Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

سعودی عرب میں پاکستانی فوج کی موجودگی کی پہلی واضح تصدیق، احمد شریف چوہدری کے CNN انٹرویو نے مکہ دفاعی اتحاد کے نئے مرحلے سے پردہ اٹھا دیا

سعودی عرب میں پاکستانی فوج کی موجودگی کی پہلی واضح تصدیق، احمد شریف چوہدری کے CNN انٹرویو نے مکہ دفاعی اتحاد کے نئے مرحلے سے پردہ اٹھا دیا

سعودی عرب میں پاکستانی فوجی دستوں کی موجودگی کے بارے میں کئی روز سے جاری قیاس آرائیوں کے درمیان ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے امریکی نشریاتی ادارے CNN کو دیے گئے انٹرویو میں پہلی مرتبہ اس موجودگی کی واضح تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی فوجی اہلکار سعودی عرب میں آج نہیں بلکہ کئی دہائیوں سے مختلف صلاحیتوں اور شعبوں میں تعینات ہیں،ان کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعلقات بھی کئی دہائیوں پر محیط ہیں
احمد شریف چوہدری سے CNN کے انٹرویو میں بنیادی سوال یہ تھا کہ کیا مکہ دفاعی اتحاد کے تحت پاکستانی فوجی یا سکیورٹی اہلکار پہلے ہی سعودی عرب پہنچ چکے ہیں،ان کا جواب اس لحاظ سے اہم تھا کہ انہوں نے محض نئے معاہدے کے تحت کسی ممکنہ مستقبل کی تعیناتی کی بات نہیں کی بلکہ واضح کیا کہ پاکستانی فوجی اہلکار پہلے ہی سعودی عرب میں موجود ہیں اور ان کی موجودگی مختلف صلاحیتوں اور شعبوں تک پھیلی ہوئی ہے
ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس موجودگی کو نئے مکہ دفاعی معاہدے کا اچانک نتیجہ قرار دینے کے بجائے پاکستان اور سعودی عرب کے طویل عرصے سے جاری سفارتی، سیاسی اور عسکری تعلقات کا تسلسل قرار دیا،انہوں نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان عوامی سطح کے روابط کا بھی حوالہ دیا،اس کا مطلب یہ ہے کہ مکہ دفاعی اتحاد نے ایک بالکل نیا فوجی تعلق پیدا کرنے کے بجائے پہلے سے موجود دفاعی تعاون کو ایک نئے اجتماعی دفاعی فریم ورک میں شامل کیا ہے
یہ بیان موجودہ علاقائی صورتحال میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ 5 اکتوبر کو ریاض میں مکہ دفاعی اتحاد کی ہنگامی ملاقات کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے اجتماعی دفاعی ذمہ داریوں پر فوری عملدرآمد اور سعودی عرب میں منظور شدہ فوجی صلاحیتوں کی تیز رفتار تعیناتی پر اتفاق کیا تھا،تینوں ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ کسی ایک رکن پر مسلح حملہ اجتماعی سلامتی کے خلاف حملہ تصور ہوگا
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سعودی عرب کو یمن کے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے ڈرون اور میزائل حملوں کا سامنا ہے، رائٹرز کے مطابق سعودی عرب حوثیوں کے خلاف ایک بڑے آپریشن کی تیاری بھی کر رہا ہے اور اس دوران اس کی سب سے بڑی تشویش تیل کی تنصیبات، اہم شہری انفراسٹرکچر اور اپنی سرحدوں کو حوثی میزائلوں اور ڈرونز سے محفوظ رکھنا ہے،اسی تناظر میں پاکستان اور ترکی کی دفاعی معاونت کی اہمیت بڑھ گئی ہے
یہاں گزشتہ روز سامنے آنے والی 30 سے 40 ہزار پاکستانی فوجیوں کی رپورٹ بھی اہم ہے،2 اکتوبر کو Reuters نے ایک پاکستانی ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ پاکستان نے سعودی عرب میں 30,000 سے 40,000 فوجی تعینات کیے ہیں جو سعودی سرحدوں کے دفاع اور ڈرون و میزائل حملوں کو روکنے میں مدد دے رہے ہیں،اسی رپورٹ کے مطابق فوجی مختلف مرحلوں میں گزشتہ سال سے سعودی عرب پہنچتے رہے ہیں اور حالیہ کشیدگی کے بعد بھی مزید اہلکار بھیجے گئے
پاکستان کی وزارت اطلاعات نے 6 اکتوبر کو Reuters کی اسی رپورٹ کو ’’قیاس آرائی پر مبنی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدے کے عملی اور آپریشنل پہلو خفیہ نوعیت کے ہیں،اس لیے 30 سے 40 ہزار کا عدد فی الحال ایک پاکستانی ذریعے سے منسوب Reuters کی رپورٹ ہے، سرکاری اعداد و شمار نہیں
تاہم آج احمد شریف چوہدری کا CNN کو یہ کہنا کہ پاکستانی فوجی پہلے ہی سعودی عرب میں مختلف شعبوں اور صلاحیتوں کے ساتھ موجود ہیں، اس بحث کو ایک نئی سطح پر لے جاتا ہے،انہوں نے فوجیوں کی مجموعی تعداد نہیں بتائی، نہ یہ واضح کیا کہ کون سی یونٹ کہاں تعینات ہے، اور نہ ہی موجودہ تعیناتی کی مکمل نوعیت ظاہر کی،لیکن انہوں نے بنیادی حقیقت کی تصدیق کر دی کہ سعودی عرب میں پاکستانی فوجی موجودگی موجود ہے اور یہ کوئی اچانک شروع ہونے والا انتظام نہیں
