ٹانک میں الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں نامعلوم مسلح افراد نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل شمشاد اختر کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا یہ واقعہ ہفتے کے روز پیش آیا، جب وہ اپنے بھائی کے انتقال کے بعد آبائی گاؤں گڑھا بلوچ میں تعزیت کے لیے آئے ہوئے تھے
ضلع ٹانک کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر عبدالصمد خان کے مطابق شمشاد اختر اپنے گھر پر تعزیت کے لیے آنے والے افراد سے ملاقات کر رہے تھے اسی دوران جب وہ گھر سے باہر نکلے تو نامعلوم حملہ آوروں نے ان پر فائرنگ کر دی وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ پولیس نے واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی تلاش کے لیے کارروائی شروع کر دی
پولیس کے مطابق تاحال حملہ آوروں کی شناخت اور قتل کے محرکات سامنے نہیں آئے اس بات کی بھی تصدیق نہیں ہو سکی کہ انہیں ذاتی دشمنی، سرکاری عہدے یا کسی دوسرے سبب کی بنا پر نشانہ بنایا گیا
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اپنے ڈائریکٹر جنرل کے قتل پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کو ٹارگٹ کلنگ قرار دیا ادارے کے مطابق شمشاد اختر ایک دیانت دار، خوش اخلاق اور فرض شناس افسر تھے اور ان کی ساتھیوں میں عزت کی جاتی تھی الیکشن کمیشن کے بیان کے مطابق ان کی کسی سے ذاتی دشمنی نہیں تھی
چیف الیکشن کمشنر، کمیشن کے ارکان، سیکریٹری اور دیگر ملازمین نے ان کے قتل پر تعزیت کرتے ہوئے سوگوار خاندان سے ہمدردی کا اظہار کیا الیکشن کمیشن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سرکاری ملازمین کو حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات کیے جائیں
ضلع ٹانک جنوبی خیبر پختونخوا کا وہ علاقہ ہے جہاں حالیہ عرصے میں پولیس، سکیورٹی اہلکاروں، امن کمیٹیوں کے ارکان اور سرکاری عہدے داروں کو نشانہ بنانے کے واقعات پیش آتے رہے ہیں اس پس منظر میں الیکشن کمیشن کے اعلیٰ افسر کا قتل سرکاری ملازمین کے تحفظ اور علاقے میں امن و امان کی صورت حال پر مزید سوالات اٹھاتا ہے
تاہم اس واقعے میں کسی مسلح گروہ نے فوری طور پر ذمہ داری قبول نہیں کی اور پولیس کی تحقیقات مکمل ہونے تک حملے کے مقصد کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا





