خیبرپختونخوا میں طالبان کے خلاف جنگ، پی ٹی آئی اور حکومت دونوں بند گلی میں کیوں پہنچ گئے؟ تحریک انصاف چاہتی ہے اسکی حکومت ختم کردی جائے
پاکستان میں خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورتحال اب محض دہشت گردی کے خلاف ایک فوجی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ وفاق، صوبائی حکومت، تحریک انصاف اور فوج کے درمیان اختیار کی ایک پیچیدہ کشمکش بن چکی ہے،وزیر دفاع خواجہ آصف نے 4 اکتوبر کو الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف کی قیادت خیبرپختونخوا میں دہشت گردی میں سہولت کاری کر رہی ہے اور صوبائی حکومت کو شہریوں اور فوجی اہلکاروں کی ہلاکتوں کا جواب دینا ہوگا؟اگلے روز انہوں نے پی ٹی آئی کی ٹی ٹی پی سے مذاکرات کی پالیسی کو صوبے کے بڑھتے ہوئے سکیورٹی بحران سے جوڑتے ہوئے کہا کہ ریاست کی پالیسی دہشت گردوں سے مذاکرات نہیں بلکہ دہشت گردی کا خاتمہ ہے
7 اکتوبر کو آج خواجہ آصف کا لہجہ مزید سخت ہوگیا ہے ،انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو ایسے حکمرانوں اور ’’طالبان کے اتحادیوں‘‘ کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا، ان کا دعویٰ ہے حکومت کے پاس تحریک انصاف اور طالبان کے درمیان روابط کے ٹھوس شواہد موجود ہیں ، اسی روز انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر اسلام آباد پر طالبان کے ساتھ ملی بھگت کے ذریعے حملے کی کوشش کی گئی تو حکومت کو وفاقی دارالحکومت کے دفاع کا حق ہی نہیں بلکہ ذمہ داری بھی حاصل ہے
لیکن اس پوری کشمکش کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جسے صرف حکومتی الزامات سے سمجھنا ممکن نہیں،تحریک انصاف کی قیادت کے سامنے ایک انتہائی مشکل سیاسی اور زمینی سوال ہے،اگر خیبرپختونخوا کی حکومت کھل کر فوجی کارروائیوں کی مکمل حمایت کرتی ہے تو اسے ایک ایسے صوبے میں اپنے سیاسی کارکنوں، مقامی رہنماؤں اور حکومتی ڈھانچے کی حفاظت کی ذمہ داری بھی اٹھانا ہوگی جہاں دہشت گردی کا خطرہ اب بھی شدید ہے،دوسری طرف اگر وہ کارروائیوں سے فاصلہ رکھتی ہے تو وفاق اسے دہشت گردی کے خلاف ریاستی پالیسی میں رکاوٹ یا کم از کم عدم تعاون کے طور پر پیش کرتا ہے
یہی وہ مقام ہے جہاں پی ٹی آئی ایک مشکل اور سیاسی بند گلی میں دکھائی دیتی ہے،پارٹی کی صوبائی حکومت کے لیے یہ کہنا آسان نہیں کہ وہ دہشت گردی کے خلاف ریاست کے ساتھ نہیں کھڑی، لیکن اسی وقت اس کے لیے وفاق یا فوج کی ہر کارروائی کی غیر مشروط سیاسی ذمہ داری قبول کرنا بھی آسان نہیں؟بالخصوص اس لیے کہ پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں اپنی سیاسی بقا کو اس صوبے کی مقامی سیاست، قبائلی علاقوں اور اپنے کارکنوں کے زمینی نیٹ ورک سے جوڑتی ہے
تحریک انصاف کے لیے ایک ممکنہ خوف یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر وہ فوجی کارروائیوں میں نمایاں طور پر ریاست کے ساتھ کھڑی ہوگئی تو مقامی سطح پر طالبان یا دوسرے مسلح گروہوں کی جانب سے اس کے سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے،خیبرپختونخوا کی سیاست میں اس خطرے کی تاریخی مثالیں موجود ہیں؟ماضی میں عوامی نیشنل پارٹی سمیت کئی سیاسی جماعتوں کے رہنما اور کارکن طالبان کی دہشت گردی کا نشانہ بنتے رہے ہیں،اس لیے پی ٹی آئی کے لیے یہ صرف اسلام آباد کی سیاست کا سوال نہیں بلکہ صوبے کے اندر اپنے سیاسی وجود اور کارکنوں کے تحفظ کا بھی مسئلہ ہے
دوسری طرف ریاستی اداروں کے سامنے بھی ایک آسان راستہ موجود نہیں؟اگر خیبرپختونخوا حکومت انسداد دہشت گردی کے عمل میں مکمل تعاون نہیں کرتی تو دہشت گردی کے خلاف کارروائی کی سیاسی ملکیت اور انتظامی ذمہ داری کا سوال پیدا ہوتا ہے؟وفاق یہ مؤقف اختیار کر رہا ہے کہ دہشت گردی ایک قومی سلامتی کا مسئلہ ہے اور اسے صوبائی سیاست کی نذر نہیں کیا جا سکتا،خواجہ آصف نے صوبے کی پولیس، انسداد دہشت گردی کے محکمے، خالی آسامیوں، سکیورٹی اخراجات اور مقدمات کی صورتحال پر بھی سوال اٹھائے ہیں؟ان کے مطابق گزشتہ دو برس میں صوبے میں تقریباً 6,200 دہشت گردی کے واقعات اور تقریباً 1,200 ہلاکتیں ہوئیں،
