Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

تین ماہ میں تنخواہ دار طبقے سے 144 ارب، ریٹیلرز سے صرف 11 ارب: معیشت کی بحالی کے دعوے کے بیچ پاکستان کا ٹیکس بحران

تین ماہ میں تنخواہ دار طبقے سے 144 ارب، ریٹیلرز سے صرف 11 ارب: معیشت کی بحالی کے دعوے کے بیچ پاکستان کا ٹیکس بحران
تجزیاتی رپورٹ: عامر آرائیں
پاکستان میں معیشت کی بحالی، ٹیکس نیٹ وسیع ہونے اور ریونیو میں تاریخی اضافے کے حکومتی دعووں کے درمیان تازہ اعداد ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں،رواں مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی، جولائی سے ستمبر، میں تنخواہ دار طبقے نے حکومت کو آمدن ٹیکس کی مد میں تقریباً 144 ارب روپے ادا کیے، جبکہ ریٹیلرز سے صرف 11.3 ارب روپے وصول ہوئے،ہول سیلرز اور ریٹیلرز کو ملا کر بھی وصولی صرف 18.4 ارب روپے رہی،یعنی صرف تنخواہ دار طبقے سے حاصل ہونے والا ٹیکس ریٹیلرز اور ہول سیلرز کی مشترکہ رقم سے تقریباً 8 گنا زیادہ ہے
یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ حکومت گزشتہ برسوں سے ریٹیل سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے تاجردوست اسکیم، رجسٹریشن اور فکسڈ ٹیکس سمیت متعدد اقدامات کا اعلان کرتی رہی ہے،لیکن تازہ سہ ماہی اعداد بتاتے ہیں کہ اس بڑے شعبے سے براہ راست ٹیکس وصولی اب بھی انتہائی محدود ہے،جولائی سے ستمبر کے دوران ریٹیلرز کی withholding tax وصولی گزشتہ سال کے مقابلے میں 8.3 فیصد بڑھی، مگر رقم صرف 11.3 ارب روپے رہی،دوسری طرف تنخواہ دار طبقے سے وصولی 10.2 فیصد اضافے کے ساتھ 144 ارب روپے تک پہنچ گئی
اس تصویر کو مجموعی ٹیکس نظام کے تناظر میں دیکھا جائے تو مسئلہ مزید واضح ہوتا ہے،FBR نے پہلی سہ ماہی میں مجموعی طور پر 3.083 ٹریلین روپے جمع کیے، جو 3.053 ٹریلین روپے کے ہدف سے 30 ارب زیادہ تھے،حکومت اسے ریونیو کارکردگی کی کامیابی قرار دے سکتی ہے، لیکن اس اضافے کا بڑا حصہ سیلز ٹیکس، پٹرولیم لیوی اور دیگر بالواسطہ ذرائع سے آیا،آمدن ٹیکس اور کسٹمز ڈیوٹی اپنے سہ ماہی اہداف سے کم رہے
یہاں پاکستان کی اصل کمزوری صرف تین ماہ کے ریٹیل ٹیکس میں نہیں بلکہ پورے ٹیکس ڈھانچے میں نظر آتی ہے،IMF کے مطابق پاکستان کا مجموعی tax-to-GDP ratio FY2025 میں تقریباً 12.3 فیصد تک پہنچا، جو 2000 کے بعد بلند ترین سطحوں میں سے ہے، لیکن اس کے باوجود peer countries کے مقابلے میں خاصا کم ہے،IMF نے واضح طور پر کہا ہے کہ پاکستان کی ٹیکس وصولی اب بھی comparable ممالک کے نچلے حصے میں ہے اور ریٹیلرز، جائیداد کے مالکان اور زرعی آمدنی جیسے پہلے کم ٹیکس دینے والے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا ضروری ہے
پاکستان کے مقابلے میں خطے کی بڑی یا درمیانی معیشتوں کا جائزہ اس فرق کو نمایاں کرتا ہے،ملائیشیا میں 2025 کے دوران مجموعی ٹیکس آمدنی تقریباً 12.4 فیصد GDP کے برابر رہی، جو پاکستان کے قریب ضرور ہے، لیکن ملائیشیا میں direct taxes کا حصہ تقریباً 8.7 فیصد GDP تھا، یعنی پاکستان کے مقابلے میں ٹیکس کا ڈھانچہ نسبتاً زیادہ براہ راست ٹیکسوں پر قائم ہے
انڈونیشیا میں 2025 کے لیے IMF کے اعداد کے مطابق مجموعی ٹیکس آمدنی تقریباً 11.2 فیصد GDP تھی، جس میں income, profits and capital gains taxes تقریباً 4.4 فیصد اور goods and services taxes تقریباً 4.7 فیصد GDP تھے،یعنی پاکستان کی طرح انڈونیشیا بھی کم tax-to-GDP ratio والا ملک ہے، لیکن وہاں بھی ٹیکس وصولی کے مختلف شعبے ایک باقاعدہ وسیع نظام کا حصہ ہیں
