Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

سیٹلائٹ تصاویر نے غزہ میں تباہی کی ایسی تصویر دکھا دی جس نے پورے شہر مٹا دیے

سیٹلائٹ تصاویر نے غزہ میں تباہی کی ایسی تصویر دکھا دی جس نے پورے شہر مٹا دیے

غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے تقریباً تین سال بعد سیٹلائٹ تصاویر نے جنوبی غزہ کی تباہی کی انتہائی واضح تصویر دکھائ ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق کبھی تقریباً ڈھائی لاکھ آبادی رکھنے والا شہر رفح اب بڑے پیمانے پر ملبے میں تبدیل ہو چکا ہے،اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران شہر کے بڑے حصے کو منظم انداز میں مسمار کیا گیا اور بعض علاقوں میں ملبہ بھی ہٹا دیا گیا
اے پی کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ رفح کے علاوہ غزہ کے متعدد دیگر شہروں اور آبادیوں کے بڑے حصے بھی زمین بوس کیے گئے ہیں؟عمارتوں کی مسماری بلڈوزروں اور دھماکا خیز مواد کے ذریعے کی گئی اور یہ عمل اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے ایک سال بعد بھی جاری رہا؟رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج اس وقت غزہ کے 60 فیصد سے زیادہ علاقے پر کنٹرول رکھتی ہے
یہ تباہی 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد شروع ہونے والی اسرائیلی فوجی مہم کے نتیجے میں سامنے آئی ہے؟تقریباً 2 ملین فلسطینیوں پر مشتمل غزہ کی آبادی پہلے ہی بڑے پیمانے پر نقل مکانی، ہلاکتوں، زخمیوں اور گھروں کی تباہی کا سامنا کر چکی ہے
اے پی کے مطابق غزہ کی جنگ سے پہلے کی آبادی کا ہر 10 میں سے ایک سے زیادہ شخص اسرائیلی فائرنگ میں ہلاک یا زخمی ہو چکا ہے،تقریباً ہر خاندان کسی نہ کسی عزیز کی موت کا سوگ منا رہا ہے یا زخمی افراد کی دیکھ بھال کر رہا ہے، جبکہ بیشتر فلسطینی خاندان لڑائی اور اسرائیلی انخلا کے احکامات کے باعث کئی مرتبہ اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے
رفح کی تباہی اس جنگ کے ایک ایسے پہلو کو نمایاں کرتی ہے جو صرف ہلاکتوں کے اعداد و شمار سے ظاہر نہیں ہوتا؟سیٹلائٹ تصاویر بتاتی ہیں کہ غزہ میں کئی علاقوں کی تباہی اب صرف عمارتوں کے نقصان تک محدود نہیں رہی بلکہ بعض مقامات پر پورے شہری علاقوں کا نقشہ ہی تبدیل ہو چکا ہے

قومی خبریں سے مزید