع کیا گیا ہے یہ پابندی اگلے حکم تک نافذ رہے گی اور اس کا اطلاق سیاحتی مقامات کی سیر، ذاتی کاموں اور کاروباری سرگرمیوں سمیت ہر قسم کی آمدورفت پر ہوگا
نوٹس کے مطابق ولی خیل کے علاقے ننگروسا، سلطان خیل کی حدود میں شپیلہ، عیسر اور لاکا سر کی بالائی پہاڑیوں جبکہ نیکہ خیل کے علاقے میں ٹنگہ نالہ اور شاکری کی پہاڑیوں کو خطرناک قرار دیا گیا ہے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان مقامات کا رخ نہ کریں کیونکہ وہاں کسی ناخوشگوار واقعے کا خدشہ موجود ہے نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پابندی والے علاقوں میں جانے کی صورت میں کسی جانی یا مالی نقصان کی ذمہ داری متاثرہ افراد پر عائد ہوگی
یہ اقدام ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی اور اغوا برائے تاوان کے واقعات میں اضافے کے خدشات کے تناظر میں کیا گیا ہے مقامی ذرائع کے مطابق حالیہ ہفتوں میں لنڈی کوتل کے مختلف حصوں میں مسلح افراد کی نقل و حرکت تیز ہوئی ہے بعض رابطہ سڑکوں پر رات کے وقت عارضی ناکے قائم کرنے اور مقامی لوگوں کی اچانک تلاشی لینے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں
مقامی ذرائع نے بتایا کہ مسلح افراد کو مختی خیل، اش خیل، سلطان خیل، کم شلمان اور لاکا سر کے علاوہ ضلع خیبر کی تحصیل جمرود کے بعض علاقوں میں بھی دیکھا گیا ہے ان کے مطابق کچھ مسلح افراد موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر رات کے وقت سڑکوں پر گشت کرتے رہے ہیں تاہم سرکاری ذرائع نے مسلح افراد کی آمد کے بارے میں مقامی اطلاعات سے اختلاف کیا ہے
مقامی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مسلح گروہوں کے متعدد ارکان افغانستان سے غیر معروف راستوں کے ذریعے ضلع خیبر میں داخل ہوئے دوسری جانب سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ان میں سے بیشتر افراد گزشتہ سال دسمبر میں وادی تیراہ کے متاثرہ علاقوں سے ہزاروں خاندانوں کی نقل مکانی کے بعد اس خطے میں پہنچے ان ذرائع کے مطابق مسلح افراد نے ولی خیل کے راستے لاکا سر کی طرف پیش قدمی کی اور ان راستوں کو پشاور کی وادی تک پہنچنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی
لاکا سر کی پہاڑیاں جمرود اور پشاور کی وادی کے بڑے حصے پر نظر رکھنے کی وجہ سے جغرافیائی اہمیت رکھتی ہیں سکیورٹی ذرائع کے مطابق ایسے راستوں پر مسلح گروہوں کی موجودگی سے انہیں ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک پہنچنے اور ممکنہ کارروائیوں کے لیے نقل و حرکت میں سہولت مل سکتی ہے
رپورٹ کے مطابق بعض مقامی تاجروں، حاجی ظریف عرف لندائی حاجی اور حاجی وسیم، کے اغوا برائے تاوان کے حالیہ واقعات میں بھی ان مسلح گروہوں کے بعض ارکان کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے تاہم ان واقعات میں ذمہ داری اور ملزمان کے کردار سے متعلق حتمی تفصیلات سامنے نہیں آئیں
لنڈی کوتل اور اس کے گردونواح میں سکیورٹی کی صورت حال پہلے بھی مقامی آبادی کے لیے تشویش کا باعث رہی ہے جولائی 2026 میں بھی علاقے میں ٹارگٹ کلنگ، مسلح افراد کی نقل و حرکت اور تاجروں سے بھتہ وصولی کی اطلاعات سامنے آئی تھیں سرحدی تجارت اور آمدورفت میں رکاوٹوں نے بھی مقامی کاروبار کو متاثر کیا ہے
حالیہ پابندی سے شہریوں کی حفاظت کو ترجیح دینے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن اس کے ساتھ مقامی آبادی کی روزمرہ زندگی، روزگار اور کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہو سکتی ہیں علاقے کے امن و امان کو بہتر بنانے کے لیے خطرناک مقامات پر نگرانی، اغوا برائے تاوان کے واقعات کی روک تھام اور مسلح گروہوں کی نقل و حرکت کے بارے میں قابل اعتماد معلومات کی تصدیق اہم ہوگی