اس کے جواب میں خیبرپختونخوا حکومت نے وفاقی حکومت کے اس تاثر کو مسترد کیا ہے کہ صوبہ سکیورٹی کے معاملے میں کچھ نہیں کر رہا،صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبہ خود بھی بھاری مالی بوجھ اٹھا رہا ہے؟اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی نے یہ مؤقف بھی پیش کیا کہ صوبائی اسمبلی نے سکیورٹی صورتحال پر خصوصی کمیٹی اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورتی عمل شروع کر رکھا ہے اور پشاور کور کمانڈر کو بھی اس عمل میں شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے
یوں مسئلہ صرف یہ نہیں کہ فوج آپریشن کرنا چاہتی ہے اور پی ٹی آئی اس کی مخالفت کر رہی ہے،اصل مسئلہ یہ ہے کہ آپریشن کی سیاسی ملکیت کس کے پاس ہوگی، اس کے بعد صوبے میں انتظام کون چلائے گا اور اس کے ممکنہ ردعمل کی ذمہ داری کون اٹھائے گا؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ خیبرپختونخوا میں ریاستی رٹ کے بارے میں زمینی سطح پر ایک طویل عرصے سے یہ تاثر موجود ہے کہ کئی دور دراز علاقوں میں سرکاری اداروں کی موجودگی کمزور ہے اور رات کے اوقات میں عام شہری خود کو زیادہ غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں،اس تاثر کو یہ کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ پشاور میں حکومت موجود ہے؟حکومت کی اصل رٹ کا امتحان ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں پولیس، انتظامیہ اور عدالت کی موجودگی کمزور ہو اور مسلح گروہوں کا خوف عام لوگوں کی روزمرہ زندگی پر اثر انداز ہو
یہاں ایک اور پیچیدگی عمران خان کا معاملہ ہے،پی ٹی آئی کے مذاکراتی مؤقف میں عمران خان سے ملاقات اور ان کی شمولیت ایک مرکزی مطالبہ رہی ہے،حالیہ مذاکرات اسی مسئلے اور خیبرپختونخوا کی انسداد دہشت گردی پالیسی پر اختلافات کے باعث ناکام ہوئے،پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ عمران خان تک رسائی کے بغیر اہم سیاسی فیصلے ممکن نہیں، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ مذاکرات کو جیل میں موجود ایک سیاسی رہنما کی ملاقات سے مشروط نہیں کیا جا سکتا
یہی صورتحال دونوں فریقوں کو ایک خطرناک دائرے میں لے جا رہی ہے،وفاق کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی بڑھ رہی ہو تو وہ صوبائی حکومت کو نظر انداز کرکے مکمل مؤثر کارروائی کیسے کرے؟پی ٹی آئی کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ اگر وہ وفاق اور فوج کے ساتھ مکمل سکیورٹی تعاون کرتی ہے تو اس کے اپنے سیاسی کارکنوں اور صوبائی حکومت کے لیے سیاسی قیمت کیا ہوگی
اور اگر عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کے اندر یہ خدشہ موجود ہے کہ یہ ملاقات محض سکیورٹی پالیسی پر مشاورت تک محدود نہیں رہے گی بلکہ عمران خان اسے ایک نئی ملک گیر سیاسی تحریک کو متحرک کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں،اسی وجہ سے ایک ایسی ملاقات جو بظاہر مسئلے کا حل ہو سکتی ہے، حکومت کے لیے ایک نئے سیاسی بحران کا آغاز بھی بن سکتی ہے، اس تناظر میں مقتدر حلقے اصرار کرکے کہتے ہیں عمران خان ایک ضدی اور ہٹ دھرم انسان ہیں وہ ملکی سیکورٹی کے تناظر میں سوچنے سمجھنے کے بجائے سیاسی اسکورنگ کو ترجیع دیں گے ، ان ذرائع کا دعویٰ ہے منظر پہ موجود تحریک انصاف کی قیادت کے پاس کوئ اختیار نہیں ہے اور جس کے پاس اختیار ہے اسکے اپنے اختیار سے باہر نکل جانے کا خدشہ یقین کی حد تک ہے