اس انٹرویو کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان اب سعودی عرب کے دفاع کو محض ایک دوطرفہ تعلق کے طور پر نہیں بلکہ مکہ دفاعی اتحاد کے وسیع تر علاقائی تناظر میں دیکھ رہا ہے،اگست میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے مکہ میں دفاعی معاہدہ کیا تھا جس میں اجتماعی دفاع کا اصول شامل ہے،اکتوبر کے آغاز میں تینوں ممالک نے اس معاہدے کو عملی شکل دینے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں
احمد شریف چوہدری کا یہ مؤقف بھی موجودہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے اہم ہے کہ مکہ دفاعی اتحاد کسی خلا میں قائم نہیں ہوا بلکہ کئی دہائیوں پرانے دفاعی تعلقات کو باضابطہ شکل دیتا ہے،اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ سعودی عرب میں پاکستانی فوج کی موجودگی کو صرف موجودہ حوثی جنگ یا حالیہ مکہ معاہدے سے جوڑنا تاریخی طور پر درست تصویر نہیں ہوگی،پاکستان 1960 کی دہائی سے سعودی فوج کو تربیت فراہم کرتا رہا ہے جبکہ 1982 کے معاہدے نے سعودی عرب میں پاکستانی فوجیوں کی تعیناتی کے لیے ایک باضابطہ فریم ورک بھی فراہم کیا تھا
دہشت گردی کے معاملے پر آج کے CNN انٹرویو سے زیادہ اہم احمد شریف چوہدری کا یکم اکتوبر کا مؤقف ہے،اس وقت انہوں نے واضح کیا تھا کہ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی سیاسی مصلحت کی نذر نہیں کی جا سکتی،ان کے مطابق پاکستان دو دہائیوں سے دہشت گردی کا مقابلہ کر رہا ہے اور ایک لاکھ سے زیادہ جانیں ضائع ہو چکی ہیں،انہوں نے سیاسی قیادت کی جانب سے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کی تجاویز کے تناظر میں کہا تھا کہ مختلف لوگوں کی مختلف رائے ہو سکتی ہے، لیکن ریاست کو دہشت گردی کے خلاف ایک واضح پالیسی پر عمل کرنا ہوگا
اسی پریس کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر خطے میں دہشت گردی موجود ہو، اس کے بیانیے میں ابہام پیدا کیا جائے اور ریاستی صلاحیتوں میں اضافہ نہ کیا جائے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا رویہ نااہلی، عدم دلچسپی یا دانستہ ملی بھگت میں سے کیا ہے؟ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو ریاست کی بقا سے جوڑا تھا
اس لیے سعودی عرب اور دہشت گردی کے دونوں معاملات کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو پاکستان کی موجودہ دفاعی پالیسی کا ایک وسیع تر خاکہ سامنے آتا ہے،اندرون ملک پاکستان افغانستان سے پیدا ہونے والی دہشت گردی کو بڑا خطرہ قرار دے رہا ہے، جبکہ بیرون ملک سعودی عرب کو ڈرون، میزائل اور حوثی حملوں سے درپیش خطرات کے تناظر میں دفاعی تعاون بڑھا رہا ہے
اس پوری صورتحال کا سب سے بڑا سوال اب یہ نہیں کہ سعودی عرب میں پاکستانی فوجی موجود ہیں یا نہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس بنیادی سوال کا جواب دے دیا ہے،اصل سوال اب یہ ہے کہ وہاں موجود پاکستانی فوجیوں کی اصل تعداد کتنی ہے، ان کا کردار دفاعی، تربیتی اور مشاورتی سطح تک محدود ہے یا وہ سعودی دفاعی کارروائیوں میں براہ راست حصہ لے رہے ہیں، اور مکہ دفاعی اتحاد کے فعال ہونے کے بعد پاکستان کی فوجی ذمہ داری کس حد تک بڑھ سکتی ہے
اب تک دستیاب سرکاری بیانات ان سوالات کے مکمل جوابات نہیں دیتے،پاکستان نے آپریشنل تفصیلات کو حساس اور خفیہ قرار دیا ہے، جبکہ Reuters کی 30 سے 40 ہزار فوجیوں والی رپورٹ کو وزارت اطلاعات نے مسترد کیا ہے،دوسری جانب پاکستانی فوج نے خود یہ ضرور واضح کر دیا ہے کہ سعودی عرب میں اس کی موجودگی حقیقی ہے، متعدد شعبوں میں ہے اور کئی دہائیوں پرانی دفاعی شراکت داری کا حصہ ہے
یہی وجہ ہے کہ آج کا CNN انٹرویو محض ایک معمول کا فوجی بیان نہیں بلکہ ایک اہم پالیسی سگنل ہے،پاکستان پہلی مرتبہ اتنے نمایاں امریکی عالمی میڈیا پلیٹ فارم پر یہ واضح کر رہا ہے کہ سعودی عرب میں اس کی فوجی موجودگی پہلے سے موجود ہے، جبکہ اسی وقت مکہ دفاعی اتحاد عملی مرحلے میں داخل ہو رہا ہے اور سعودی عرب کو حوثی حملوں کا سامنا ہے،اس صورتحال میں پاکستان کا کردار صرف ایک روایتی تربیتی شراکت دار سے بڑھ کر ایک اہم علاقائی دفاعی فریق بننے کی طرف جاتا دکھائی دے رہا

قومی خبریں سے مزید