Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اٹک سے پہلے یا اٹک پر بڑا واقعہ؟ لانگ مارچ، حکومت اور طاقت کے مراکز کے درمیان خطرناک ٹکراؤ کا خدشہ

اٹک سے پہلے یا اٹک پر بڑا واقعہ؟ لانگ مارچ، حکومت اور طاقت کے مراکز کے درمیان خطرناک ٹکراؤ کا خدشہ

اسلام آباد میں موجودسینئر اور نامور صحافتی تجزیہ کاروں نے تحریک انصاف کے لانگ مارچ کی موجودہ صورتحال، اس کے ممکنہ انجام اور حکومت کے مستقبل کے بارے میں پاکستان پوسٹ سے گفتگو میں آنے والے دنوں کے حوالے سے ایک انتہائی تشویشناک تصویر پیش کی ہے،تجزیہ کاروں کے مطابق اصل سوال یہ نہیں کہ لانگ مارچ اٹک پہنچے گا یا اٹک عبور کرے گا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اٹک سے پہلے یا اٹک پہنچنے پر کیا ہوتا ہے
تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں مذاکرات سے کسی قابل عمل سیاسی سمجھوتے کا راستہ نکلنے کے امکانات بہت کم دکھائی دیتے ہیں،ان کے مطابق اگر مذاکرات جنکے کل ایک بار پھر دوبارہ ہونے کا امکان ہے ،شروع ہوئے بھی تو فی الحال اس بات کے آثار نہیں کہ فریقین کے درمیان کوئی ایسا فارمولا سامنے آ سکے گا جس سے موجودہ تصادم ختم ہو،
ان کا بنیادی تجزیہ یہ تھا کہ ملک کے فیصلہ کن طاقت کے مراکز میں تحریک انصاف کے لیے ابھی تک وہ سیاسی گنجائش پیدا نہیں ہوئی جس کی بنیاد پر کوئی سمجھوتہ ممکن ہو سکے،تجزیہ کاروں کا خیال ہے اس وقت بنیادی مقصد لانگ مارچ کو کسی بھی صورت آگے بڑھنے سے روکنا دکھائی دیتا ہے، چاہے اس کے سیاسی نتائج کچھ بھی ہوں
ایک تجزیہ کار نے انتہائی تشویش کے ساتھ کہا کہ موجودہ صورتحال میں سب سے بڑا سوال یہ بن گیا ہے کہ تصادم اگر ہوا تو اس کی شدت کتنی ہوگی،ان کے مطابق اس وقت کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ آنے والے دنوں میں پیدا ہونے والا بحران کتنا بڑا ہوگا، لیکن حالات بتا رہے ہیں کہ کشیدگی کم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہے
حکومت کے مستقبل کے بارے میں پوچھے جانے پر تجزیہ کاروں نے کہا کہ حکومت اس پورے کھیل میں ختم بھی ہو سکتی ہے اور اگر فوری طور پر ختم نہ بھی ہوئی تو اس کے خاتمے کی راہ ضرور ہموار ہو سکتی ہے،ان کے مطابق حکومت کے لیے اصل خطرہ صرف لانگ مارچ نہیں بلکہ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا سیاسی اور انتظامی بحران ہے
پنجاب سے پولیس افسران اور نفری کے خیبر پختونخوا پہنچنے کی اطلاعات کے بارے میں ایک تجزیہ کار نے کہا کہ ان کے مطابق متعلقہ اہلکار اچانک وہاں نہیں پہنچے بلکہ گزشتہ دو سے تین ماہ سے وہاں موجود ہیں، جبکہ روٹین کی پوسٹنگ میں بھی ایک بڑی تعداد پہلے ہی پنجاب اور سندھ سے تعلق رکھتی ہے ،تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر تصادم کے نتیجے میں جانی نقصان ہوتا ہے اور لاشیں پنجاب واپس آتی ہیں تو اس کے سیاسی اثرات کیا ہوں گے، یہ ایک انتہائی اہم سوال ہے،تجزیہ کار نے ماضی کے تلخ واقعات، بلوچستان سے آنے والی لاشوں اور 1971 کے مشرقی پاکستان کے سانحے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی سطح پر ماضی میں بھی انسانی نقصان کو سیاسی فیصلوں کے راستے میں رکاوٹ نہیں بننے دیا گیا
