Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اہم خبریں

جھوٹے حملوں کے الزامات اور سرکاری بیانیوں پر بڑھتا عدم اعتماد

جھوٹے حملوں کے الزامات اور سرکاری بیانیوں پر بڑھتا عدم اعتماد

دنیا میں جنگوں اور سلامتی کے بحرانوں کے دوران حکومتوں کی جانب سے پیش کیے جانے والے دعووں اور ان کے پس منظر پر سوالات بڑھ رہے ہیں بعض اوقات کسی مخالف ملک یا گروہ کے خلاف فوجی کارروائی کا جواز پیدا کرنے کے لیے ایسے واقعات کو استعمال کیا جاتا ہے جن کی حقیقت متنازع ہو ایسے واقعات کو عام طور پر ’’فالس فلیگ‘‘ یعنی جعلی کارروائی یا ایسا واقعہ قرار دیا جاتا ہے جس کا الزام کسی دوسرے فریق پر ڈال کر سیاسی یا فوجی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی جائے
حالیہ دنوں میں دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کے بارے میں خبریں سامنے آئیں کہ ایک اسرائیلی پلمبر نے شریک پائلٹ کی جانب سے مبینہ طور پر طیارہ اغوا کرنے یا اسے تباہ کرنے کی کوشش ناکام بنائی اس واقعے کی مزید تفصیلات سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ہزاروں پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ واقعہ اسرائیلی حکومت اور اس کے اتحادی ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے تیار کردہ ایک جعلی کارروائی ہوسکتا ہے تاہم ان دعوؤں کو ثابت شدہ حقیقت قرار نہیں دیا جاسکتا اور ان کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے
جعلی کارروائیوں کے تصور پر بحث کرتے ہوئے بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومتوں کے بیانات پر عوام کس حد تک اعتماد کریں اور کسی واقعے کو درست یا غلط تسلیم کرنے سے پہلے کس نوعیت کے شواہد کا مطالبہ کیا جائے اطلاعاتی جنگ کے اس دور میں سرکاری بیانات، ذرائع ابلاغ کی خبروں اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کے درمیان فرق کرنا پہلے سے زیادہ اہم ہوگیا ہے
تاریخی طور پر ذرائع ابلاغ اور تفریحی صنعت نے بعض معاشروں کے بارے میں عوامی تصورات تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے جب کسی ملک یا قوم کو مسلسل تشدد پسند، خطرناک یا دشمن کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تو عوام کے ذہنوں میں اس کے متعلق پہلے سے منفی رائے پیدا ہوسکتی ہے ایسے ماحول میں اگر کسی بحران کے دوران اس ملک پر سنگین الزام لگایا جائے تو بعض لوگ شواہد کا جائزہ لیے بغیر اس پر یقین کرلیتے ہیں
میڈیا کے کردار پر تحقیق کرنے والے ایڈورڈ ہرمن اور نوم چومسکی نے اپنی کتاب ’’مینوفیکچرنگ کنسینٹ‘‘ میں وضاحت کی تھی کہ ذرائع ابلاغ کا ڈھانچہ اور ادارہ جاتی مفادات عوامی رائے کو سرکاری پالیسیوں کے حق میں ڈھال سکتے ہیں اسی طرح امریکی صحافی والٹر لپمین نے وضاحت کی تھی کہ لوگ دنیا کے بارے میں اپنے تصورات بنانے کے لیے اکثر ذرائع ابلاغ سے حاصل ہونے والی ذہنی تصاویر پر انحصار کرتے ہیں
ماضی کی جنگوں میں بھی ایسے واقعات سامنے آئے جنہوں نے سرکاری دعووں کی ساکھ پر سوالات اٹھائے 1964 میں ویتنام جنگ کے دوران خلیج ٹونکن کے واقعے کو امریکہ نے شمالی ویتنام کے خلاف فوجی کارروائی بڑھانے کے جواز کے طور پر پیش کیا تھا بعد میں سامنے آنے والی خفیہ دستاویزات نے ان واقعات سے متعلق امریکی مؤقف کے اہم حصوں پر سوالات اٹھائے اور یہ واضح کیا کہ حملوں سے متعلق سرکاری بیانیہ مکمل طور پر درست نہیں تھا
