قیام پاکستان کے وقت برطانیہ اور بھارت سے دوستی کی خواہش، مگر تقسیم کے ادھورے معاملات آج بھی کشیدگی کی وجہ
پاکستان کے قیام کے وقت قائداعظم محمد علی جناح نے برطانیہ اور پڑوسی ملک ہندوستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم رکھنے کی خواہش ظاہر کی تھی، لیکن 1947 میں تقسیم ہند کے دوران پیدا ہونے والے تنازعات آج تک پاکستان اور بھارت کے تعلقات پر اثر انداز ہو رہے ہیں کشمیر کا مسئلہ، علاقائی اختلافات اور دونوں ممالک کے درمیان جنگوں کی تاریخ نے دوطرفہ تعلقات کو مسلسل کشیدگی کا شکار رکھا ہے
14 اگست 1947 کو اخبار ڈان کے دہلی ایڈیشن کے صفحہ اول پر قائداعظم کے اس مؤقف کی عکاسی کی گئی تھی کہ پاکستان برطانیہ اور اپنے پڑوسی ملک ہندوستان کے ساتھ خیر سگالی اور دوستی کے تعلقات قائم رکھنے کی کوشش کرے گا یہ بیان اس وقت سامنے آیا تھا جب برطانوی اقتدار کے خاتمے کے بعد برصغیر میں 2 آزاد ریاستیں وجود میں آ رہی تھیں اور دونوں ممالک کے مستقبل کے بارے میں بڑی امیدیں وابستہ کی جا رہی تھیں
برطانیہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں مختلف ادوار کے دوران اتار چڑھاؤ آتا رہا، لیکن مجموعی طور پر دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات برقرار رہے اس کے برعکس پاکستان اور بھارت کے تعلقات تقسیم کے چند ماہ بعد ہی کشمیر کے تنازعے کی وجہ سے شدید متاثر ہوگئے ریاست جموں و کشمیر کے حکمران مہاراجہ ہری سنگھ نے بھارت کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کیے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تنازع شروع ہوا یہ مسئلہ کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود حل نہیں ہوسکا
پاکستان اور بھارت کے درمیان مختلف ادوار میں بڑی اور چھوٹی جنگیں بھی ہوئیں۔ مئی 2025 میں پہلگام واقعے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ایک اور سنگین فوجی تصادم سامنے آیا اس تاریخی پس منظر میں تقسیم ہند کے بعض بنیادی تنازعات کا حل نہ ہونا دونوں ممالک کے درمیان مستقل بداعتمادی اور دشمنی کی ایک اہم وجہ سمجھا جاتا ہے
تقسیم کے وقت صرف کشمیر ہی متنازع علاقہ نہیں تھا بلکہ ریاست جوناگڑھ کا معاملہ بھی اہم تھا جوناگڑھ کا نوابی علاقہ موجودہ بھارتی ریاست گجرات کے علاقے کاٹھیاواڑ میں واقع تھا اگست 1947 میں جوناگڑھ کی حکومت نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا تھا ریاست کے آئینی امور کے سیکریٹری اسماعیل ابرامانی نے قائداعظم سے ملاقات کرکے انہیں اس فیصلے سے آگاہ کیا تھا
تاہم بھارت نے جوناگڑھ کے پاکستان کے ساتھ الحاق کو قبول نہیں کیا اور نومبر 1947 میں اس ریاست پر قبضہ کرلیا۔اس کے برعکس کشمیر کے ہندو حکمران کی جانب سے بھارت کے ساتھ الحاق کو نئی دہلی نے تسلیم کیا اس طرح جوناگڑھ اور کشمیر کے معاملات تقسیم کے بعد دونوں ممالک کے درمیان علاقائی تنازعات کی پیچیدگی کو ظاہر کرتے ہیں
قیام پاکستان کے وقت امیدوں کے ساتھ خوف اور بے یقینی بھی موجود تھی لاہور سمیت برصغیر کے مختلف علاقوں میں فرقہ وارانہ تشدد، آتش زنی اور لوٹ مار کے واقعات پیش آئے اس وقت کی اخباری رپورٹوں کے مطابق لاہور کے اندرون شہر کے کئی علاقے آگ کی لپیٹ میں تھے اور متعدد مقامات پر پولیس اور فوج کی فائرنگ جاری تھی
صورت حال اس قدر خراب ہوگئی تھی کہ لاہور کے کئی علاقوں میں 11 گھنٹے کا کرفیو نافذ کرنا پڑا امن و امان بحال کرنے کے لیے فوج کی 3 بریگیڈز تعینات کی گئیں۔ امرتسر اور اتر پردیش کے شہر مرادآباد سے بھی فرقہ وارانہ بدامنی کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں
ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آزادی کے وقت برصغیر کے عوام کو ایک جانب نوآبادیاتی اقتدار سے نجات کی امید تھی، تو دوسری جانب تقسیم کے نتیجے میں تشدد، نقل مکانی اور مذہبی بنیادوں پر نفرت نے معاشرتی زندگی کو شدید متاثر کیا۔ یہ فرقہ وارانہ تقسیم اور باہمی بداعتمادی بعد کے برسوں میں بھی مختلف شکلوں میں برقرار رہی
پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی تاریخ پر نظر ڈالنے سے واضح ہوتا ہے کہ قیام پاکستان کے وقت دوستانہ تعلقات کی خواہش کے باوجود علاقائی تنازعات، کشمیر کا مسئلہ اور تقسیم کے دوران پیدا ہونے والے اختلافات حل نہیں ہوسکے ان معاملات نے دونوں ممالک کی خارجہ پالیسی، سلامتی کے فیصلوں اور عوامی رویوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں
تاریخ کے ان واقعات کا جائزہ لینے کا مقصد صرف ماضی کو یاد کرنا نہیں بلکہ یہ سمجھنا بھی ہے کہ تقسیم کے وقت پیدا ہونے والے تنازعات کس طرح کئی دہائیوں بعد بھی خطے کے امن اور تعلقات پر اثر انداز ہو رہے ہیں ان مسائل کے حل کے لیے تاریخی حقائق کو سمجھنا، اختلافات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینا اور دیرپا امن کے امکانات پر توجہ دینا اہم ہے





