Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اہم خبریں

کینیڈا نے عالمی فوجداری عدالت کی حمایت کرتے ہوئے امریکی پابندیوں کی مخالفت کر دی

کینیڈا نے عالمی فوجداری عدالت کی حمایت کرتے ہوئے امریکی پابندیوں کی مخالفت کر دی

کینیڈا نے امریکہ کی جانب سے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کرنے کے اعلان کے بعد 7 دیگر ممالک کے ساتھ مل کر عدالت کی آزادی اور خودمختاری کی حمایت کا اعلان کیا ہے اس مشترکہ بیان میں ڈنمارک، جرمنی، فرانس، اٹلی، جاپان، نیدرلینڈز اور برطانیہ بھی شامل ہیں ان ممالک نے امریکی اقدام سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کی غیر جانب داری، آزادی اور سالمیت کا تحفظ ضروری ہے
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے 9 اکتوبر 2026 کو ان پابندیوں کا اعلان کیا امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ عالمی فوجداری عدالت امریکہ اور اس کے اتحادیوں، خصوصاً اسرائیل، کے خلاف تحقیقات کے ذریعے امریکی خودمختاری کو نقصان پہنچا رہی ہے واشنگٹن نے عدالت کے ساتھ لین دین پر پابندی لگانے اور اسے امریکی مالیاتی خدمات، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور امریکی ڈالر تک رسائی سے محروم کرنے کے اقدامات کیے ہیں امریکی کمپنیوں اور افراد کو عدالت کے ساتھ اپنے کاروباری تعلقات ختم کرنے کے لیے 6 ماہ کی مہلت دی گئی ہے
عالمی فوجداری عدالت نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں قائم ایک مستقل بین الاقوامی عدالت ہے، جسے نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم، جنگی جرائم اور جارحیت کے جرم سے متعلق مقدمات کی تحقیقات اور کارروائی کا اختیار حاصل ہے۔ اس عدالت کے رکن ممالک کی تعداد 125 ہے امریکہ اس عدالت کے قیام کے معاہدے کا رکن نہیں ہے اور طویل عرصے سے اس کے امریکی حکام اور فوجیوں پر اختیار کے معاملے پر اعتراضات کرتا رہا ہے
عدالت نے امریکی پابندیوں کو انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ اور بین الاقوامی قانون کی بنیادوں پر حملہ قرار دیا ہے عدالت کی صدر ٹوموکو اکانے نے کہا کہ یہ معاملہ صرف ایک ادارے کے تحفظ تک محدود نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی پر مبنی عالمی نظام کے تحفظ سے بھی تعلق رکھتا ہے
کینیڈا اور اس کے 7 شراکت دار ممالک نے خبردار کیا ہے کہ اگر پابندیاں پوری طرح نافذ ہوئیں تو عدالت کے کام، اس کے عملے اور ان کے خاندانوں پر نمایاں اثر پڑ سکتا ہے ان ممالک نے عدالت کو اپنا کام جاری رکھنے میں مدد دینے اور عالمی سطح پر جواب دہی کے اصول کو برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے
اس معاملے پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے درمیان سفارتی اختلافات بڑھنے کا خدشہ ہے امریکی حکومت چاہتی ہے کہ اس کے اتحادی بھی عدالت کے خلاف اقدامات کی حمایت کریں، جبکہ کینیڈا اور دیگر دستخط کنندہ ممالک نے عدالت کی آزادی برقرار رکھنے کا مؤقف اختیار کیا ہے یوں یہ تنازع صرف امریکہ اور عالمی فوجداری عدالت کے درمیان اختلاف نہیں رہا بلکہ بین الاقوامی انصاف، قومی خودمختاری اور عالمی قانون کے نفاذ سے متعلق ایک وسیع بحث بن گیا ہے

قومی خبریں سے مزید