1990 میں عراق کے کویت پر حملے کے بعد ایک امریکی عوامی مہم میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ عراقی فوجیوں نے کویت کے ہسپتالوں میں بچوں کو انکیوبیٹرز سے نکال دیا تھا بعد میں اس بیان کے پس منظر اور اسے پھیلانے میں تعلقات عامہ کی ایک کمپنی کے کردار پر سوالات اٹھے اس واقعے نے دکھایا کہ جنگ کے دوران جذباتی نوعیت کے دعوے عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے کس طرح استعمال ہوسکتے ہیں
2003 میں عراق پر امریکی اور برطانوی حملے سے پہلے یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ صدام حسین کی حکومت کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہیں اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں اور متعدد صحافیوں نے ان دعوؤں کے حق میں ٹھوس شواہد کا مطالبہ کیا تھا بعد میں عراق میں ایسے ہتھیاروں کے ذخائر نہیں ملے جن کی بنیاد پر جنگ کا جواز پیش کیا گیا تھا اس معاملے نے حکومتوں کی فراہم کردہ خفیہ معلومات اور ان کی بنیاد پر کیے جانے والے فیصلوں کی ساکھ پر طویل عرصے تک اثر ڈالا
تاہم سرکاری بیانات پر سوال اٹھانے اور ہر واقعے کو سازش قرار دینے میں فرق ہے اگر کوئی حکومت کسی واقعے کی وضاحت پیش کرے تو اس وضاحت کو آزادانہ شواہد، دستاویزات اور قابل اعتماد تحقیقات کی روشنی میں جانچنا چاہیے لیکن اگر ہر سرکاری بیان کو بغیر کسی ثبوت کے جھوٹ قرار دے دیا جائے تو حقیقی خطرات اور ثابت شدہ جرائم بھی شکوک و شبہات کی نذر ہوسکتے ہیں
ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اب کسی واقعے کے چند منٹوں کے اندر مختلف اور متضاد دعوے دنیا بھر میں پھیل سکتے ہیں ایک طرف حکومتیں اپنے مؤقف کو فروغ دیتی ہیں تو دوسری طرف سوشل میڈیا صارفین بھی نامکمل معلومات یا غیر مصدقہ مواد کی بنیاد پر متبادل کہانیاں پیش کرسکتے ہیں اس صورت حال میں عوام کو صرف سرکاری ذرائع پر اندھا اعتماد کرنے کے بجائے ہر دعوے کے شواہد دیکھنے چاہییں، لیکن محض شکوک کی بنیاد پر کسی متبادل دعوے کو بھی درست نہیں ماننا چاہیے
اس بحث کا ایک اہم پہلو اسرائیل اور بھارت سے متعلق سلامتی کے معاملات بھی ہیں بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ مخالفین کو مسلسل خطرناک بنا کر پیش کرنے اور پھر ان کے خلاف کارروائیوں کے لیے سرکاری جواز پیش کرنے سے حکومتوں کی ساکھ متاثر ہوسکتی ہے تاہم کسی مخصوص واقعے کو جعلی کارروائی قرار دینے کے لیے الگ اور قابل تصدیق شواہد درکار ہوتے ہیں، محض سیاسی اختلاف یا عوامی شبہات کافی نہیں
موجودہ اطلاعاتی ماحول میں سب سے اہم ضرورت تنقیدی سوچ، آزادانہ صحافت اور شواہد پر مبنی تحقیق ہے عوام کو حکومتوں کے دعووں کی جانچ کرنے کا حق حاصل ہے، جبکہ ذرائع ابلاغ کی ذمہ داری ہے کہ وہ تصدیق شدہ حقائق، الزامات اور قیاس آرائیوں کے درمیان واضح فرق رکھیں اسی توازن کے ذریعے غلط معلومات، سرکاری پروپیگنڈے اور بے بنیاد سازشی نظریات کے اثرات کم کیے جاسکتے ہیں

قومی خبریں سے مزید