اسلام آباد اور راولپنڈی کی موجودہ صورتحال کے بارے میں بھی تجزیہ کاروں نے ایک اہم نکتہ اٹھایا،ان کے مطابق دونوں شہروں کو اس وقت مکمل طور پر بند نہیں کیا گیا اور سڑکیں بظاہر کھلی ہیں، لیکن سڑکوں کے دونوں اطراف بڑی تعداد میں کنٹینرز اس انداز میں کھڑے کیے گئے ہیں کہ اگر لانگ مارچ شہر کے اندر داخل ہونے کی کوشش کرتا ہے تو انہیں صرف چند منٹوں یا گھنٹوں میں سڑکوں پر منتقل کرکے راستے بند کیے جا سکتے ہیں،یعنی بظاہر راستے کھلے ہیں، مگر انتظامیہ نے ممکنہ ناکہ بندی کا انتظام پہلے ہی کر رکھا ہے
موسم کے بارے میں پوچھے جانے پر تجزیہ کاروں نے کہا کہ اس وقت اسلام آباد کا موسم نسبتاً بہتر ہے، لیکن اگر لانگ مارچ اگلے منگل یا بدھ کو دارالحکومت کے قریب پہنچتا ہے، جیسا کہ بیرسٹر گوہر نے کہا ہے ، تو سردی کے باوجود درجہ حرارت بڑھ سکتا ہے ، جس کے دوران مظاہرین کی تعداد اور تصادم کا خطرہ کم ہونے کے بجائے بڑھ سکتا ہے،ان کے مطابق معاملہ اب محض ایک سیاسی احتجاج نہیں رہا بلکہ ایک ایسی کشیدگی میں تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے جس میں ہر اگلا قدم پہلے سے زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے
تحریک انصاف کے اندر قیادت کی تبدیلی کے سوال پرتجزیہ کاروں نے سہیل آفریدی کو نمایاں قرار دیا،ان کے مطابق عمران خان کے بعد موجودہ صورتحال میں سہیل آفریدی سب سے نمایاں انداز میں قیادت کرتے دکھائی دے رہے ہیں جبکہ امین گنڈاپور سیاسی طور پر تقریباً منظر سے ہٹ چکے ہیں،ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی نوجوان ہیں اور ممکنہ طور پر طویل سیاسی سفر ان کے سامنے ہے،ان کے بقول یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف کے اندر انہیں عمران خان کے بعد ایک ممکنہ متبادل قیادت کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے
گورنر راج کے امکانات کے بارے میں بھی تجزیہ کاروں نے سخت سوال اٹھائے،ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنا کاغذ پر جتنا آسان دکھائی دیتا ہے، عملی طور پر اتنا ہی مشکل ہو سکتا ہے،ان کے مطابق اگر گورنر اپنی ہی موجودگی والے شہر میں سیاسی طور پر آزادانہ نقل و حرکت نہ کر سکے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ پورے صوبے میں گورنر راج کو کس حد تک مؤثر طریقے سے نافذ اور کنٹرول کر سکے گا
تجزیہ کاروں نے خیبر پختونخوا کے انتظامی ڈھانچے میں ایک اور پہلو کی طرف بھی توجہ دلائی،ان کے مطابق سیاسی سطح پر صوبائی حکومت اپنی جگہ موجود ہے، لیکن نچلی سطح کی بیوروکریسی اور انتظامی مشینری پر وفاقی اثر و رسوخ کا معاملہ ایک الگ حقیقت ہے،ان کا کہنا تھا کہ اصل سوال یہ ہے کہ عملی انتظامی احکامات کہاں سے آ رہے ہیں اور انہیں نافذ کون کر رہا ہے
اسلام آباد میں ہونے والی ان گفتگو کا مجموعی تاثر یہ تھا کہ آنے والے چند دن پاکستان کی سیاست کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں،لانگ مارچ اٹک تک پہنچتا ہے یا نہیں، اس سے پہلے کوئی بڑا واقعہ رونما ہوتا ہے یا اٹک پر پہنچ کر تصادم ہوتا ہے، یہ ابھی کسی کے لیے یقینی طور پر کہنا ممکن نہیں،لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ سیاسی اختلاف ایک ایسے تصادم میں تبدیل نہ ہو جائے جس کے نتائج پھر کسی ایک فریق کے کنٹرول میں نہ رہیں
ان میں سے ایک سینئر تجزیہ کار نے گفتگو کے اختتام پر ایک جملہ کہا جو موجودہ صورتحال کی سنگینی کو پوری طرح سمیٹ دیتا ہے: دعا کریں کہ تصادم کا پیمانہ بڑا نہ ہو
یہی شاید اس وقت پاکستان کے لیے سب سے بڑا سوال بھی یہی ہے کہ سیاسی اختلاف اور طاقت کا مقابلہ کسی ایسے مقام تک نہ پہنچ جائے جہاں واپسی کا راستہ سب کے لیے مشکل ہو جائے

قومی خبریں سے مزید