Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

خیبرپختونخوا میں جنگ کون بڑھا رہا ہے؟ سہیل آفریدی کے سخت اعلان نے وفاق اور صوبے کے درمیان اصل تنازع بے نقاب کر دیا

خیبرپختونخوا میں جنگ کون بڑھا رہا ہے؟ سہیل آفریدی کے سخت اعلان نے وفاق اور صوبے کے درمیان اصل تنازع بے نقاب کر دیا

پشاور:خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے فوجی آپریشن کے خلاف انتہائی سخت مؤقف نے خیبرپختونخوا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے ساتھ ساتھ وفاق اور صوبے کے درمیان اختیار، پالیسی اور فیصلہ سازی کی اس جنگ کو بھی مذید نمایاں کر دیا ہے جو اب محض سکیورٹی پالیسی کا اختلاف نہیں رہی بلکہ ایک بڑے سیاسی بحران کی شکل اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے،لانگ مارچ کے دوران سہیل آفریدی نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں آپریشن قبول نہیں کیا جائے گا اور ان کے مطابق بند کمروں میں کیے گئے فیصلے صوبے کے عوام پر مسلط نہیں کیے جا سکتے،اس سے پہلے بھی وہ متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ فوجی کارروائیوں کے بجائے سیاسی مذاکرات، مقامی جرگوں اور صوبائی حکومت کے اپنے ایکشن پلان کو آزمایا جائے
یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے یا نہیں،دہشت گردی کے خلاف ریاستی کارروائی کی ضرورت سے شاید ہی کوئی اختلاف کرے،اصل سوال یہ ہے کہ جس صوبے کی سرزمین پر آپریشن ہونا ہے، وہاں کی منتخب حکومت، صوبائی اسمبلی، پولیس، انتظامیہ، قبائلی عمائدین اور مقامی آبادی کو فیصلہ سازی میں کس حد تک شریک کیا جائے گا؟
سہیل آفریدی کا مؤقف ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں میں بڑے اور چھوٹے فوجی و انٹیلی جنس آپریشنز کے باوجود خیبرپختونخوا میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکا،وہ یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ اگر ایک ہی طریقہ بار بار آزمایا گیا اور مطلوبہ نتیجہ نہیں نکلا تو پالیسی پر نظر ثانی کیوں نہیں کی جاتی،خیبرپختونخوا حکومت نے اس کے مقابلے میں صوبائی ایکشن پلان وفاق کو دینے اور محدود مدت میں امن کے لیے اپنا طریقہ اختیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے
لیکن دوسری طرف وفاقی حکومت اور سکیورٹی حکام کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی ایک سنگین قومی سلامتی کا مسئلہ ہے اور ریاست دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی سے پیچھے نہیں ہٹ سکتی،موجودہ سیاسی کشیدگی میں یہی اختلاف خطرناک ہو گیا ہے کیونکہ ایک طرف وفاق سکیورٹی پالیسی پر اختیار برقرار رکھنا چاہتا ہے اور دوسری طرف صوبائی حکومت کہہ رہی ہے کہ اس کے عوام کی جان مال ، زمین اور مستقبل کے بارے میں فیصلے پشاور کو اعتماد میں لیے بغیر نہیں کیے جا سکتے،حالیہ لانگ مارچ کے مذاکرات بھی اسی وسیع تر تنازعہ کے ماحول میں ناکام ہوئے