تائیوان کی مثال پاکستان کے لیے مزید اہم ہے،تائیوان کا مجموعی tax-to-GDP ratio 2025 میں 13.2 فیصد تھا، مگر اس کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ direct taxes کا حصہ مجموعی ٹیکس آمدنی کا تقریباً 70 فیصد تک پہنچ گیا،یعنی تائیوان میں حکومت کی آمدنی کا بڑا حصہ ایسے ذرائع سے آتا ہے جہاں آمدنی اور منافع کو براہ راست ٹیکس نظام میں شامل کیا جاتا ہے، جبکہ پاکستان اب بھی بالواسطہ ٹیکسوں پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے
ہانگ کانگ کا نظام اس سے بھی مختلف ہے،وہاں 2025 میں مجموعی tax revenue تقریباً 15 فیصد GDP کے برابر تھا۔ 2025-26 میں صرف profits tax تقریباً 212.6 ارب ہانگ کانگ ڈالر اور salaries tax تقریباً 97.7 ارب ڈالر رہا۔ ہانگ کانگ میں ریٹیل دکان سے براہ راست وصول ہونے والے ٹیکس کا کوئی ایک ایسا سرکاری عدد نہیں جو پاکستان کے 11.3 ارب روپے سے براہ راست موازنہ کیا جا سکے، کیونکہ وہاں ٹیکس کا نظام مختلف ہے اور business profits، salaries، stamp duty اور دیگر ذرائع اہم کردار ادا کرتے ہیں
پاکستان میں مسئلہ یہ ہے کہ حکومت ایک طرف مجموعی FBR وصولی کے 3.083 ٹریلین روپے کے سہ ماہی اعداد کو معاشی کارکردگی کی علامت کے طور پر پیش کرتی ہے، لیکن دوسری طرف بڑے غیر رسمی شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا بنیادی مسئلہ بدستور موجود ہے،حکومت کے اپنے اعداد کے مطابق FY2024-25 میں ریٹیل اور corporate retail sectors سے مجموعی وصولی 1,017.8 ارب روپے تھی، جس میں 628.3 ارب income tax اور 389.5 ارب sales tax شامل تھے،اس کے مقابلے میں تازہ سہ ماہی میں صرف ریٹیلرز کی withholding tax وصولی 11.3 ارب روپے رہی، جو یہ سوال اٹھاتی ہے کہ ٹیکس نیٹ میں شامل کیے جانے کے دعووں کے باوجود اصل مؤثر ٹیکس وصولی کہاں کھڑی ہے
یہاں ایک بنیادی فرق بھی سمجھنا ضروری ہے،ریٹیلرز سے صرف withholding tax کا 11.3 ارب روپے ہونا اس پورے شعبے کے ہر قسم کے ٹیکس کی مکمل تصویر نہیں ہے،سیلز ٹیکس، income tax، corporate retail اور دیگر مدات الگ ہو سکتی ہیں،اس لیے 11.3 ارب کو پورے پاکستانی ریٹیل سیکٹر کا کل ٹیکس کہنا درست نہیں ہوگا،لیکن یہ عدد اس بات کا مضبوط اشارہ ضرور ہے کہ حکومت جس شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی بات کر رہی ہے، وہاں براہ راست withholding tax collection ابھی بھی تنخواہ دار طبقے کے مقابلے میں انتہائی کم ہے
پاکستان کی معاشی بحالی کا اصل امتحان صرف یہ نہیں کہ FBR نے ایک سہ ماہی کا ہدف 30 ارب روپے سے عبور کر لیا،اصل سوال یہ ہے کہ ٹیکس کا بوجھ کس پر پڑ رہا ہے، کون سا طبقہ باقاعدگی سے ادا کر رہا ہے اور معیشت کے وہ شعبے جن کی سرگرمی اور آمدنی بڑی ہے وہ قومی خزانے میں کتنا حصہ ڈال رہے ہیں،تازہ اعداد میں ایک طرف تنخواہ دار طبقے سے تین ماہ میں 144 ارب روپے اور دوسری طرف صرف 11.3 ارب روپے ریٹیلرز سے وصول ہونا اسی بڑے سوال کو سامنے لاتا ہے
IMF خود پاکستان کے لیے ٹیکس نظام میں مزید اصلاحات کو بنیادی ضرورت قرار دے رہا ہے اور کہتا ہے کہ ریونیو بڑھانے کے لیے ریٹیلرز، پراپرٹی اور زرعی آمدنی جیسے شعبوں کو زیادہ مؤثر طریقے سے ٹیکس نیٹ میں لانا ہوگا،اس لیے مجموعی FBR وصولی میں اضافہ اپنی جگہ ایک حقیقت ہے، لیکن اسے اکیلے پاکستان کی وسیع البنیاد معاشی بحالی کا ثبوت سمجھنا مشکل ہے،اصل کامیابی تب ہوگی جب ٹیکس کی بنیاد وسیع ہو، غیر رسمی اور کم ٹیکس دینے والے بڑے شعبے مؤثر طور پر نظام میں آئیں اور حکومت کا انحصار محدود تعداد میں پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والے طبقوں پر
کم ہوسکے

قومی خبریں سے مزید