دوسری طرف پی ٹی آئی بھی یہ جانتی ہے کہ اگر وہ مکمل طور پر سکیورٹی اداروں سے ٹکرا جاتی ہے تو خیبرپختونخوا میں اس کی اپنی حکومت کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں،اس وقت پارٹی کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایک ہی وقت میں اسلام آباد کے خلاف سیاسی مزاحمت بھی جاری رکھنا چاہتی ہے، خیبرپختونخوا میں اپنی حکومت بھی برقرار رکھنا چاہتی ہے اور طالبان کے خلاف ریاستی کارروائی کے سیاسی نتائج سے بھی خود کو محفوظ رکھنا چاہتی ہے
اسی لیے موجودہ بحران میں دونوں طرف کچھ نہ کچھ منطق موجود ہے؟وفاق کہتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی قومی ذمہ داری ہے اور کسی صوبائی حکومت کو اس میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے؟پی ٹی آئی کہتی ہے کہ صوبے میں کارروائیوں کا فیصلہ صوبائی حکومت کو اعتماد میں لے کر ہونا چاہیے اور مقامی حالات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،مسئلہ یہ ہے کہ دونوں مؤقف ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں اور اعتماد تقریباً ختم ہو چکا ہے
اس صورتحال کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ اگر سیاسی تنازعہ اور دہشت گردی کا مسئلہ ایک دوسرے میں مزید گھل گئے تو خیبرپختونخوا میں ہر سکیورٹی کارروائی کو سیاسی کارروائی اور ہر سیاسی احتجاج کو سکیورٹی خطرے کے طور پر دیکھا جانے لگے گا،یہی وہ صورت حال ہے جس سے ریاست کو بچنا چاہیے
حل شاید فوجی آپریشن یا سیاسی احتجاج میں سے کسی ایک کو مکمل طور پر جیتوانے میں نہیں بلکہ ایک ایسے فارمولے میں ہے جس میں وفاق، خیبرپختونخوا حکومت، فوج، پولیس اور سیاسی جماعتیں ایک واضح سکیورٹی فریم ورک پر متفق ہوں؟کارروائی ریاست کرے، سیاسی ذمہ داری واضح ہو، صوبائی حکومت کو مکمل معلومات دی جائیں، اور کسی بھی سیاسی جماعت کو دہشت گردی کے خلاف تعاون کو اپنی سیاسی موت نہ سمجھنا پڑے
فی الحال صورتحال یہ ہے کہ حکومت سمجھتی ہے کہ پی ٹی آئی کے عدم تعاون سے دہشت گردی کے خلاف ریاستی پالیسی کمزور ہو رہی ہے، جبکہ پی ٹی آئی کو خدشہ ہے کہ مکمل تعاون اس کے اپنے صوبائی سیاسی ڈھانچے اور کارکنوں کو طالبان کے ممکنہ ردعمل کے سامنے کھڑا کر سکتا ہے،عمران خان کی قید اور ان تک رسائی کا مسئلہ اس تعطل کو مزید گہرا کر رہا ہے، جن سے ملاقات کے نتیجے میں ریاست کو مذید عدم سیاسی استحکام کا خدشہ ہے
یوں پاکستان اس وقت ایک ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف ریاست کو دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے لیے صوبائی تعاون درکار ہے اور دوسری طرف پی ٹی آئی کو اپنی سیاسی بقا کے لیے ایسے تعاون کی شرائط پر شدید تحفظات ہیں،دونوں فریق ایک دوسرے کو مسئلے کی جڑ سمجھ رہے ہیں، جبکہ اصل خطرہ یہ ہے کہ جب سیاست اور سکیورٹی کا یہ گٹھ جوڑ مزید سخت ہوگا تو خیبرپختونخوا میں کمزور ہوتی ریاستی رٹ کا فائدہ کسی سیاسی جماعت کو نہیں بلکہ مسلح گروہوں کو پہنچ سکتا ہے، تاہم اس نازک اور حساس صورت حال میں کچھ اہم اور مقتدرہ سے قریب تجزیہ نگار جنکے تحریک انصاف میں بھی اہم رابطے موجود ہیں انکا خیال ہے تحریک انصاف موجود حالات میں چاہتی ہے صوبے میں انکی حکومت ختم کرکے وفاق کنٹرول لیکر اپنی پالیسوں پر عمل کرسکتا ہے کہ تحریک انصاف صوبے میں حکومت میں رہ کر کسی طور بھی وہ قربانی نہیں دے سکتی جس کا تقاضا اس سے کیا جارہا ہے، یہ تجزیہ نگار کہتے ہیں تحریک انصاف جانتی ہے پانچ دس ہزار افراد کے ساتھ اگر اسلام آباد میں داخل ہونے بھی دیدیا جائے تب بھی وفاقی حکومت سے اپنے مطالبات نہیں منوائے جاسکتے تاہم لانگ مارچ کا تسلسل اور مرکز سے بڑھتی کشیدگی صوبے کی حکومت کے خاتمے میں منطقی کردار ادا کرے گا جس سے یہ تاثر جائے گا تحریک انصاف نے حکومت قربان کردی مگر اپنے موقف سے دستبرداری قبول نہیں کی ، اور اس صورت حال میں صوبے میں انکی نقل و حرکت محدود ہونے سے محفوظ ہوسکتی ہے