یہاں آئین کا پہلو بھی انتہائی اہم ہے،آئین پاکستان کا آرٹیکل 245 مسلح افواج کو وفاقی حکومت کی ہدایات کے تحت ملک کے دفاع اور قانون کے مطابق سول پاور کی مدد کا اختیار دیتا ہے،اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ صوبائی حکومت کی اجازت کے بغیر وفاق کسی بھی صورت فوج استعمال نہیں کر سکتا،لیکن دوسری طرف آئین وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم بھی قائم کرتا ہے اور آرٹیکل 147 کے تحت صوبائی حکومت کو وفاق کو بعض صوبائی اختیارات سونپنے کا آئینی طریقہ بھی موجود ہے،چنانچہ اصل آئینی سوال صرف یہ نہیں کہ فوج کارروائی کر سکتی ہے یا نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ وفاقی اور صوبائی ادارے اس کارروائی کو کس آئینی، انتظامی اور سیاسی طریقہ کار کے تحت انجام دیتے ہیں،
دنیا بھر میں انسداد دہشت گردی اور شورش کے خلاف کامیاب حکمت عملی کا ایک بنیادی اصول یہی سمجھا جاتا ہے کہ فوجی طاقت کو مقامی انتظامیہ، پولیس، سیاسی قیادت اور آبادی کے تعاون سے جوڑا جائے،صرف بندوق سے کسی علاقے میں مستقل امن قائم کرنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ فوجی کارروائی کے بعد انٹیلی جنس، پولیسنگ، مقامی حکومت، متاثرین کی بحالی، نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی واپسی اور مقامی آبادی کا اعتماد بحال کرنا بھی ضروری ہوتا ہے،خیبرپختونخوا میں یہی سوال زیادہ اہم ہے کیونکہ صوبہ پہلے ہی طویل فوجی کارروائیوں، دہشت گردی، نقل مکانی اور جانی نقصان کا تجربہ کر چکا ہے
اسی لیے سہیل آفریدی کے مخالفین کا یہ کہنا کہ وزیراعلیٰ کو دہشت گردی کے خلاف ریاستی کارروائی کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے، اپنی جگہ ایک مضبوط دلیل رکھتا ہے،اگر مسلح گروہ صوبے کے شہریوں، پولیس اور فوجیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں تو حکومت کی پہلی ذمہ داری شہریوں کا تحفظ ہے،لیکن سہیل آفریدی کے حامیوں کا سوال بھی معمولی نہیں کہ اگر ہر اہم سکیورٹی فیصلہ پشاور میں منتخب حکومت اور صوبائی اسمبلی کو اعتماد میں لیے بغیر ہوگا تو پھر وفاقی نظام، صوبائی خودمختاری اور جمہوری فیصلہ سازی کا عملی مطلب کیا رہ جاتا ہے؟
یہی وہ نکتہ ہے جہاں آج کی لڑائی صرف تحریک انصاف اور وفاقی حکومت کی لڑائی نہیں رہی،یہ سوال اب اس سے کہیں بڑا ہو چکا ہے کہ پاکستان میں سکیورٹی پالیسی کون بناتا ہے، اس کا فیصلہ کون کرتا ہے اور اس کے نتائج کون بھگتتا ہے؟
خیبرپختونخوا کے لوگ برسوں سے دہشت گردی کا بوجھ اٹھا رہے ہیں،اگر کوئی آپریشن ہوتا ہے تو سب سے پہلے مقامی خاندان متاثر ہوتے ہیں، کاروبار متاثر ہوتا ہے، نقل مکانی ہوتی ہے، اسکول بند ہوتے ہیں اور مقامی پولیس و انتظامیہ پر دباؤ بڑھتا ہے،اس لیے یہ دلیل قابل غور ہے کہ جس آبادی کو سب سے زیادہ قیمت ادا کرنی ہے، اسے فیصلہ سازی سے باہر رکھنا طویل مدت میں ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے کو مزید بڑھا سکتا ہے
دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ دہشت گرد گروہوں کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ صوبائی خودمختاری یا سیاسی اختلاف کی آڑ میں ریاستی رٹ کو چیلنج کریں،اگر دہشت گردی بڑھ رہی ہے تو صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ماضی کے آپریشن ناکام ہوئے،متبادل پالیسی کو بھی عملی طور پر ثابت کرنا ہوگا کہ وہ دہشت گردی روک سکتی ہے، شہریوں کو تحفظ دے سکتی ہے اور ریاست کی رٹ قائم رکھ سکتی ہے
یہی وجہ ہے کہ موجودہ بحران میں سب سے خطرناک چیز خود اختلاف نہیں بلکہ مکالمے کا ختم ہونا ہے،جب وفاق کہے کہ سکیورٹی پالیسی پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، صوبہ کہے کہ بند کمروں میں فیصلے قبول نہیں ہوں گے، اپوزیشن لانگ مارچ لے کر اسلام آباد کی طرف بڑھے اور حکومت اسے روکنے کے لیے ریاستی طاقت استعمال کرنے کی تیاری کرے تو پھر دہشت گردی کے خلاف اصل جنگ پس منظر میں چلی جاتی ہے اور وفاق بمقابلہ صوبہ ایک نئی جنگ شروع ہو جاتی ہے
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کا یہ سخت لہجہ بھی اسی بڑھتی ہوئی کشیدگی کی علامت ہے،ان کا سیاسی بیانیہ اب صرف فوجی آپریشن کی مخالفت تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ فیصلے بند کمروں میں کون کرتا ہے اور ان فیصلوں کے نتائج عوام کیوں بھگتیں؟ ان کے حالیہ بیانات میں یہ مؤقف مسلسل سامنے آیا ہے کہ صوبے کو اپنی سکیورٹی پالیسی میں شریک کیا جائے اور طاقت کے بجائے مقامی سطح پر مذاکرات اور سیاسی حل تلاش کیا جائے
لیکن اس پوری صورتحال کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ قومی پارلیمنٹ میں اس بنیادی سوال پر وہ وسیع اور سنجیدہ سیاسی بحث دکھائی نہیں دیتی جو ایک ایسے صوبے میں نئی فوجی کارروائی یا انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی کے لیے ضروری ہونی چاہیے،اگر فیصلہ صرف چند طاقتور مراکز میں ہو، صوبائی حکومت اسے مسترد کرے، اپوزیشن اسے سیاسی لڑائی بنا دے اور آخرکار اس کے نتائج عام شہری، فوجی، پولیس اہلکار اور مقامی خاندان بھگتیں تو یہ صرف سکیورٹی کا بحران نہیں بلکہ جمہوری احتساب کا بحران بھی بن جاتا ہے
اس وقت یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں کہ اس لڑائی میں مکمل طور پر درست کون ہے اور غلط کون،وفاق کا دہشت گردی ختم کرنے کا حق اور ذمہ داری اپنی جگہ موجود ہے، لیکن صوبے کو اعتماد میں لینے، مقامی آبادی کو شریک کرنے اور پارلیمانی نگرانی کو یقینی بنانے کی ضرورت بھی اتنی ہی حقیقی ہے؟سہیل آفریدی کے سیاسی انداز اور زبان سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، مگر ان کے اٹھائے گئے بنیادی سوال کو صرف سیاسی نعرہ کہہ کر ختم کر دینا بھی خطرناک ہوگا
اصل خطرہ یہ ہے کہ پاکستان ایک ایسی لڑائی میں داخل نہ ہو جائے جس میں فیصلے اوپر ہوں، مزاحمت درمیان میں ہو اور قیمت نیچے عوام ادا کریں
اگر واقعی مقصد خیبرپختونخوا میں امن ہے تو پھر سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کون کس کو شکست دے گا،سوال یہ ہونا چاہیے کہ ایسا کون سا راستہ نکالا جائے جس میں دہشت گرد بھی شکست کھائیں، ریاست کی رٹ بھی قائم رہے، فوج اور پولیس کے جوان بھی محفوظ رہیں، صوبائی حکومت بھی شریک ہو اور سب سے بڑھ کر خیبرپختونخوا کے عام لوگ ایک بار پھر اپنے گھروں سے بے گھر ہونے، جنازے اٹھانے اور ایک نئی جنگ کی قیمت ادا کرنے سے بچ جائیں
ورنہ خطرہ یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ، وفاق اور صوبے کی جنگ بن جائے گی، اور اس جنگ کا سب سے بڑا نقصان پھر اسی عوام کا ہوگا جس کے نام پر دونوں فریق لڑنے کا دعویٰ کر رہے ہیں

قومی خبریں سے مزید